عید خیام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوکوت
EtrogC.jpg
بائیں سے دائیں، لولب مع ہدسیم (הדסים) اور عربوت، اتروگ کا بار بردار، اور اتروگ سوکوت میں استعمال ہوتا ہے۔
باضابطہ نام عبرانی: סוכות‎ یا סֻכּוֹת
("سائبان، خیمے")
منانے والے یہود، عبرانی قوم، بنی اسرائیل، مسیانک یہود، سامری، سامی نو پاگان
قسم یہودی
اہمیت شلوش رگلیم میں سے ایک
رسومات سوکہ میں رہنا، اربعہ مینیم لینا، کنیسہ میں ہقفوت اور ہلل
آغاز تشری کا پندرہواں دن
اختتام تشری کا اکیسواں دن (اسرائیل کے باہر بائیسواں)
تاریخ 15 Tishrei، 16 Tishrei، 1 Tishrei، 18 Tishrei، 19 Tishrei، 20 Tishrei، 21 Tishrei
2018ء  تاریخ 30 ستمبر (اسرائیل کے باہر 1 اکتوبر)
2019 تاریخ 20 اکتوبر
2020 تاریخ 9 اکتوبر
منسلک شمینی عصرہ، شمحت تورہ

سوکوت (عبرانی: סוכות) بمعنی جشن خیام، عید خیام یا خیموں کی عید۔[1] سوکوت عبرانی زبان کے لفظ ‘سوکہ‘ کی جمع ہے۔ ‘سوکہ‘ کے لغوی معنی خیمے یا سائبان کے ہیں۔[2] کتاب مقدس کے مطابق عبرانی تقویم کے مہینے تشری کی پندرہ تاریخ کو ہر سال جشن خیام بطور عید یہود برپا ہوتا ہیں۔ جشن سوکا بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کی نسبت سے منایا جاتا ہے۔[3] اس سے مراد غلامی سے نجات حاصل کر کے آزادی کے خیمے میں پہنچنے کی لی جاتی ہے۔ اگرچہ بنی اسرائیل کا مصر سے خروج ماہ نیساں کی پندرہ تاریخ (جشن فسح) کو ہوا تھا لیکن انہیں عید خیام، تیشری کے مہینے ہی میں منانے کا حکم ہوا تھا۔

جشن خیام یہودیوں کے روزہ کبیر یا یوم الغفران (یوم کِپور) کے پانچ دن بعد شروع ہوتا ہے اور سات دن جاری رہتا ہے۔[4]

اشتقاقیات[ترمیم]

اکثر مفسرین تورات اس بات کے قائل ہیں کہ بیابان میں خیموں سے مراد وہ بادل تھے جو معجزانہ طور پر بیابان میں موجود لوگوں پر سایہ فگن ہو گئے تھے۔ اور انہیں ہر قسم کی جسمانی اور روحانی کوفت ، پریشانی اور ہر قسم کے خطرات و آفات سے بچانے کا سبب بن گئے تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ان کے لیے بیک وقت سائبان بھی تھے اور محافظ بھی تھے۔ اس لیے سوکا میں سکونت کے اس زمانے کی یاد منانا دراصل اس معجزہ خدا کا شکرانہ ہے جو اس نے عبرانیوں کے مصر سے نکلنے اور پھر چالیس برس تک بیابان میں قیام کے دوران ان پر بادلوں کے ذریعے حفاظت اور جائے اقامت کی صورت نازل کیا تھا۔ عید خیام ان چالیس برسوں کی یادگار بھی ہے جب یہودی مصر سے نکلنے کے بعد مسلسل حرکت میں رہے۔ عید خیام اپنے لغوی اور خصوصی مفاہیم کے علاوہ ایک ایسی یہودی عید کی حیثیت بھی رکھتی ہے جس میں ایک عالمگیر تحریک بھی ہے۔ اس عید کے موقع پر یہودی بنی نوع انسان کو ایک خصوصی پیغام بھی دیتے ہیں اپنے اس عقیدے کے حوالے سے کہ وہ مسیح موعود ( علمی نجات دہندہ) کے منتظر ہیں۔ان کے اس نکتہ فکر کا ایک مظاہرہ جشن کے سات دنوں کے دوران ستر بیلوں کی قربانی بھی ہے جو ستر اقوام کی نسبت سے قربان کیے جاتے ہیں۔[5][6]

حوالہ جات[ترمیم]