عمرو بن جموح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عمرو بن الجموح سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عمرو بن جموح
(عربی میں: عمرو بن الجموح ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عمرو ابن جموح
پیدائش دہائی 540  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
يثرب
وفات 23 مارچ 625  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
احد
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ہند بنت عمرو بن حرام
اولاد معاذ، معوذ، خلاد، عبد الرحمن، ہند
والد جموح بن زيد بن حرام بن كعب[1]
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب سلمی الانصاری
پیشہ فوجی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ احد

عمرو بن الجموحاصحاب بدر میں سے ہیں[2] بنی سلمہ کے سردار تھے اور آپ کا شمار اس وقت کے سخی اور بہادر لوگوں میں ہوتا تھا۔

نام ونسب[ترمیم]

عمرو نام،قبیلۂ خزرج کے خاندان سلمہ سے ہیں سلسلۂ نسب یہ ہے،عمرو بن جموح بن زید بن زید بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ بنوسلمہ کے رئیس تھے ،اس کے علاوہ مذہبی عزت بھی حاصل تھی، یعنی بت خانے کے متولی تھے۔ عمرو بن جموح کو زمانہ جاہلیت میں یثرب کا ایک عظیم رہنما مانا جاتاتھا۔ رسول اللہ نے بھی انہیں جد بن قیس کے مقابلے میں سردار مقرر کیا یہ انصار میں سب سے آخر اسلام لائے۔ یہ مدینہ منورہ کے رہنے والے انصاری ہیں اور جابرکے پھوپھا ہیں۔

غزوات[ترمیم]

غزوۂ بدر کی شرکت میں اختلاف ہے،لیکن صحیح یہ ہے کہ شریک نہ تھے چونکہ پیر میں چوٹ آگئی تھی، اورلنگڑاکر چلتے تھے،اس لیے جب غزوہ کے لیے جانا چاہا تو بچوں نے آنحضرتﷺ کے حکم سے منع کیا کہ ایسی صورت میں جہاد فرض نہیں۔ غزوۂ احد میں بھی یہی واقعہ پیش آیا، بولے کہ تم لوگوں نے مجھ کو بدر جانے سے روکا اب پھر روک رہے ہو، لیکن میں ضرور جاؤں گا،بیٹوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر کی، آنحضرتﷺ نے بلاکر سمجھا یا، کہ تم معذور ہو، اس لیے سرے سے مکلف ہی نہیں لیکن وہاں شہادت کا سودا سوار تھا، عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! یہ لڑکے مجھ کو آپ کے ساتھ چلنے سے روک رہے ہیں،لیکن خدا کی قسم مجھے یہ امید ہے کہ میں اسی لنگڑے پیر سے جنت میں گھسیٹتا ہوا پہنچوں گا، آنحضرتﷺ نے یہ سن کر زیادہ زور دینا پسند نہیں کیا اورلڑکوں کو سمجھا یا کہ اب ا صرار نہ کرو، شائدان کی قسمت میں شہادت ہی لکھی ہو۔[3]

شہادت[ترمیم]

لڑائی کی شدت کے وقت جب مسلمان منتشر ہونے لگے، عمرونے اپنے بیٹے خلاد کو لے کر مشرکین پر حملہ کیا اوراس قدر پامردی سے لڑے کہ دونوں باپ بیٹوں نے شہادت پائی اور عمرو اپنے لنگڑے پیر کے ساتھ جنت میں لنگڑاتے ہوئے پہنچ گئے۔ آنحضرتﷺ ان کی طرف سے گزرے تو دیکھا کہ شہید پڑے ہوئے ہیں فرمایا خدا اپنے بعض بندوں کی قسم پوری کرتا ہے، عمروبھی انہی میں ہیں اورمیں ان کو جنت میں اسی لنگڑے پاؤں کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ لڑائی ختم ہوجانے کے بعد جب عمروبن جموح کی بیوی ہند میدان جنگ میں گئیں تو ان کی لاش کو اونٹ پر لاد کر دفن کرنے کے لیے مدینہ منورہ لاناچاہا تو ہزاروں کوششوں کے باوجود وہ اونٹ مدینہ کی طرف نہیں چلا بلکہ وہ میدان جنگ ہی کی طرف بھاگ بھاگ کر جاتا رہا۔ ہند نے جب درباررسالت میں یہ ماجراعرض کیاتو آپ نے فرمایا کہ کیا عمرو بن جموح نے گھر سے نکلتے وقت کچھ کہا تھا؟ ہند نے عرض کیا کہ جی ہاں !وہ یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے : اَللّٰھُمَّ لَا تَرُدَّنِیْ اِلٰی اَھْلِیْ (اے اللہ !عزوجل مجھ کو میدان جنگ سے اپنے اہل و عیال میں واپس آنا نصیب مت کر)آپ نے ارشادفرمایا کہ یہی و جہ ہے کہ اونٹ مدینہ منورہ کی طرف نہیں چل رہا ہے لہٰذا تم ان کو مدینہ لے جانے کی کوشش مت کرو۔ ۔[3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سير أعلام النبلاء» الصحابة رضوان الله عليهم» عمرو بن الجموح
  2. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  3. ^ ا ب مدارج النبوت، قسم سوم، کارزا رہائے
  4. اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 687 حصہ ہفتم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور