مندرجات کا رخ کریں

عمیر بن ولید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عمیر بن ولید
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 829ء   ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات لڑائی میں ہلاک   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت دولت عباسیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ والی   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عمیر بن ولید تمیمی عباسی دور کا ایک گورنر تھا، [1] جو 214ھ/829ء میں مصر کا گورنر مقرر ہوا۔ اسے صرف 60 دن بعد اس وقت قتل کر دیا گیا جب مشرقی الحوف کے قبائل نے خراج (ٹیکس) کی ادائیگی سے انکار کرتے ہوئے بغاوت کر دی۔

سوانح حیات

[ترمیم]

عمیر کو اتوار 19 صفر 214ھ (اپریل 829ء) کو خلیفہ ابو اسحاق المعتصم باللہ نے نماز اور خراج دونوں امور کی ذمہ داری کے ساتھ مصر کا گورنر مقرر کیا۔ یہ تقرری اس وقت ہوئی جب اس کے پیشرو، عیسیٰ بن یزید جلودی ، مشرقی حوف کی عرب قبائل کی بغاوت کو دبانے میں ناکام رہا۔

عمیر نے پولیس (شُرطہ) کی کمان اپنے بیٹے محمد کے سپرد کی، جس نے ایک شخص، سلیل بن ربیعہ، کو اپنا نائب مقرر کیا۔ عمیر نے حوف میں بغاوت کو دبانے کے لیے فوری تیاری شروع کر دی اور قبیلہ قیس اور یمانی قبائل سے مذاکرات کے لیے عبد اللہ بن حلیس ہلالی کو بھیجا، مگر ان قبائل نے اطاعت سے انکار کر دیا۔.[2]

اس کے بعد عمیر نے لشکر لے کر ان کی طرف پیش قدمی کی، اس کے ہمراہ سابق گورنر عیسیٰ بن یزید جلودی بھی تھا۔ عمیر منگل 16 ربیع الاول 214ھ کو فسطاط (قاہرہ) سے روانہ ہوا اور اس نے فسطاط پر اپنے بیٹے محمد کو، یمانی قبائل پر عبد السلام بن ابی ماضی کو اور قیس قبیلہ پر عبد اللہ بن حلیس ہلالی کو نگراں مقرر کیا۔

فریقین کی ملاقات "منیہ مال اللہ" نامی مقام پر ہوئی، جہاں شدید جنگ کے بعد اہلِ حوف کے بہت سے افراد مارے گئے اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ عمیر نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ان کا تعاقب کیا، مگر ایک چھپے ہوئے حملے (کمین گاہ) میں پھنس گیا۔ بغاوت کرنے والوں نے منگل 13 ربیع الآخر 214ھ کو "یہودیہ" کے مقام پر اسے قتل کر دیا۔ قاتل کا نام مبارک اسود تھا، جو حمید بن کوثر حراشی کا غلام تھا۔[3] [4]

عمیر کے قتل کے بعد، اس کا بیٹا محمد بن عمیر ایک ماہ کے لیے قائم مقام گورنر رہا، پھر المعتصم باللہ نے عیسیٰ بن یزید جلودی کو دوبارہ مصر کا گورنر مقرر کیا۔[3]

مرثیے

[ترمیم]

عمیر کی وفات پر کئی مرثیے کہے گئے، جن میں سے دو مشہور اشعار یہاں پیش کیے جاتے ہیں: حبیب بن اوس طائی (المعروف بمتنبّی):

أَلَا رُزِئَتْ خُرَاسَانٌ فَتَاهَا
غَدَاةَ ثَوَى عُمَيْرُ بْنُ الوَليدِ
فَيَا يَوْمَ الثَّلَاثَا كَمْ كَئِيبٍ
رَمَاهُ الحزْنُ فِيكَ وَكَمْ عَمِيدِ
فَكَمْ سَخَّنْتَ فِينَا مِنْ عُيُونٍ
وَكَمْ أَعْبَرْتَ فِينَا مِنْ خُدُودِ
فَمَا زُجِرَتْ طُيُورُكَ عَنْ سَنِيحٍ
وَلَا طَلَعَتْ نُجُومُكَ بِالسُّعُودِ

ترجمہ: اے خراسان! تیرے نوجوان (سپاہی) کا نقصان ہو گیا جس دن عمیر بن الولید دفن ہوا اے منگل کا دن! تُو کتنے غمگینوں پر بھاری گذرا کتنے دلوں کو تُو نے زخمی کیا تُو نے ہماری کتنی آنکھوں سے آنسو بہا دیے اور ہمارے گالوں کو آنسوؤں سے تر کر دیا تیرے پرندے خوشی سے نہ چہچہا سکے اور نہ تیرے ستارے خوش نصیبی سے طلوع ہوئے

سعید بن عفیر:
سَاقَتْ عُمَيْرَ إِلَى مَصر مَنِيَّتُهُ
بِإِمْرَةٍ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِمَسْعُودِ
حَتَّى أَتَتْهُ المَنَايَا وَهْوَ مُلْتَحِفٌ
ثَوْبَيْنِ مِنْ حِبَرَاتِ البَأْسِ وَالجُودِ
فَاذْهَبْ حَمِيدًا فَلَا تَبْعَدْ فكُلُّ فَتًى
يَوْمًا وإِنْ كُرِيَتْ أَفْعَالُهُ يُودِي

ترجمہ: عمیر کو مصر لائی اس کی تقدیر ایسے عہدے کے لیے، جو اس کے لیے خوش قسمت ثابت نہ ہوا یہاں تک کہ موت آ پہنچی، جب وہ لپٹا ہوا تھا بہادری اور سخاوت کے رنگین کپڑوں میں جاؤ، عزت کے ساتھ جاؤ، دور نہ ہو کیونکہ ہر جوان، خواہ اس کے اعمال کتنے ہی بُرے ہوں، ایک دن مر ہی جاتا ہے ۔[4]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Ibn Taghribirdi 1930
  2. Al-Kindi 1912; Ibn Taghribirdi 1930; Al-Ya'qubi 1883
  3. 1 2 ابو عمر کندی (2003)، «الولاة» و «القضاة» (بزبان عربی)، بیروت: دار الکتب علمیہ، ص 139، QID: Q120648105 بذریعہ المكتبة الشاملة
  4. 1 2 ابو عمر کندی (2003)، «الولاة» و «القضاة» (بزبان عربی)، بیروت: دار الکتب علمیہ، ص 140، QID: Q120648105 بذریعہ المكتبة الشاملة

کتابیات

[ترمیم]