عیسی ابن مریم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عیسیٰ بن مریم سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عیسیٰ بن مریم
Jesus Name in Arabic.gif
عیسیٰ علیہ السلام کا خطاطی نام
معروفیت ابن مریم، روح اللہ
پیدائش تقریباً 7-2 ق م
بیت اللحم، یہودیہ، رومی سلطنت
غائب 30ء - 33ء
گتسمنی، یروشلم
والدہ مریم بنت عمران
زبان عبرانی
پیشہ مبلغ
صحائف انجیل
شمار آخری سے پہلے
منسوب دین مسیحیت
معاصر نبی/انبیا یحییٰ علیہ السلام
آسمانی کتابوں میں ذکر قرآن اور انجیل میں
پیشرو نبی یحییٰ علیہ السلام
جانشین نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم


عیسیٰ ابن مریم ایک قرآنی نبی ہیں۔ مسلمان ان کو اللہ کا برگزیدہ نبی مانتے ہیں۔ جو مخلوق خدا کی ہدایت اور رہبری کے لیے مبعوث ہوئے۔ ایک مدت تک زمین پر رہے پھر زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ قرب قیامت آپ پھر نزول فرمائیں گے اور شریعت محمدیہ پہ عامل ہوں گے۔ ایک مدت تک قیام کریں گے اور پھر وصال فرما کر مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔

نزول مسیحی اور ختم نبوت

ہمارا مقصد صرف اثبات ختم نبوت ہے

عام طورپر اس مسئلہ کا غلط فائدہ قادیانی حضرات نے اٹھایا اور عوام کو گمراہ کیاہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے

مثلا یہ کہا جاتاہے ہے کہ اگر محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں تو نزول مسیح کے عقیدے سے تضاد ثابت ہوتا ہے انکی آمد سے ختم نبوت میں فرق نہیں تو پھر محمد ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے نبوت کے دعوے کی گنجائش رہیگی اسطرح فرق صرف شخصیت کا ہوگا وغیرہ اور بہایئیت بھی اس طرح کے بے بنیاد استدلال کا سہارا لیکر اپنا ایک مذہب تشکیل دیتے ہوئے شریعت اسلام کو منسوخ قرار دیا ہے ۔

نقد

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے نزدیک بالاتفاق نزول مسیح کا عقیدہ اس دور میں نظر آتا ہے

تاہم ہمارا استدلال کچھ اسطرح ہے

۱۔ قرآن کریم میں بصراحت نزول مسیح کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے جیسے احادیث میں ہمیں ملتا ہے

۲۔ قرآن کریم دین خدا میں ایک میزان و فرقان اور بادشاہ کی حیثت رکھتا ہے

۳۔ احادیث نبویہ اسکی شرح و وضاحت ہیں

ختم نبوت قرآن کریم کا منصوص اعلان ہے اور اسکا تعلق ایمان سے ہے جسکی تاویل کی کوشش انحراف کے سوا کچھ نہیں ہے نہ احادیث اسکے خلاف فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں ۔ البتہ خلافت کا وعدہ ضرور ہے اس وعدے کے تحت حدیث میں اگر کوئی پیشنگوئی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ احادیث نبویہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کو بطور خلیفہ پیش کیا گیا ہے حکم عدل اسکی وضاحت ہے اہل سنت اور اہل تشیع بھی بالعموم اس نظریے کے حامل ہیں ۔

لہذا ان روایات کو کسی معنی میں قرآنی فیصلہ کے مقابلے پر لانا درست نہیں ہے عیسی ابن مریم علیہ السلام کی نبوت پر ایمان نبیوں پر ایمان کا حصہ ہے اسلئے یہ دین میں نہ کوئی تبدیلی ہے نہ اسکا اثر ختم نبوت پر پڑتا ہے وہ حاضر ہو یا نہ ہوں حتی کہ موسی علیہ السلام بھی لوٹ آئیں تب بھی بطور نبی انکی ٘پیروی گمراہی ہوگی کیونکہ خدا کے نبیوں میں سب سے آخر، اب ہمیشہ کے لیے خدا کی ھدایت کا تنہا قطعی ماخذ اور آخری عہد کا رسول واحد صرف محمد رسول اللہ و خاتم النبین ﷺ ہی ہیں

نوٹ

اگر حضرت مسیح فوت ہوچکے یا پھر یہ پیشنگوئی تمثیلی رنگ میں ہے وغیرہ تب بھی اسکا کوئی اثر نہیں ہے یاد رہے امت میں پہلے بھی اور دورے حاضر میں بالخصوص جاوید احمد غامدی صاحب نے عقیدہ نزول مسیح پر اپنا اختلاف میزان میں درج کیا ہے


و اللہ اعلم بالصواب

خاندان[ترمیم]

قرآن کے مطابق عیسیٰ مریم بنت عمران کے بیٹے تھے جو کنواری ماں بنی تھیں۔ قرآن اور اسلامی روایات کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام داؤد علیہ السلام کی نسل سے تھے یعنی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھے۔[حوالہ درکار] قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو صرف مریم علیہا السلام کا بیٹا کہا ہے اور یہ بھی کہ وہ انبیا کی ذریت میں سے تھے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو مریم علیہا السلام کی وساطت سے انبیا کی ذریت قرار دیا ہے۔

قیامت المسیح[ترمیم]

اکثر مسلمانوں کے مطابق عیسی کی موت واقع نہیں ہوئی بلکہ اللہ نے انہیں لوگوں کی نظروں سے غائب کر دیا اور ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کی جگہ ان کا ایک ہم شکل مصلوب ہوا۔ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ان کا دوبارہ ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔

قرآن و احادیث کی رو سے : آخر الزمان[ترمیم]

دوبارہ آمد پر نظریات[ترمیم]

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً {157} بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزاً حَكِيماً سورة النساء 158

اللہ نے سورۃ النساء کی ان آیات میں یہود کے ملعون ہونے کی کچھ وجوہات بیان کی ہیں من جملہ ان میں ہے کہ؛

اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اللہ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں صلیب پر چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لیے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں) اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیا۔

اور اس کے علاوہ سورہ النساء میں ہے کہ

وان من اهل الكتاب الاّ ليؤمن به قبل موته (الآية) - سورة النساء آية 159

اور (قربِ قیامت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے ) ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پیشتر جب ان کا آسمان سے نزول ہوگا تو اہل کتاب ان کو دیکھ کر ان کو مانیں گے اور ان کے بارے میں اپنے عقیدے کی تصحیح کریں گے۔

حدیث نبوی[ترمیم]

حیات و نزول مسیح علیہ السلام کے متعلق احادیث درجہ تواتر کو پہنچتی ہیں۔ ان احادیث کا متواتر ہونا محمد انور شاہ کشمیری نے اپنی کتاب «التصريح بما تواتر في نزول المسيح» میں ثابت کیا ہے۔ چند احادیث پیش خدمت ہیں؛

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال : ( كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم (رواه البخاري ومسلم)

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا کہ جب عیسٰی ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔[1]

عن عبد اللّه بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلمَ: ينزل عيسى ابن مريم عليه السلام إلى الأرض فيتزوج ويُولَد له ويمكث خمسًا وأربعين سنة ثم يموت فيُدفن معي في قبري فأقوم أنا وعيسى ابن مريم من قبر واحدٍ بين أبي بكر وعمر[2] عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسٰی علیہ السلام زمیں پر اُتریں گے اور میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں اور مسیح ابن مریم، ابو بکر وعمر کے درمیان میں والی ایک ہی قبر سے اُٹھیں گے۔

عن الحسن مرسلاً قال: قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة[3]

امام حسن بصری سے مرسلاً روایت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہود سے فرمایا کہ عیسٰی علیہ السلام نہیں مرے وہ قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئیں گے۔

دیگر بہت سی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کے نزول کے وقت مسلمانوں کے امام، امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام اس ہدایت یافتہ امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح البخاری - نزول عيسى إبن مريم (ع) - أحاديث الأنبياء - رقم الحديث : 3193
  2. رواه ابن أبي الدنيا – كما عزاه إليه الذهبي في "ميزان الاعتدال" (2/562) - وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (2/915) وفي "المنتظم" (1/126) ، وفي "الوفا" (2/714) أيضا : من طريق عبد الرحمن بن زياد بن أنعم الإفريقي
  3. اخرجه ابن كثير في تفسير آل عمران

بیرونی روابط[ترمیم]