عنایت خان (مؤرخ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عنایت خان (مؤرخ)
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1628  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1671 (42–43 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کشمیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عنایت خان (پیدائش: 1628ء– وفات: 1666ء)مغل مؤرخ تھا جسے مغل دربار کی طرف سے شاہی مؤرخ کا منصب عطا ہوا تھا۔ عنایت خان کی مشہور تصنیف شاہجہاں نامہ ہے جو مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے عہد کی ایک مکمل تاریخ ہے۔

خاندان[ترمیم]

عنایت خان کا اصل نام محمد طاہر تھا اور شاعری میں تخلص آشنا تھا۔ عنایت خان کے والد ظفر خان بن خواجہ ابو الحسن تھے۔ ظفر خان مغل شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں وزیر کے عہدہ پر فائز تھے۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے عہدِ حکومت میں اُنہیں ایک بار کابل کا صوبیدار بنا کر بھیجا گیا تھا اور بعد ازاں کشمیر کا صوبیدار مقرر کر دیا گیا۔ مغل حکومت کے تبت سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے میں ظفر خان کا نمایاں ہاتھ تھا۔ شاہ جہاں نے بعد میں اُنہیں ٹھٹہ کا صوبیدار مقرر کیا۔ ظفر خان بہترین فارسی شاعر بھی تھے۔ عنایت خان کے دادا سیف خان آگرہ کے مغل صوبیدار تھے اور جب 1641ء میں شاہ شجاع (مغل شہزادہ) کو کو بنگال کی عملداری و صوبیداری تفویض کی گئی تو سیف خان کو شہزادہ شجاع کی بنگال میں آمد سے قبل روانہ کر دیا گیا تھا تاکہ وہ وہاں جاکر انتظامات کو درست کرسکیں۔

پیدائش و منصب داری[ترمیم]

عنایت خان کی پیدائش اُسی سال ہوئی جس سال مغل شہنشاہ شاہ جہاں برسر تخت آیا۔ اِس لحاظ سے عنایت خان کا سال پیدائش 1037ھ/ 1628ء معلوم ہوتا ہے۔ 7 سال کی عمر میں عنایت خان کو سرکاری منصب کی سپردگی کے بعد کشمیر بھیج دیا گیا تاکہ وہ وہاں اپنے والد ظفر خان کی معیت میں بہتر پرورش پاسکیں۔ کشمیر میں عنایت خان کو داروغہ کا منصب عطا ہوا۔ بعد ازاں کشمیر کے شاہی کتب خانہ کی نگہبانی بھی عنایت خان کے سپرد کردی گئی۔

زندگی کے آخری سال[ترمیم]

عنایت خان نے بہترین انشاء پردازی وراثت میں پائی۔ آداب و رہن سہن کے بہترین اُصولوں سے واقف تھے جن کا اُن کی تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ عنایت خان شہنشاہ شاہ جہاں کے قریبی دوستوں اور اقرباء میں شمار کیے جاتے تھے۔ اواخر عمر میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی معزولی کے عینی شاہد تھے اور شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی حکومت کے ابتدائی سالوں کے بھی عینی شاہد تھے۔ اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں شاہی مناصب سے رخصتی چاہی اور کشمیر میں اقامت اختیار کی۔1081ھ/ 1671ء میں کشمیر میں وفات پائی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہنری مئیرز ایلیٹ: شاہ جہاں، صفحہ 79 تا 81۔ ناشر شیخ مبارک علی اینڈ سنز، مطبوعہ حافظ پریس، لاہور 1875ء۔

بیرونی روابط[ترمیم]