عنصری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عنصری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 980 اور سنہ 970  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلخ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1039 (58–59 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غزنی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی، تاجک زبان  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ابوالقاسم حسن بن احمد عنصری بلخی فارسی گو شاعر ہیں، "عنصری بلخی" کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ 350ھ میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ امیر نصر، سلطان محمود غزنوی کے بھائی نے، انہیں غزنہ بلوا لیا۔ سلطان محمود غزنوی نے ان پر خصوصی توجہ دی اور انہیں ملک الشعرا کا خطاب دیا۔ عنصری نے 431ھ میں وفات پائی۔ عنصری کے دستیاب اشعار کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے۔ جو قصیدہ، غزل، رباعی، قطعہ، ترکیب بند و مثنوی پر مشتمل ہیں۔ ان کے بیشتر قصائد سلطان محمود غزنوی کی تعریف میں ہیں۔ عنصری اپنے قصیدوں اور غزلوں میں اصطلاحات حکمت و منطق کا استعمال کرتا ہے۔ عنصری کی بہترین مثنویاں وامق و عذرا، شادبہر و عین الحیاتت، سرخ بت و خنگ بت ہیں۔[1]

اشعار کلام[ترمیم]

باد نوروزی ہمی در بوستان بتگر شودتا ز صنعش ہر درختی لعبتی دیگر شود
باغ ہم‌چون کلبۂ بزاز پر دیبا شودراغ ہم‌چون طبلۂ عطار پر عنبر شود
روی‌بند ہر زمینی حلۂ چینی شودگوشوار ہر درختی رشتۂ گوہر شود
چون حجابی لعبتان خورشید را بینی بہ نازگہ برون آید ز میغ و گہ بہ میغ اندر شود
افسر سیمین فروگیرد ز سر، کوہ بلندباز میناچشم و زیباروی و مشکین‌سر شود
عجب مدار کہ نامرد، مردی آموزداز آن خجستہ رسوم و از آن خجستہ سِیَر
بہ چند گاہ دہد بوی عنبر آن جامہکہ چند روز بماند نہادہ با عنبر
دلی کہ رامش جوید نیابد آن دانشسری کہ بالش جوید، نباید او افسر
ز زود خفتن و و از دیر خاستن ہرگزنہ مُلک یابد مَرد و نہ بر ملوک، ظفر

حوالہ جات[ترمیم]