غازی احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پروفیسر غازی احمد کرشن لال سے غازی احمد بننے والے علاقہ ونہار کے نو مسلم جنہیں بہت قربانیاں دینی پڑیں۔

ولادت[ترمیم]

غازی احمد 2؍جون 1924ء کو چکوال کے ایک گاؤں میانی، تحصیل کلرکہار میں ایک ہندو پنڈت لالہ بھیم سین ولد لالہ جوالا سہائے کے گھر پیدا ہونے والا پہلا بچہ تھے۔

نام[ترمیم]

ایک پنڈت کی ہدایت پر بچے کا نام کرشن لال رکھا گیا تا کہ وہ ہری کرشن مہاراج (جو اپنے وقت کے اوتار تھے) کی طرح طبعی عمر پائے اور اس کے نقش قدم پر چلے۔

قبول اسلام[ترمیم]

غازی احمد جب چودہ برس کے ہوئے ، تو حضور اکرمﷺ نے عالم رُؤیا(خواب) میں انہیں مشرف بہ اسلام فرمایا۔ چنانچہ انہوں نے کرشن لال(کرشن لعل) سے غازی احمد نام رکھا۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بے شمار تکلیفیں اور اذیتیں برداشت کیں۔ وہ ثابت قدمی کا ثبوت دیتے ہوئے دینی اور دنیاوی تعلیمات حاصل کرتے رہے اور گورنمنٹ کالج بوچھال کلاں کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

پروفیسر غازی احمد نے تین ایم اے اور وہ بھی گولڈ میڈل کے ساتھ کیے۔ اس کے علاوہ درس نظامی، فاضل فارسی، ایم۔او۔ایل، بی ایڈ اور ایل ایل بی کی ڈگریاں اعزازات کے ساتھ حاصل کیں۔ انھوں نے اپنے قبول اسلام کی داستان ایک کتاب ’’من الظلمات الی النور) (کفر کے اندھیروں سے نورِ اسلام تک) کے نام سے تحریر کی جس کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے۔

وفات[ترمیم]

پروفیسر غازی احمد 25؍اگست 2010ء کو وفات پا گئے۔میانی کے قبرستان میں دفن ہیں۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. من الظلمات الی النور،غازی احمد الجامعۃ الاسلامیہ گجرات پاکستان