عمر عقاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمر عقاد
(عربی میں: عمر عبد الفتاح أحمد العقاد خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 20 اپریل 1927  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یافا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 فروری 2018 (91 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کینیڈا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
Flag of Palestine.svg دولت فلسطین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن ملی مجلس فلسطین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
اولاد طارق عقاد،  ورنا[1]،  ولمی[1]،  وطلال[1]،  وطلال[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ مانچسٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تخصص تعلیم برقی ہندسیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تخصیصِ اکادمی (P812) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد بیچلر،  واعزازی سند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ کاروباری شخصیت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

عمر عقاد (20 اپریل 1927[2] – 1 فروری 2018ء) (عربی: عمر العقاد) ایک فلسطینی کاروباری شخصیت تھے،[3] جو عقاد انویسٹمنٹ کمپنی (اے آئی سی او) اور عرب فلسطین انویسٹمنٹ کمپنی (اے پی آئی سی) کے بانی تھے۔[4]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عقاد کی پیدائش 1927ء میں یافا، انتداب فلسطین میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم الرشیدیہ اسکول، یروشلم میں پائی۔ اس کے بعد جامعہ مانچسٹر، برطانیہ سے الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئری کی سند لی۔

پیشہ وارانہ زندگی[ترمیم]

برطانیہ میں چند سال تک کام کرنے کے بعد، وہ 1950ء میں سعودی عرب منتقل ہو گئے جہاں وہ جفلی گروپ میں ایک سینئر مینیجر کے طور پر کام کرنے لگے۔ 1975ء میں، وہ اس سے الگ ہو گئے اور اپنا کا انوسٹمنٹ کی کاروباری کمپنی قائم کی جو جلد ہی سعودی عرب کی معروف کمپنی بن گئی۔ انہوں نے سعودی عرب میں 40 سے زائد صنعتی اور کاروباری ادارے قائم کیے۔ جن میں سے اکثر اب بھی موجود ہیں۔

انھوں نے 1975ء میں العقاد سرمایہ کاری کمپنی (اے آئی سی او) کی بنیاد رکھی تھی[4] اور وہ عرب فلسطینی سرمایہ کاری کمپنی (اے پی آئی سی) کے بانی اور سابق صدر بھی تھے۔[4] انھوں نے سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کی قیادت کی جس نے 1982ء میں سمتھ بارنی (کمپنی) کا 25 فی صد حصہ خریدہ اور اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خدمات انجام دیں۔[5]

دا وال سٹریٹ جنرل نے عقاد کے بارے لکھا تھا کہ وہ سعودی عرب کے سب سے زیادہ سوجھ بوجھ اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والا منیجر تھا۔ عرب تاجروں کے بارے میں ایک کتاب میں، برطانوی مصنف مائیکل فیلڈز نے عقاد کو جرات مند اور عمل پسند، تفضیلات کا ادراک کرنے والا اور ایک وجدانی فیصلہ لینے والا عظیم دماغ کہہ کر یاد کیا۔" دیگر سعودی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کے طور پر العقاد نے سعودی عرب بھر میں مختلف مقامات پر 23 مینوفیکچرنگ پلانٹس تیار کیے۔[6]

ذاتی زندگی[ترمیم]

انھوں نے ملک عقاد سے شادی کی، جس سے چار بچے طارق عقاد، رنا، لمی اور طلال پیدا ہوئے۔ طلال عقاد خاندانی کمپنی اے آئی سی او کا چیئرمین ہے جب کہ طارق عقاد اے پی آئی سی کا سی ای او ہے۔

وفات[ترمیم]

عمر عقاد کی وفات یکم فروری 2018ء کو 90 برس کی عمر میں ہوئی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://en.wikipedia.org/wiki/Omar_Aggad
  2. [1]
  3. ^ ا ب "death of Omar Aggad"۔ Mann news agency۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 فروری 2018۔
  4. ^ ا ب پ "Aico.com"۔ Aico.com.sa۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2016۔
  5. "ARABS BUY 25% OF FIRM ON WALL ST. - NYTimes.com"۔ nytimes.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 ستمبر 2016۔
  6. Gerald Seib (1986)۔ Facing the Recession In Saudi Arabia Taxes A Businessman’s Skills; Omar Aggad Slashes Costs, Ponders Diversification (اشاعت 1st۔)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2016۔