عمرو بن عوف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عمرو بن عوف مُزنیقدیم الاسلام صحابی رسول اوراصحاب صفہ میں شامل ہیں حافظ ابوعبداللہ نیساپوری اور علامہ ابونعیم اصبہانی نے عمرو بن عوف کواصحابِ صفہ میں شمار کیا ہے ۔[1] نام عمرو، والد کانام عوف، کنیت ابوعبداللہ، قبیلہ مزینہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ عمرو بن عوف بہت زیادہ تضرع ، گریہ وزاری کرنے والے ، خوفِ خداسے آہ و بکا کرنے والے ہیں ،اس آیت ’’ تولوا واعینہم تفیض من الدمع‘‘ (لوگ ناکام اس حالت سے واپس چلے جاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسورواں ہوتے ہیں ۔ کے مصداق حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔[2] عمرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے ، خود ہی بیان فرماتے ہیں : ہم نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ آئے اور 17؍ مہینے تک بیت المقدس کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے رہے ۔ علامہ واقدی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو کو حرمِ مدینہ منورہ کا خلیفہ بنایا تھا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ مدینہ منورہ میں اپنا خلیفہ وجانشیں بنا کرہی غزوے میں تشریف لے جاتے تھے ۔ علامہ ابن سعد کہتے ہیں : عمرو بن عوف کی حدیث ان کے پوتے کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف اپنے دادا عمرو بن عوف سے روایت کرتے ہیں اور کثیر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں ۔ ان کا انتقال امیر معاویہ کے عہدِ خلافت میں ہوا۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حلیۃ الأولیاء: 2/10
  2. تہذیب التہذیب : 8/69
  3. ، الإصابۃ : 3/6