عنایت اللہ فیضی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عنایت اللہ فیضی(تمغا امتیاز)
فیضی.jpg
پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
پیدائش 14 اگست 1952 (1952-08-14)بالیم، لاسپور، ضلع چترال، سرحد، پاکستان
سکونت چترال
شہریت پاکستان
قومیت پاکستانی
میدان علم الآثار، تاریخ، لسانیات
ادارے ڈگری کالج چترال
جامعہ علامہ اقبال
جامعہ پشاور
IUCN Chitral
اہم انعامات تمغا امتیاز

پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی (14 اگست، 1952ء ) پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مفکر، مؤرخ، ماہر لسانیات، ادیب، شاعر، اور کالم نگار ہیں۔آپ کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی تحصیل مستوج کے لاسپور بالیم سے ہے، آپ روزنامہ مشرق پشاور، روزنامہ آج پشاور، اور اخبارات، رسایل، جراید میں کالم اور مضامیں لکھتے ہیں، فی الحال گورنمنٹ ڈگری کالج چترال میں اردو کے پروفیسر ہیں، کھوار اور اردو زبان میں شاعری کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی میں آرٹیکل بھی لکھتے ہیں، اس وقت ضلع چترال کے ژوغور میں مقیم ہیں-

سوانحی خاکہ[ترمیم]

عنایت اللہ فیضی14 اگست 1952ء کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی وادی لاسپور کے بالیم میں مولانا محمد اشرف کے گھر میں آنکھ کھولی۔ چترال کے ہائیاسکول سے 1970ء میں میٹرک پاس کیا ۔ پشاور یونیورسٹی سے[1] ایم اے اردو 1978ءایم اسلامیات 1980ایم فل 1987 اور پی ایچ ڈی 1992ء کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ 1976تا1982ء وزارت اطلاعات حکومت پاکستان میں انفارمیشن افیسر اور سب ایڈیٹر جمہور اسلام کھوار کی حیثیتہ سے خدمات انجام دیں ۔1982ء میں محکمہ تعلیم صوبہ خیبر پختونخوا میں لیکچررشپ حاصل کی ۔ 1978تا 1983ء انجمن ترقی کھوار چترال کےجنرل سکریٹری رہے ۔ 1983تا 1990 ، اس کے بعد 1992تا 1995 انجمن ترقی کھوار چترال کے صدر رہے ۔ آپ کی شائع شدہ کتابوں میں واخان ، چین بہ جبین ، کھوار اردو بول چال شامل ہیں ۔ ” چترال اک تعارف “ نامی کتاب میں شریک مصنف کی حیثیت سے کام کیا ۔ 32تحقیقی مقالہ جات شایع ہوچکے ہیں 18مقالے لکھ کر ملکی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں پیش کیے ۔ 1994 کے بعد اردو اخبار روزنامہ آج اور روزنامہ مشرق پشاور ” میں داد بیداد “ کے عنوان سےہ کالم لکھتے ہیں۔ علمی ، ادبی اور ثقافتی سلسلے میں سیمینار اور کانفرنسوں میں حصہ لینے کے لیے، عوامی جمہوریہ چین ، جرمنی ، برطانیہ، ایران اور نیپال کا دورہ کیا ہے ۔ غیر مطبوعہ کتابوں کی تعداد 9ہے۔ ان کتابوں میں چار کتابیں کالموں کے مجموعے، دو کتابیں شخصیات کا تذکرہ، ایک کتاب شعری مجموعہ، دو سفرنامے شامل ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی چترالی الاصل ہیں۔ وہ 14 اگست 1952ء کو بالیم، ڑاسپور، چترال میں پیدا ہوئے[2]۔ انہوں نے جامعہ پشاور سے پی ایچ ڈی کیا۔ وہ اس ادارے سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے والے پہلے چترالی طالبِ علم ہیں۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی اور پہلے ڈگری کالج چترال اور اُس کے بعد انٹر کالج بونی میں اردو کے استاد رہے اور آیی یو سی این چترال میں بھی کچھ عرصہ خدمات انجام دیں۔

اعزاز کے لیے نامزدگی[ترمیم]

زبان و ادب میں اُن کی بے حد دلچسپی اور خدمات کے پیشِ نظر انھیں تمغا حسن کارکردگی عطا کرنے کے لیے کھوار اکیڈمی نے حکومت پاکستان سے بھر پور سفارش کی ہے اور صدر پاکستان کے نام خط میں آپ کی شخصیت و فن اور خدمات کا ذکر کیا گیا ہے، اپنی کالموں کے ذریعے ماحول کو صاف رکھنے اور ماحولی تعلیم کو عام کرنے اور لوگوں میں شعور بیدار کرنے پر ایک بین الاقوامی تنظیم انٹر نیشنل یونین فار کنزویشن اینڈ نیچر نے آپ کو آیی یو سی این چترال کا پراجیکٹ منیجر بناکر چترال میں متعین کردیا۔ تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل ہی میں فیضی نے محسوس کر لیا تھا کہ کھوار اور دیگر چترالی زبانوں کے بارے میں معلومات کو عوام اور دنیا بھر کے ماہرین لسانیات تک پہنچانے کے لیے انھوں نے انگریزی، اردو اور کھوار میں مضامین لکھے اور چترال کی ادبی انجمنوں کو فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ چنانچہ فیضی کی کوششوں سے چترال قلم قبیلہ، انجمن فروع اردو، کھوار قلم قبیلہ اور حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد رکھی گیی۔ کچھ عرصہ بعد جب انھیں انجمن ترقی کھوار چترال کا صدر مقرر کیا گیا تو انھوں نے کھوار میں بے شمار کتابیں شایع کیں جو آج بھی ماہرین لسانیات کے لیے ماخذ کا کام دیتی ہیں۔

غیر ملکی دورے[ترمیم]

ڈاکٹر فیضی نے ادبی اور تعلیمی سلسے میں عوامی جمہوریہ چین ، جرمنی ، برطانیہ، ایران اور نیپال کے دورے کیے اور سن ستر کی دہائی میں انھیں انگلستان اور امریکا کے مطالعاتی دوروں کا موقع مِلا۔

اعزازات[ترمیم]

پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کو انکي اعلٰي ترين علمي، ادبی، سماجی، ثقافتی اور صحافتی خدمات کے صلے ميں ایوارڈ عطا کرنے کے لیے ایک ادبی تنظیم کھوار اکیڈمی نے صدر پاکستان کے نام مکتوب میں تمغا حسن کارکردگی، ستارہ امتياز اور ہلال امتياز کے لیے بھر پور سفارش کی ہے۔ چودہ اگست 2011 کو صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کو ادب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں تمغہء امتیاز سے نوازا-

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فیضی ایم اے۔ MA۔
  2. فیضی سوانح حیات۔ عنایت۔ تاریخ 14 اگست 1992۔