عمران نزار حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمران نزار حسین
Imran Nazar Hosein Eid lecture 2005.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1942 (عمر 76–77 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ٹرینیڈاڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Trinidad and Tobago.svg ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل قیامت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

شیخ عمران نذر حسین، اسلامی آخرت شناسی، عالمی سیاست، معیشت اور جدید سیاسی / سماجی و اقتصادی مسائل میں مہارت رکھنے والے ایک اسلامی سکالر، مصنف اور فلسفی ہیں۔ وہ "قرآن میں یروشلم" نامی کتاب کے مصنف ہیں۔[2][3][4][5] عمران نذار حسین کے آباء و اجداد نے بھارت سے گرمٹیا مزدوروں کے طور پر ہجرت کی تھی۔ وہ 1942ء کو ٹرینیڈاڈ کیریبین جزائر میں پیدا ہوئے۔ وہ جامعہ علیمیہ اسلامیہ کراچی کے گریجویٹ ہیں اور انہوں نے کراچی یونیورسٹی، ویسٹ انڈیز کی یونیورسٹی، الازہر یونیورسٹی اور سوئٹزرلینڈ میں بین الاقوامی تعلقات کے گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ سمیت اعلی تعلیم کے کئی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ وہ اکثر اپنی کتابوں میں اپنے استاد ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری کا ذکر کرتے ہیں جو جامعہ علیمیہ اسلامیہ کراچی کے بانی تھے۔

خدمات[ترمیم]

انہوں نے ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی حکومت کی وزارت خارجہ میں فارن سروس آفیسر کے طور پر کئی سال کے لیے کام کیا ہے لیکن انہوں نے اسلامی مشن کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے 1985ء میں ملازمت چھوڑ دی۔ انہوں نے گریٹر نیویارک کی مسلم تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی کے اسلامک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں، وہ تب دس سال کے لیے نیو یارک میں رہے۔ انہوں نے کئی امریکی اور کینیڈین یونیورسٹیوں، کالجوں، گرجا گھروں، کنیساؤں، جیلوں، کمیونٹی ہال میں اسلامی موضوعات پر لیکچر دیے۔ عمران حسین نے امریکا میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے بہت سے بین المذاہب مکالموں میں مسیحی اور یہودی علما کے ساتھ شرکت کی۔ وہ لانگ آئلینڈ، نیو یارک میں مسجددار القرآن میں کچھ وقت کے لیے پیش امام رہے۔ وہاں جمعہ نماز بھی پڑھاتے رہے اور مسلسل دس سال تک مین ہیٹن میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ماہانہ خطاب دیتے رہے۔ انہوں نے 29 سال کی عمر میں 1971ء میں جامعہ علیمیہ اسلامیہ کراچی سے گریجویشن کے بعد اسلام کی تبلیغ کے لیے دنیا بھر میں مسلسل اور بڑے پیمانے پر سفر کیا اور انہوں نے اسلام کے بارے میں ایک درجن سے زائد کتب لکھی ہیں۔ وہ اسلامک اسٹڈیز کے علیمیہ انسٹی ٹیوٹ کے سابق پرنسپل، ورلڈ مسلم کانگریس کراچی پاکستان کی تحقیق کے ڈائریکٹر، میں اسلامی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹ میامی، فلوریڈا میں تحقیق کے ڈائریکٹر، شمالی امریکا کی تنظیم اسلامی کی دعوت کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں [6][7]

تصانیف[ترمیم]

  • قرآن میں یروشلم
  • جدید دور میں یاجوج ماجوج پر اسلامی نکتہ نظر
  • اسلام اور کرنسی کا مستقبل - سونے کے دینار اور چاندی درہم
  • جارج برنارڈ شا اور اسلامی عالم(جارج برنارڈ شا اور اسلامی عالم)
  • جدید دنیا میں اسلام اور بدھ مت
  • خلافت، حجاز اور سعودی وہابی قومی ریاست
  • سورۃ الکھف اور جدید دور
  • سورہ کہف - عربی متن - ترجمہ اور جدید تفسیر
  • قرآن اور سنت میں سود کی حرمت

عمران حسین کی مصنفہ کتب کی تفصیل جاننے کے لیے اس لنک کو دیکھیں here

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb16657240j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. "Islamic centre the voice for poor Muslims in the world, says scholar | The Brunei Times"۔ bt.com.bn۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-11۔
  3. ".:Plata:."۔ plata.com.mx۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-11۔
  4. "EGYPT - MALAYSIA Sheikh Imran Nazar Hosein: The referendum and the Constitution in Egypt are an insult to Islam - Asia News"۔ asianews.it۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-11۔
  5. "Online edition of Sunday Observer - Business"۔ sundayobserver.lk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-11۔
  6. "About Imran N Hosein"۔ imranhosein.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-11۔
  7. Short Biography Sheikh Imran Hosein یوٹیوب پر

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]