غازی علم الدین شہید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غازی علم الدین شہید
160px
عربیغازي إلمودين شهيد
ہدایت کارحیدر
دیدار احمد
پروڈیوسرحیدر
تحریرحزیں قادری
ماخوذ ازشہر لاہور میں 1929ء کا سچا واقعہ
ستارے
راویمحمد شفیق
موسیقیماسٹر عبداللہ
سنیماگرافیادریس لودھی
ایڈیٹرعاشق علی حجرہ شاہ مقیم
تقسیم کارجی ایس اینڈ کمپنی
تاریخ نمائش
دورانیہ
2:17:30 دقیقہ
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
زبانپنجابی

غازی علم الدین شہید (انگریزی: Ghazi Ilmuddin Shaheed) پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ اس فلم كو 5 ستمبر، 1978ء كو پاکستان میں ریلیز ہوئى۔ پاکستانی اس فلم کا کریکٹر سوانحی فلم کی تکمیل کی گئی تھی۔ یہ فلم باکس آفس میں سپرہٹ ہوئی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر حیدر تھے۔ کہانی حزیں قادری نے لکھی تھی۔ اس فلم میں غازي علم دين شہيد کا کردار حیدر نے نبھایا، غازی عبدالعزیز خان کا کردار بدر منیر نے نبھایا، غازی خدابخش کا کردار اقبال حسن نے نبھایا اور راج پال کا کردار افضال احمد نے نبھایا تھا۔ لاہور کے ایک ناشر راج پال نے بدنام زمانہ کتاب شائع کی۔ جس پر مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہو گیا۔ مسلمان رہنماؤں نے انگریز حکومت سے اس دل آزار کتاب کو ضبط کرانے اور ناشر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔مجسٹریٹ نے ناشر کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ جس کے خلاف مجرم نے ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے اس کو رہا کر دیا۔ انگریز حکومت کی عدم توجہی پر مایوس ہوکر مسلمانوں نے متعدد جلسے جلوس منعقد کیے۔ مگر انگریز حکومت نے روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کرکے الٹا مسلمان رہنماؤں کو ہی گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں میں یہ احساس جاگزیں ہونے لگا کہ حکومت وقت ملعون ناشر کو بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ کہ اس ملعون کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ان کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔

سٹوری[ترمیم]

فلم کی کہانی اس سچے واقعہ پر بنائی گئی ہیں لاہور کے ایک غازی خدابخش نے 24 ستمبر 1928ء کو اس گستاخ کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا تاہم یہ بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگيا۔ غازی خدابخش کو گرفتاری کے بعد 7 سال کی سزاسنائی گئی۔ افغانستان کے ایک غازی عبدالعزیز خان نے لاہور آکر اس شاتم رسول کی دکان کا رخ کیا مگر یہ بدبخت دکان میں موجود نہیں تھا اس کی جگہ اس کا دوست سوامی ستیانند موجود تھا۔ غازی عبد العزیز نے غلط فہمی میں اس کو راج پال سمجھ کر اس پر حملہ کر کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ غازی عبد العزیزکو حکومت وقت نے چودہ سال کی سزا سنائی۔ راج پال ان حملوں کے بعد نہایت خوفزدہ رہنے لگا۔ حکومت نے اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے دو ہندو سپاہیوں اور ایک سکھ حوالدار کو اس کی حفاظت پر متعین کر دیا۔ راج پال کچھ عرصے کے لیے لاہور چھوڑ کر کاشی، ہردوار اور متھرا چلا گیا مگر چند ماہ بعد ہی واپس آگیا اور دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ غازی علم دین کی غیرت ایمانی نے یہ گوارا نا کیا کہ یہ ملعون اتنی آسانی سے بچ نکلے آپ نے اس کو اس کے انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ نے 29 اپریل 1929ء کو راج پال کی دکان کا رخ کیا۔ اس وقت یہ ملعون اپنی دکان پر ہی موجود تھا۔ آپ نے اس کو للکارتے ہوئے کہا "اپنے جرم کی معافی مانگ لو اور اس دل آزار کتاب کو تلف کردو اور آئندہ کے لیے ان حرکات سے باز رہو" راج پال نے اس کو گیدڑ بھپکی سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ اس پر آپ نے ایک ہی بھرپور وار میں اس بدبخت کا کام تمام کر دیا۔ اس کی دکان کے ایک ملازم نے قریبی تھانے انارکلی کو خبر دی جس پر پولیس نے آپ کو گرفتار کر لیا۔ آپ اس واقعہ کے بعد نا صرف مکمل پرسکون رہے بلکہ آپ نے فرار ہونے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی۔ آپ نے اس کارروائی کا اعتراف کیا اور گرفتاری پیش کردی۔ مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئس کی عدالت میں پیش ہوا جس نے ملزم پر فرد جرم عائد کر کے صفائی کا موقع دیے بغیر مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کر دیا۔ آپ کی جانب سے سلیم بارایٹ لا پیش ہوئے جنھوں نے آپ کے حق میں دلائل دیے مگر نیپ نامی انگریز جج نے آپ کو مورخہ 22 مئی 1929ء کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ مسلمانان لاہور نے فیصلہ کیا کہ کہ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے اور اس مقدمے میں غازی کی وکالت کے لیے شہرہ آفاق وکیل محمد علی جناح کو نامزد کیا جائے۔ چنانچہ محمد علی جناح بمبئی سے لاہور تشریف لائے ان کی معاونت جناب فرخ حسین بیرسٹر نے کی۔ 15 جولائی 1929ء کو ہائی کورٹ کے دو جج نے فیصلہ سناتے ہوئے سیشن کورٹ کی سزا کو بحال رکھا۔ اور غازی کی اپیل خارج کردی۔ اپیل خارج ہونے کی اطلاع جب جیل میں غازی کو ملی تو آپ مسکرا کر فرمایا " شکر الحمداللہ ! میں یہی چاہتا تھا۔ بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں سڑنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ کر ناموس رسالت پر اپنی جان فدا کرنا موجب ہزار ابدی سکون و راحت ہے" مسلمان عمائدین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لندن کی پریوی کونسل میں اپیل دائر کی۔ اس اپیل کا مسودہ محمد علی جناح (جو بعد میں قائد اعظم کہلائے) کی زیر نگرانی تیار کیا گیا۔ مگر انگریز حکومت جو ایڈیشنل سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ تک مسلم دشمنی کا مسلسل مظاہرہ کرتی آئی تھی نے اس اپیل کو بھی رد کر دیا۔ 31 اکتوبر 1929ء بروز جمعرات کو میانوالی جیل میں آپ کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

کردار[ترمیم]

ساؤنڈ ٹریک[ترمیم]

فلم کی موسیقی ماسٹر عبداللہ نے ترتیب دی، فلم کے نغمات حزیں قادری نے گیت لکھے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل ایم ظفر انہوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نورجہاں، مسعود رانا، ایم اقبال اور ایم صادق نے گیت گائے۔ پلاننٹ لولی ووڈ کے بہترین ساؤنڈ ٹریک میں شامل کیا ہے۔

نمبر۔عنوانطوالت
1."لاکھ آئیب مینو اکو سیفت میری کرن عشق محمد.."
2."اے بندے نبی تئے رکھ ایمان.."
3."اج منگ لو جو کوجھ منگنا جے، اے رات مرادں والی اے"
کل طوالت:10:23

بیرونی روابط[ترمیم]