عہد اکبری کے ہندو امرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ان ہندو امرا کی فہرست جن کا ذکرامرائے ہنود (کتاب) کے باب مشہور امرا میں نہیں ہوا۔ ان ہندو امرا کی فہرست جن کا ذکر کتاب کے آخر میں ضمیمہ کے طور پر ہوا ہے۔ یہ تمام امرا ہزار سوار اور ذات سے کم تھے۔اس فہرست میں عہد اکبری کے وہ مشہور ہندو امرا شامل نہیں ہیں جو ہزار سوار سے  زیادہ منصب رکھتے  تھے۔ کچھ ایسے امرا بھی شامل نہیں ہیں جن اکبری عہد سے لے کر جہانگیر یا شاہجہاں کے عہد تک منصب پر سرفراز رہے۔

امرائے ہنود (کتاب) سے ضمیمہ        

اونڈ

منصب : دو سو

اوڑیسہ کا زمیندار اور 40ویں جلوس تک منصب مذکور سے سرفراز تھا۔

بلہدر راٹھور

منصب : تین سو

40ویں جلوس تک منصب مذکور سے ممتاز تھا

بھارتی چند

40ویں جلوس میں وزیر اعظم کی ماتحتی میں جب ہر صوبہ کا علاحدہ وزیر مقرر کیا گیا یہ صوبہ اجمیر کے وزیر مقرر ہوئے۔

رائے بھگوان داس

۱۹ویں جلوس میں کل محروسہ علاقے کے مستوفی (ڈاکومنٹ جنرل) مقرر ہوئے۔ ۴۶ ویں جلوس تک اس عہدہ پر سرفراز رہے۔ اسی سال انتقال کیا۔

بھوپت رائے

۳۳ ویں جلوس میں مہم گجرات میں شریک تھا۔

باگھا راٹھور

منصب : پانچ سو

راجا ٹوڈرمل کے خوش نویس میں سے تھا۔ بنگ و بہار کی مہم میں نواڑوں اور کشتیوں کا انتظام اس کے سپرد تھا۔ ۴۰ویں جلوس تک منصب مذکور پر سرفراز تھا۔

پرمانند کھتری

راجا ٹوڈرمل کے خوش نویس میں سے تھا۔ بنگ و بہار کی مہم میں نواڑوں اور کشتیوں کا انتظام اس کے سپرد تھا۔

پرتاب سنگھ

دو سو

راجا بھگوان داس کا بیٹا تھا۔ آگرہ میں اس کا آباد کیا ہوا محلہ پرتاب پورہ اب تک آباد ہے۔

رائے پرکھوتم (پرسوتم)

اکبری عہد کے بخشیان عظام سے تھا۔

پیاگداس

معرکہ دولقہ میں راجا ٹوڈرمل کے ساتھ شریک تھا۔ 21ویں جلوس میں صوبہ گجرات کا دیوان مقرر ہوا۔

نام منصب کیفیت
رائے پرکھوتم (پرسوتم) اکبری عہد کے بخشیان عظام سے تھا۔
پیاگداس معرکہ دولقہ میں راجا ٹوڈرمل کے ساتھ شریک تھا۔ 21ویں جلوس میں صوبہ گجرات کا دیوان مقرر ہوا۔
تلسی داس جاوون تین سو 28ویں جلوس میں مہم گجرات میں شریک تھا۔
تارا چند 31ویں جلوس میں صوبہ اجمیر کا بخشی مقرر ہوا۔
جگمال نپواڑ پانچ سو 31ویں جلوس کی یلغار گجرات میں اکبر کے ساتھ تھا۔26ویں جلوس میں راجا مان سنگھ کے ساتھ مہم مرزا محمد حکیم پر مامور ہوا۔
چنی دو سو 40ویں جلوس تک منصب مذکور سے سربلند تھا۔
چیتہ بڑگوجر 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں اکبر کے ساتھ تھا۔ لڑائی کے وقت غنیم کے ایک سوار نے بادشاہ پر نیزہ کا وار کیا اس نے آگے بڑھ کر سوار پر برچھا مار کر اس کا کام تمام کیا۔ اس حسن خدمت کے صلے میں نوازش ہائے شاہانہ سے مفتخر ہوا۔
راجا چتر بھوج راجا جگمن کا لڑکا تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد اپنے وطن صوبہ مالوہ سے دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے خطاب راجگی سے موصوف کرکے صوبہ دکن میں تعینات کیا۔
راجا دلیپ چند جلوس میں یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔
راجا دھرمنگد 30ویں جلوس میں زین خان کوکہ کے ساتھ مہم سواد باجوڑ میں شریک تھا اور راجا بیربر کے ساتھ اسی مہم میں مارا گیا۔اس کا بیٹا جگت رائے 9ویں جلوس میں مہم چندرسین اور 6ویں جلوس میں مہم مرزا محمد حکیم میں شریک تھا۔
رام چند کچھواہا چار سو 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔
رائے رام داس دیوان ڈھائی سو 40ویں جلوس میں صوبہ احمد آباد گجرات کا وزیر مقرر ہوا۔
رائے رام رائے 40ویں جلوس میں صوبہ دہلی کا وزیر مقرر ہوا۔
رام داس 40ویں جلوس میں صوبہ بہار کا وزیر مقرر ہوا۔
راگھو داس کچھواہا 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا اور اسی لڑائی میں نہایت شجاعت و بہادری سے لڑ کر مارا گیا۔
روپ رائے گجراتی صوبہ گجرات میں متعین تھا۔ معرکہ دولقہ میں راجا ٹوڈرمل کے ساتھ شریک ہو کر نہایت بہادری سے لڑا۔
رام داس چوہان 26ویں جلوس راجا مان سنگھ کے ساتھ مہم حکیم مرزا میں اور اس کے بعد 29ویں جلوس میں مہم گجرات میں شریک تھا
راجا رام ساہ گوالیاری 983 ہجری میں راجا مان سنگھ کے ساتھ مہم راناکیکا میں شریک اور فوج ہراول میں متعین تھا اور اسی لڑائی میں معہ اپنے تین بیٹوں کے مارا گیا۔
سلطان راٹھور جے مل کا بیٹا تھا راجا بھگوان داس کچھواہا کی طرف سے نہایت شجاعت و بہادری سے لڑ کر مارا گیا۔
سانولداس جادول دو سو 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا
سلھدی چار سو راجا بہاری کا بیٹا تھا۔
سانگھا پنواڑ دو سو 40ویں جلوس تک اس منصب سے سرفراز تھا۔
سندر دو سو اڑیسہ کا زمیندار اور 40ویں جلوس تک اس منصب سے سرفرا تھا۔
کانہا درباری 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔
کشن داس تونور تین سو 26ویں جلوس میں حکیم مرزا کے خلاف مہم میں راجا مان سنگھ کے ساتھ شریک تھا۔
کلا کچھواہا دو سو ایضا
کیشوداس راٹھور دو سو اس کی بیٹی کی شادی شہزادہ سلیم سے ہوئی تھی۔ بہار بانو اس کے بطن سے تھی۔
کلا راٹھور 38ویں جلوس میں مرزا شاہ رخ کے صوبہ مالوہ میں تعینات ہوا۔
رائے کیشو داس 40ویں جلوس میں زین خان کوکہ کے ساتھ مہم سواد باجوڑ میں شریک تھا۔
راجا گوپال 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔
داس جادول 28ویں جلوس میں شہباز خان کے ساتھ صوبہ بنگال میں تعینات ہوا۔
گوردھن راٹھور نہایت شجاع و بہادر تھا۔ 35ویں جلوس میں مرزا عبدالرحیم خان خاناں کے ساتھ مہم ٹھٹھہ میں شریک تھا۔
مان سنگھ کچھواہا تین سو 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔
متھرا داس کھتری دو سو 40ویں جلوس میں صوبہ لاہور کا وزیر مقرر ہوا۔
میدنی رائے چوہان سات سو صوبہ گجرات میں مامور تھا اور وہاں کی مہمات میں شریک ہوتا رہا۔
مدن چوہان 26ویں جلوس میں راجا مان سنگھ کے ساتھ مہم حکیم مرزا میں متعین ہوا۔
بابو منگلی سات سو 28ویں جلوس میں شہباز خان کے ساتھ صوبہ بنگال میں تعینات ہوا۔
نیل کنٹھ تین سو اڑیسہ کا زمیندار تھا۔
رائے نرائن داس ایدر کا زمیندار تھا۔ 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔
ہرداس 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔
کلیان رائے بندر کھنبات کا ناظم تھا۔ اس نے کھنبات میں پختہ چار دیواری تعمیر کرائی تھی۔
راجا دیپ چند مجہولہ کا راجا تھا۔ 18ویں جلوس کی یلغار گجرات میں بادشاہ کے ساتھ تھا۔ ایک دن دربار میں گاوکشی کی بحث تھی اس نے کہا اگر گائے خدا کے نزدیک معظم نہ ہوتی تو سب سے پہلے قرآن شریف میں سورۃ بقرہ کیوں مذکور ہوتی۔


کتابیات[ترمیم]

  • تاثر الامرا
  • آئین اکبری، فیضی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. امرائے ہنود، منشی محمد سعید احمد مارہروی