عوامی جمہوریہ چین کا قومی دن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

یکم اکتوبر عوامی جمہوریہ چین کے عوام کے لیے خوشیوں کا پیغام لاتا ہے۔ چین اور دنیا کے دیگر ملکوں میں رہنے والے چینی باشندے اپنا یہ یوم آزادی پورے قومی جوش و جذبے اور وقار سے مناتے ہیں۔ ساٹھ سال پہلے خانہ جنگی کے اختتام پر عوامی جمہوریہ چین نے آزادی حاصل کی تھی اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گذرتا رہا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہا آج وہ معاشی طورپر دنیا کی بڑی طاقتوں کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔ بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ قومیں اپنے لیڈروں کی قیادت میں منزلوں کی سمت سفر کرتی ہیں چینی قوم کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں ماﺅزے تنگ جیسا لیڈر ملا جس نے آزادی سے لے کر 1976تک اپنی قوم کی مخلصانہ قیادت کی اور قوم کو اس منزل تک پہنچایا جہاں سے اس کو اپنی منزل صاف نظر آنے لگی تھی اس مرحلے پر ایک اور عظیم قائد ڈے نگ ژے اﺅ پنگ نے قوم کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا انہوں نے معاشی اصلاحات کاآغاز کیا انہوں نے جو اوپن ڈور پالیسی اختیار کی تھی اس نے چین کوعظیم اقتصادی قوت بننے کی منزل سے ہم کنار کر دیا۔ جس سفر کا آغاز ماﺅزے تنگ نے کے ا تھا اور قوم کو لے کر اس راستے پر ڈینگ ژے اﺅ پنگ آگے بڑھے تھے چینی قوم کی تیسری نسل بھی اسی سفر پر رواں دواں ہے اور تیسری نسل کی قیادت چین کا ایک اور انقلابی لیڈر ہوجن تاﺅ کر رہے ہیں۔ موجودہ چینی قیادت قومی مفاہمت‘ امن و آشتی اور معاشی ترقی کے رہنما اصولوں کے تحت کام کر رہی ہے۔ چے ن دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جس نے بدترین بین الاقوامی کساد بازاری کے باوجود اپنی معیشت کو سنبھالے رکھا جو زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر اور صنعتی ترقی کی جامع پالیسی کی بدولت ہی ممکن ہو سکا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے عوامی جمہوری چین کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا تب سے آج تک چین اور پاکستان کے درمیان انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں پاک چین دوستی کو قوموں کی برداری میں ایک مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور بجاطور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالے ہ سے بلند‘ سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔

پاکستان اور چین جغرافیائی لحاظ سے پڑوسی ہونے کے ناطے ہی ایک دوسرے کے قریب نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے دونوں ملکوں کے عوام کے عالمی امور‘ امن پسندی اور باہمی احترام کے حوالے سے خیالات بھی یکساں ہیں۔8اگست 2008کو چین کے شہر بیجنگ میں اولمپک کھیلوں کا آغاز ہوا دنیا کے 204ملکوں سے ہزاروں کھلاڑی اور آفیشلز چین پہنچ گئے اور انہوں نے اولمپک کھیلوں کے دوران اپنی پے شہ وارانہ صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ دنیا بھر کے کروڑوں اربوں افراد نے بیجنگ میں کھیلوں کے اس عظیم الشان میلے کو دیکھا برڈز نے سٹ سٹیڈیم میں اولمپکس کی اختتامی تقریب دے کھنے سے تعلق رکھتی تھی اس شاندار تقرے ب کی وجہ سے بیجنگ اولمپکس کو تاریخ کا سب سے عظیم اجتماع قرار دیا جاتا ہے۔ سولہ روزہ اولمپک مقابلوں کے لیے چین نے جو انتظامات کیے تھے اس پر دنیا حیران رہ گئی اور اقوام عالم میں چین کی تعریف و توصیف کے ڈونگرے بجائے گئے ۔1949میں جب عوامی جمہوریہ چین نے آزادی حاصل کی تو طویل خانہ جنگی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت دگرگوں ہو گئی تھی اور لگتا ہی نہیں تھا کہ اقتصادی طور پر یہ بے حال ملک اپنی بقاءکا تحفظ بھی کر پائے گا۔1950سے لے کر 1960تک چین میں فی کس آمدنی صرف 50ڈالر تھی۔ اس مرحلے پر چین نے بڑی بڑی صنعتیں قائم کیں۔ بڑے تعمیراتی پراجے کٹ شروع کیے۔ اس وقت تک زرعی پیداوار بہت کم تھی صنعتی پیداوار بھی ملکی ضرورت کے لیے کافی نہیں تھی۔ چے نی حکومت نے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے راشن کوپن کا نظام شروع کیا تاکہ شہریوں کو ضرورت کی اشیاءمناسب نرخوں اور وافر مقدار میں فراہم کی جاسکیں۔ 1970کے عشرے میں چین نے زرعی اور صنعتی اصلاحات متعارف کرائے سماجی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی گئی۔ مقامی مارکیٹ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئی ضروریات زندگی کی ترسیل پر توجہ مرکوز رکھی گئی لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی اب وہ اپنی پسند کی ہر چیز خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے جب عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے لگا تو راشن کوپن کا نظام خود بخود متروک ہو گیا۔ آج ہم اعدادوشمار کے میزان پر رکھ کر دے کھتے ہیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ گذشتہ چھ عشروں کے دوران چین کی مجموعی قومی پیداوار میں چار سو گنا اضافہ ہوا ہے اور فی کس آمدنی پچاس ڈالر سے بڑھ کر تین ہزار ڈالر ہو گئی ہے ۔

اِقتصادی حجم کے لحاظ سے آج چین پوری دنیا میں چوتھے درجے پر ہے۔ ایک مشہور اورقدیم چینی کہاوت ہے کہ خوراک انسان کی سب سے اولین ضرورت ہے۔ چین کے لوگ آج بھی اس مقولے پر عمل پیرا ہیں وہ خوراک کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چین بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اس کی بیشتر آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے زراعت کو شروع ہی سے چینی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی کا یہ ملک پوری دنیا کی مجموعی آبادی کا پانچواں حصہ ہے چین کے عوام کے لیے پیٹ بھرکر کھانا بڑا مسئلہ رہا ہے ساٹھ سال قبل زرعی خود کفالت ایک خواب تھا چین کے لوگ بھوک افلاس کا شکار تھے لیکن زرعی شعبے کی ترقی کے لیے چینی حکومت کی پالیسی اور ٹھوس منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کہ آج چینی قوم نے زرعی خود کفالت کی منزل پالی ہے تین سال قبل چینی حکومت نے زرعی ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس سے چینی کاشت کاروں کو 130ارب ین کا ریلیف مل گیا۔ حکومت نے بیج اور کھاد کی خریداری کے سلسلے میں کاشت کاروں کو سبسڈی بھی دی ہے جس سے زرعی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اقدامات کیے گئے جس کی بدولت چین میں ساٹھ فیصد رقبے پر جدے د مشے نی کاشت ہوتی ہے جس کی بدولت زرعی پیداوار میں بھی حوصلہ افزاءاضافہ ہوا ہے۔

چے نی حکومت نے سال 2020تک کاشت کاروں کی آمدنی دوگنی کرنے کا لائحہ عمل تیار کیا ہے یہ بھی طے پایا ہے کہ اس عرصے میں جو لوگ غربت کی لکے ر سے نیچے کی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں ان کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے گا اس سلسلے میں دیہی علاقوں میں زرعی شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ آزادی کے چند سالوں کے اندر چینی قیادت نے سماجی زندگی میں انقلابی اصلاحات لانے کی پالیسی مرتب کی تھی 1953میں مرکزی سطح پر ایک کمیٹی تشکے ل دی گئی جسے ملک کے لیے دستور بنانے کا کام سونپ دیا گیا دستوری کمیٹی نے جب آئین کا مسودہ تیار کر لیا تو اس پر تیرہ کروڑ اسی لاکھ شہریوں کی رائے لی گئی۔

1954میں چین کا پہلا دستور بنا۔1982میں چینی دستور میں نئے اصول و ضوابط شامل کیے گئے 1999میں نیشنل پے پلز کانگریس نے چینی آئین میں ترمیم کرکے قانون کی حاکمیت کو آئین کا حصہ بنالیا2004میں انسانی حقوق کی ضمانت کو بھی آئین کا حصہ بنادیا گیا۔ ایک ماہر چینی قانون دان مسٹر لی بووان نے آئین میں ان دو ترامیم کو انتہائی اہم قرار دے تے ہوئے کہا ہے کہ ان ترامیم کی بدولت چین کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو ضمانت مل گئی ہے۔ برسوں سے اصلاحات کے عمل سے گذرنے کے بعد عوامی جمہوریہ چین نے اپنے لیے ایک جامع دستور اور ضابطہ حیات وضع کر لیا ہے 231ایسے قوانین آئین کا حصہ بنائے گئے ہیں جن کا عام شہریوں سے براہ راست تعلق ہے۔ ان قوانین کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو سیاست‘ معیشت‘ ثقافت اور سماجی سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہیں جبکہ معذور افراد‘ خواتین‘ بچوں ‘بزرگوں اور بے سہارا افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ چے ن نے بیس سے زائد بین الاقوامی کنونشنوں میں شرکت کی ہے ۔

چین اقوام متحدہ کے بانی ممالک میں شامل ہے اس وجہ سے چین کو سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق بھی حاصل ہے دوعشروں تک مغرب کی چین دشمنی کی وجہ سے اسے اقوام متحدہ میں اپنے جائز مقام سے محروم رہنا پڑا۔ 25اکتوبر1971چین کی سفارتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ عالمی ادارے میں چین کی مراعات بحال کر دیں۔ چین کی اقوام متحدہ میں یہ غیر معمولی کامیابی دنیا کے دیگر ترقی پزیر ممالک کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی کیونکہ چین ہر فورم پر ترقی پزیر ممالک کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔ مراعات کی بحالی کے بعد چین چھوٹے اور کمزور اقوام کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں سیٹ کی بحالی کے بعد چین نے عالمی برادری سے تعلقات کو فروغ دے نے پر توجہ دی ۔1970کے عشرے کے اختتام تک چین نے 120ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کردئے ے تھے جن میں امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام بھی ایک اہم پے ش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم‘ کوریا کی جوہری قوت کے حوالے سے چھ ملکی مذاکرات‘ چین افریقن تعاون تنظیم ‘بیجنگ سربراہ اجلاس ‘ ایشیاءیورپ میٹنگ سے لے کر لندن میں جی ٹونٹی سربراہ اجلاس تک چین نے ہر فورم میں اپنے فعال کردارکی وجہ سے اپنی حیثیت منوالی ہے۔ ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت ہونے کے ناطے بھی چین نے عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور قوموں کی برادری میں چین کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چے ن دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے انسان بردار خلائی جہاز خلاءمیں بھیجے۔ ساٹھ سال قبل جب چین آزاد ہوا تھا تو خلاءکو تسخیر کرنے سمیت وہ کامیابیاں خواب معلوم ہو رہی تھیں جنہیں آج چین نے اپنی محنت کی بدولت تعبیر کاجامہ پہنایا ہے ۔

پاکستان کے عوام اپنے چینی بھائیوں کی کامیابیوں کے لیے دعاگو ہیں اور ان کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات ہیں جو وقت گذرنے کے ساتھ مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم پاکستانی قوم آج اپنے چینی بھائیوں کے جشن آزادی میں برابر کے شریک ہیں ہمیں چین کے ساتھ دوستی پر بجاطور پر فخر ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ چین ہمارا اچھا دوست ہی نہیں بہترین پڑوسی بھی ہیں کیونکہ دوست بدلے جاسکتے ہیں پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے۔