غازی اخون سالاک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سترھوئیں صدی سے قبل موجودہ پاکستان کے شمالی صوبے کے پہاڑی علاقوں میں ہندو اور سکھ بڑی تعداد میں آباد تھے۔ مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی ، مسلمان جو ان علاقوں میں آباد تھے وہ زیادہ تر ہندﺅں اور سکھوں کے ہاں غلامانہ زندگی گزار رہے تھے ۔ سترھوئیں صدی کے آخر میں افغانستان سے ایک لشکر جہاد کرنے کے غرض سے ان حسین پہاڑوں کی جانب نکلا ،جس کی قیادت اخون پنجو باباؒ سید عبدالوہاب ؒجن کا مرقد پشاور میں ہے کے مرید خاص غازی اخون سالاک رحمتہ اللہ علیہ کر رہے تھے ،غازی اخون سالاک جن کا اصل نام عبدالاکبر ؒ ہے بعض مورخین نے آپ کا نام محمد اکبر اور کچھ نے سید اکبر لکھا ہے ، اکبر پر سب متفق ہے آپ درانی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو یوسفزئی قوم کی ذیلی ایک شاخ ہے۔ ایک سچے عاشق رسول ﷺ اور ایک نڈر مجاہد غازی اخون سالاک نے اپنے بھائی اخون سباک پیر عمر ؒجن کا مرقد مردان کے پاس رستم گجر گڑھی میں ہے کے ساتھ قندھار سے لشکر کشی کی اور پشاور تشریف لائے، پشاور جس کا پرانا نام پرش پورا تھا۔ غازی اخون سالاک بابا رحمہ اللہ نے ا پنے مرشد اخون پنجو بابا رحمہ اللہ سے ملاقات کی، جس کے بعد وہاں سے لشکر لے کر بونیر پر حملہ آور ہوئے۔ بونیر اور اس کے گردو نواح اس وقت ہندو سردار ڈوما کافر کے زیر سایہ تھے

ڈوما کافر ایک طاقتور سردار تھا۔ گر چہ وہ ہندو تھا، مگر ان کی فوج میں ایک بڑی تعداد سکھوں کی بھی تھی۔ 1614عیسوی میں غازی اخون سالاک بابا رحمہ اللہ کی قیادت میں مسلمانوں نے ایک زبردست حملہ کر کے ڈوما کافر اور اس کی فوج کو شکست دی اور بونیر میں اسلامی پرچم لہرایا جبکہ بعض تاریخ دانوں کے مطابق ڈوما کافر کو باکوخان نامی ایک مسلمان سردار نے شکست دی تھی مگر ان تاریخ دانوں نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ڈوما کافر کو شکست دینے میں باکو خان نے غازی اخون سالاک ؒکی مدد حاصل کی تھی۔ بونیر کو فتح کرکے غازی اخون سالاک نے کچھ عرصہ بونیر کے ایک” گاﺅں کوریا “میں قیام کیا ۔ جس کے بعد آپ ؒ نے لشکر لے کر ہزارہ کی جانب کوچ کیا اور راستے میں کئی سارے گاﺅں اور دیہات فتح کرتے ہوئے کوہستان تک پہنچ گئے۔ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کمزوریوں اور مختلف بیماریوں نے جکڑ لیا تو واپسی کی راہ لی ، بونیر واپس آتے ہوئے راستے میں ایک چھوٹے سے دیہات میں قیام پزیر ہوئے ، یہیں وہ علاقہ ہے جس کو آج کابلگرام کہا جاتا ہے۔ واضح رہے ڈوما کافر کے علاوہ غازی اخون سالاک نے اور بھی کئی بڑی فتوحات حاصل کی ہیں مثلاً موجودہ ضلع شانگلہ ،تورغر اور سوات کے کئی سارے علاقوں پر اسلامی پرچم لہرایا۔ اگر ان کے جہادی خدمات پر تفصیلاً روشنی ڈالی جائے تو ایک زخیم کتاب بن جائے گی۔

غازی اخون سالاک سے اخون خیل قوم تک[ترمیم]

آپ کا تعلق درانی قوم سے تھا ، درانی قوم جو یوسفزئی قوم کی ایک شاخ ہے ، جس طرح درانی یوسفزئی قوم کی شاخ ہے۔ اسی طرح اخون خیل قوم درانی قوم کی ایک شاخ ہے۔ اخون سالاک بابا ؒ کے بعد ان کی اولاد کو درانی کی بجائے اخون خیل کہا جانے لگا۔ اخون سالاک بابا رحمہ اللہ کے چارفرزند تھے، اخون عبدالرحمن بابا ، اخون اشرف بابا اخون جمال بابا اور خدوخیل بابا ، انہی چاروں بیٹوں سے اخون سالاک بابا رحمہ اللہ کی نسل چلی آرہی ہے۔ اخون خیل صرف غازی اخون سالاک بابا ؒ کی اولاد کو نہیں کہا جاتا بلکہ اخون درویزہ بابا کی اولاد کو بھی کہا جاتا ہے ، اخون درویزہ اور غازی اخون سالاک بابا ؒ ایک ہی وقت کے بزرگ تھے ، اخون درویزہ پیر باباؒ بونیر والے کے مرید اور اخون سالاک بابا ؒ اخون پنجو بابا ؒ پشاور والے کے مرید تھے ۔ اخون درویزہ بابا صوفیانہ طرز کے بزرگ اور قوم سے فارسی بان تھے، جبکہ اخون سالاک باباؒ جہادی عالم تھے اور قوم سے درانی پٹھان تھے۔

آپ کی اولاد[ترمیم]

اخون سالاک بابا ؒ کے بڑے بیٹے اخون اشرف بابا کی اولاد ہزارہ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں آباد ہے ، جو باوجود پختون ہونے کے زیادہ تر ہندکو زبان بولتے ہیں۔ ان کو وہاں کے لوگ سید بھی کہتے ہیں اور میاں گان بھی ، اخون اشرف بابا کی قبر بھی کابلگرام میں ہی ہے۔ اسی طرح اخون عبدالرحمن بابا کی اولاد شانگلہ کے مختلف علاقوں مثلاً کابلگرام، ماندوریا، مارتونگ ، اس کے ساتھ دیر کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں ، دیر کے نواب بھی اخون عبدالرحمن بابا کے پوتے اخون رشید بابا پاچا بابا کے نسل میں سے تھے، اخون عبدالرحمن بابا کی مرقد بھی اپنے والد کے مرقد کے برابر میں واقع ہے۔ اخون عبدالرحمن بابا کی اولاد کو اخون خیل ہی کہا جاتا ہے۔ تیسرے بیٹے اخون جمال بابا جن کا مزار سوات بری کوٹ میں ہے ، ان کی اولاد سوات، چارسدہ، مردان اور صوابی کے مختلف علاقوں میں آباد ہے ، ان کی اولاد کو زیادہ تر لوگ میاں گان کہتے ہیں۔ چوتھے بیٹے خدوخیل بابا جن کی اولاد انزر میرہ ،شیدے سر اور بونیر کے کچھ علاقوں میں آباد ہیں ، انہیں مقامی لوگ اخون خیل یا میاں گان کہتے ہیں

حوالہ جات[ترمیم]