عندلیب شادانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عندلیب شادانی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1904  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سنبھل  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 جولا‎ئی 1969 (65 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈھاکہ، مشرقی پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ادیب، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عندلیب شادانی (سید وجاہت حسین) پاکستانی شاعر اور ادیب تھے۔

تعلیم اورتدریس[ترمیم]

عندلیب شادانی نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد مدرسہ عالیہ رام پور میں داخلہ لیا تھا۔ یہیں سے منشی عالم اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ پھر پرائیویٹ طور پر 1921ء میں بی۔ اے پاس کیا۔ بعد میں وہ لاہور چلے گئے اور وہاں ایک کالج سے وابستہ ہو گئے۔ 1928ء میں فارسی کے لکچرر کے طور پر ان کا تقرر ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہوا ۔1931ء میں وظیفے کے تحت لندن جا کر پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد میں وہ پھر ڈھاکہ یونیورسٹی میں اردو اور فارسی شعبے کے صدر بنے اور وہیں سے 1965ء میں سبکدوش ہوئے ۔

شعر ی مجموعہ[ترمیم]

عندلیب شادانی کا شعری مجموعہ پہلی بار 1951ء میں لاہور سے ’ نشاط رفتہ ‘ کے نام سے شائع ہوا تھا ۔

۔ ان کا مجموعہ کلام نشاط رفتہ اردو کے اہم شعری مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں نقش بدیع‘ تحقیق کی روشنی میں‘ نوش و نیش‘ سچی کہانیاں‘ شرح رباعیات‘ بابا طاہر اور دور حاضر اور اردو غزل گوئی کے نام شامل ہیں، حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عندلیب شادانی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

۔

ان کے کچھ اشعار اس طرح ہیں:

جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو​


گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں انہی کی یاد میں میری زندگی ہے

انتقال[ترمیم]

عندلیب شادانی کا انتقال 29 جولائی 1969ء کو ڈھاکہ ( اس وقت مشرقی پاکستان ) میں ہوا تھا۔[1]

بنگلہ پیڈیا کی جانب سے خراج عقیدت[ترمیم]

بنگلہ دیش کے قومی دائرۃ المعارف بنگلہ پیڈیا نے اس بات کے لیے عندلیب شادانی کو سراہا ہے کہ انہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی صد سالہ تقاریب میں حصہ لیا جو 1961ء میں منعقد ہوئے تھے۔ انہیں 1969ء میں ترقی کی روشنی کی وجہ سے دوڑ ایوارڈ دیا گیا۔ ان کی کل 12 کتابیں شائع ہوئی ہیں، جن میں بول چال کی فارسی لغت نقشِ بادی کے علاوہ چہار مقالہ، رباعیات بابا طاہر، پیام اقبال، تحقیق کی روشنی جیسے تنقیدی کام شامل تھے۔ انہوں نے سچی کہانیوں کے عنوان سے افسانوں کا مجموعہ لکھا۔ ان کا مجموعہ کلام رُبع شکست تھا۔انہوں نے ایک ڈراما چھوٹا خدا میں لکھا تھا۔ اس کے علاوہ خبر نامی رسالے کی انہوں نے ادارت کی تھی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]