عنوان چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عنوان چشتی
At Zia Fatehabadi.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 5 فروری 1937(1937-02-05)
مانگلور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 فروری 2004(2004-20-01) (عمر  66 سال)
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی قوم
عملی زندگی
پیشہ Teacher at جامعہ ملیہ اسلامیہ University, was Head of Urdu Department – Retired as Dean of Faculty of Humanities and Languages in 1997

عنوان چشتی(5فروری 1937ء تا 1 فروری 2004ء)[1] ایک اردو شاعر تھے جس نے ایک شاعر، ایک استاد، ایک اسکالر، ایک ادبی تنقید دان کی حیثیت سے شہرت پائی۔ وہ ابر احسانی گنوری کے شاگرد تھے۔ عنوان چشتی ، افتخار الحسن (1937ء- 2004ء) مینگلور ضلع ہریدیوار اترکھنڈ میں 5 فروری 1937ء میں پیدا ہوئے۔ وہ پیرزادہ شاہ انوار الحسن انورمینگلوری کے بیٹے تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مینگلور اور مظفرنگر میں حاصل کی۔ 1961ء میں گریجویشن کے بعد جغرافیہ میں ایم اے کیا۔ 1963ء میں ایم اے اردو اور 1968ء ایم ایلٹ کیا۔ 1973ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 15 ستمبر 1964ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شامل ہونے سے قبل آگرہ کے شعیب محمدیہ کالج میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی یونیورسٹی میں وہ اردو پڑھاتے تھے اور ان کو شعبہ اردو کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 1997ء میں وہ شعبہ انسانیات اور زبانوں کے ڈین کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ وہ ایک اردو شاعر، اردو ادب کے مورخ اور ناقد تھے اور بہت سی کتابوں کے مصنف ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ ان کو تین نظموں کے مجموعہ جات کے ایڈیشن شائع کروانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ جن میں ذوق جمال، نم باز اور عکس و شخص شامل ہیں۔ 1950ء میں ان کا ادبی کیرئیر غزل کو مرتب کرنے سے شروع ہوا۔ ان کی پہلی شاعری نظم "سلام اے مسافر " 1953ء میں ماہانہ اردو شعر میں شائع ہوئی۔ ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ ذوق جمال 1966ء میں شائع ہوا اور اس کے فوراً بعد نم باز اور عکس و شخصین 1968ء میں شائع ہوئے۔ انہوں نے نظم لکھنے کا فن اپنے والد اور نکہت علی آداب صدیقی سے سیکھا تھا۔ صغراں عالم کے زیر اہتمام عنوان چشتی کے کاموں پر ایک جامع تشخیص 2003ء میں شائع کی گئی جس کا عنوان، عنوان چشتی ایک محقق، شاعر اور نقاد تھا۔ عنوان چشتی کی کتابوں میں اردو شاعری، نظمی مجموعہ اور تنقیدی کتابیں شامل ہیں۔ جن میں مناویات کی تلاش، عروزیاور فانی مسائل، اردو شاعری میں حیات کے تجربے، تنقیدی پیرائے، تنقید سے تحقیق تک، تنقید نامہ جیسی کتابیں شامل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Biswin Sadi ke Shoara e Delhi. Vol. 2. 2005 edition Page-939 ISBN 8171211364 Published by Urdu Academy, Delhi.