عید غدیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عید غدیر
Ghadir Khumm.jpg
عرفیتعید الغدیر
منانے والےشیعہ روافض
قسمغیراسلام
اہمیتمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین کے طور پر علی ابن ابی طالب کی تقرری
رسوماتعبادات، تحفہ دینا، تہوار کے کھانے
تاریخ18 ذوالحجہ
2019ء  تاریخ19 اگست[1]

عید الغدیر یا یوم غدیر خم اہل تشیع کے نزدیک 18 ذوالحجہ کا دن ہے جب رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت کے دسویں سال ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ حجتہ الوداع کے بعد واپس جاتے ہوئے غدیر خم کے مقام پر امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا۔ روایات کے مطابق نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم حجتہ الوداع سے فراغت کے بعد واپس تشریف لے جا رہے تھے تو غدیر خم کے مقام پر حکم خداوندی سے توقف فرمایا اور تمام ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ سے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے جناب علی ابن ابیطالب کی ولایت و جانشینی کا اعلان فرمایا۔ اہل تشیع کا ماننا ہے کہ اس دن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی ابن ابی طالب کو اپنا جانشین بنایا۔[5][6][7][8][9][10][11] اور ارشاد فرمایا

من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ

جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں[12][13]

پس منظر[ترمیم]

10ھ کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق 26 ذیقعدہ مطابق 22 فروری 633ء محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے چلے۔اتفاقا ان دنوں چیچک یا تاٗیفائیڈ کی وبا پھیلی ہوئی تھی اس وجہ سے بہت سے لوگ پیغمبر کے ساتھ حج کرنے نہ جاسکے ،اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی جمعیت پیغمبر اکرمﷺ کے ساتھ نکلی بعض تاریخی شواہد کے مطابق اس مقدس سفر میں جو لوگ آپ کے ساتھ روانہ ہوئے ان کی تعداد 90 ہزار سے کم نہ تھی اسی طرح دوسرے علاقوں سے جو لوگ مکہ پہنچے تھے وہ بھی ہزاروں میں تھے۔ جیسا کہ حضرت علی بھی یمن سے حاجیوں کا ایک بہت بڑا قافلہ لے کر مکہ میں داخل ہوئے۔ مناسک حج بجا لانے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ خدا کو الوداع کہا اور ارض حرم سے رخصت ہو گئے۔ آنحضرت نے ہجرت کے زمانے سے رحلت تک اس حج کے علاوہ کوئی اور حج انجام نہ دیا تھا۔ اس حج کو ’’حجۃ الوداع‘‘،حجۃ الاسلام‘‘،حجۃ البلاغ‘‘،حجۃ الکمال‘‘اور حجۃ التمام ‘‘بھی کہا جاتاہے ۔

غدیر خم[ترمیم]

جمعرات 18 ذی الحجہ مطابق 21 مارچ نوروز کے دن یہ قافلہ جحفہ پہنچا۔ جحفہ مکہ سے 13 میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شام کے راستے سے حج کے لیے مکہ آنے والے لوگ احرام باندھتے ہیں اس کو میقات اہل شام (سوریہ) بھی کہتے ہیں اور مکہ سے واپسی پر مدینہ منورہ، مصر، شام اور عراق والوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کے قریب کوئی ڈیڑھ دو میل کی مسافت پر ایک تالاب ہے۔عربی میں تالاب کو غدیر کہتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Islamic Calendar 2018 - 2019 - Hijri 1440 and Gregorian Calendar 2019". IslamicFinder. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2019. 
  2. "Special security measures in Najaf ahead of Eid Al-Ghadir". 17 ستمبر 2016. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2016. 
  3. "Iran Public Holidays 2016 and 2017". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2016. 
  4. "Iran Public Holidays 2018". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 اگست 2018. 
  5. توضیح المقاصد- ص 31
  6. العدد القویة -ص ١٦٦
  7. مصباح کفعمی- ج 2، ص 601
  8. مناقب ابن شہر آشوب- ج 3،ص 37
  9. مصباح المتھجد - ص 754
  10. بحار الانوار- ج 35، ص 150
  11. فیض العلام - ص 122
  12. کتاب الغدير، ج1، ص10- مکتبة مدرسة الفقاهة-
  13. ابن اثیر،أُسدالغابۃ،ج‌۵، ص۲۵۳؛ کلینی، الکافی، ج۲، ص۲۷