غازی محمود دھرمپال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غازی محمود دھرمپال اصل نام عبدالغفور تھا۔[1] ہندو بنا 11 برس بعد پھر مسلمان ہوا۔ 3 فروری 1882ء میں ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوا۔ انیسویں صدی کے آخری سالوں میں پنجاب میں مختلف مذاہب کے مابین جاری مناظرانہ مناقشوں کی تاریخ میں مشہور ہے۔[2] عبدالغفور عرف غازی محمود دھرمپال[3] گوجرانوالہ میں اسکول میں معلم اور بعد میں ہیڈ ماسٹر بھی تھا۔انگلش،سنسکرت کے ساتھ ساتھ عربی فارسی،اردو اور ہندی میں مہارت رکھتا تھا۔  وہ پہلے دیو سماج پھر آریہ سماج سے منسلک ہو گیا_ آریہ سماجی بننے کے بعد دھرم پال نام اختیار کیا اور اسلام کے خلاف کئی کتابیں لکھیں. "ترک اسلام" میں اسلام ترک کرنے کی 114 وجہ لکھیں تو نخل اسلام میں اسلام میں جنگلی پن دکھانے کی کوشش کی۔ ان دونوں کتابوں کے جوابات کی کتب دلچسپ و اس موضوع پر معلومات سے بھرپور ہونے کی وجہ سے مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔

اکثر كتب میں کم و بیش اسلام کے خلاف وہی دلائل دوہرائے گئے تھے جو آریا سماج کے بانی سوامی دیانند اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں قبل ازیں دے چکے تھے۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری جو "حق پرکاش بجواب ستیارتھ پرکاش" اور مقدس رسول بجواب رنگیلا رسول" سے بہت مشہور ہو چکے تھے نے بھی انکی اکثر کتابوں کا جواب دیا_

دوبارہ مسلمان کیوں ہوا؟[ترمیم]

دوبارہ مسلمان ہونے کی وجہ بنی ان کی بیوی گیان دیوی[4] جو برہمن آریہ تھی سے ان کی شادی کو جب ناجائز کہا گیا تب قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے دھرم پال کی رہنمائی کی، حمایت کے لئے آگے آئے۔ تسلی بخش جواب و پیار ملنے پر دھرم پال ان کے ہاتھ پر دوبارہ مسلمان ہوگیا۔ پھران کی بیوی محمود النساء اور وہ غازی محمود دهرمپال نام سے جانا گیا۔ نئے رہنما کے نام پر اپنی بیٹی کا نام منصورہ رکھا۔

مولانا ثناءالله امرتسری اور دیگر علماء سے 11برس کےبحث و مباحثہ سے اور پختہ ہو کردوبارہ مسلمان ہونے پر لکھنے پڑھنے کا کام جاری رکھا پھر آریہ سماج پر کئی مشہور کتابیں لکھیں۔

تصنیفات[ترمیم]

  • داستانِ غم
  • ریشنلزم اور اسلام[5]
  • وید اور سوامی دیانند[6]
  • بت شکن [7]
  • کفر توڑ [8]
  • سر توڑ
  • ترک اسلام
  • نخل اسلام
  • جڑ مار

آریہ دھرمپال کی کتب پر تنقید[ترمیم]

وفات[ترمیم]

دھرم پال ہند پاک تقسیم کے وقت نقل مکانی کرکے پاکستان میں بس گیا۔ 18 مارچ 1960ء (19 رمضان 1379ھ) میں وفات پائی۔

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. غازی محمود دھرمپال http://nyazamana.com/2018/02/dharm-pal-abdul-ghafoor/
  2. RELIGIOUS CONTROVERSIES IN THE PUNJAB: THE 'APOSTASY' OF GHAZI MEHMUD DHARAMPAL https://www.scribd.com/doc/58962837/Ghazi-Mehmud-Dharmpal-Ex-Arya-Pandit-english/
  3. The forgotten flippant http://www.dawn.com/news/1197621/
  4. "قاضی محمد سلیمان منصور پوری"تالیفِ:محمد اسحاق بھٹی۔سولھواں باب قاضی صاحب اور غازی محمود دھرم پال https://mail.kitabosunnat.com/kutub-library/qazi-muhammad-suleman-mansor-puri/
  5. ریشنلزم اور اسلام https://www.rekhta.org/ebooks/rationalism-aur-islam-ghazi-mahmood-dharampal-ebooks?lang=ur/
  6. وید اور سوامی دیانند https://archive.org/details/ved-aur-swami-dayananda-mehmood-dharmpal-ghazi-urdu/
  7. بت شکن https://archive.org/details/62075450ButShikan/
  8. کفر توڑ https://www.scribd.com/doc/58878604/kufr-tod-ghazi-mehmud-dharmpal-arya-pandit-Ex/
  9. ترک اسلام از مولانا ثناء اللہ امرتسری https://www.scribd.com/document/41806300/Turk-e-Islam-Sanaullah-Amratsari/
  10. طبر اسلام از مولانا ثناء اللہ امرتسری https://www.scribd.com/document/41845917/Tabrra-e-Islam-Sanaullah-Amratsari
  11. نُورْ، نُورْ الدِّین (2008). بجواب تَرکِ اسلام (ایڈیشن ebook). online: احمدی. صفحہ 342.