غرر الحکم و درر الکلم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غُرَرُ الحِکَم و دُرَرُ الکَلِم علی بن ابی طالب کے کلمات و اِقتباسات کا مجموعہ ہے جسے پانچویں صدی ہجری کے مشہور شیعہ عالم قاضی ناصح الدین ابوالفتح آمدی (متوفی 510ھ مطابق 1116ء)نے جمع کیا تھا۔ یہ کتاب مشہور شیعی کتبِ حدیث میں شامل ہے جس میں مؤلف نے اقوال و اقتباسات کو حروف تہجی کی ترتیب سے جمع کیا ہے۔ اِس کتاب کے متعدد تراجم، خلاصہ جات اور موضوعی فہارس منظر عام پر آچکی ہیں۔اِس کتاب میں جمع کردہ اقوال کی تعداد  10760 ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اِس کتاب کے مؤلف قاضی ناصح الدین ابو لفتح عبدالواحد بن محمد بن عبدالواحد تمیمی الآمدی (متوفی 510ھ مطابق 1116ء) ہیں۔[1] علامہ آمدی قاضی تھے اور شہر آمد میں منصبِ قضاوت پر فائز تھے۔[2] آپ کے متعلق زیادہ حقائق یا معلومات فراہم نہیں ہوسکیں، البتہ اِن کی ایک اور تصنیف بنام ’’جواہر الکلام فی الحکم والاحکام من قصہ سید الانام‘‘ سے ملتی ہے۔[3]

مقصد تالیف[ترمیم]

1299ھ میں خطاط رجب علی ابن احمد کی خطاطی کا نسخہ غرر الحکم۔

مؤلف علامہ آمدی نے یہ اِرادہ اُس وقت کیا جب وہ جاحظ کی کتاب مائۃ کلمۃ الجاحظ کا مطالعہ کر رہے تھے۔اِس کتاب کی تالیف کے متعلق علامہ آمدی نے خود کتابِ ہٰذا کے مقدمہ میں یہ وجہ بیان کی ہے کہ:

  • ’’میں اپنی تمام تر مصروفیات، اہل کمال کے صف میں شامل نہ ہونے میں اپنی کوتاہیوں، صدرِ اسلام کے علما نے جن چیزوں کا ہم سے مطالبہ کیا تھا اور اِس راہ میں قدم رکھا تھا، کو دریافت کرنے اور اُن کے ساتھ علم کے سمندر میں ہاتھ پاؤں مارنے میں اپنی عجز اور ناتوانی اور اُن کے مقابلے میں اپنی کم مایگی کا اعتراف کرنے کے باوجود عزم بالجزم کیا ہوں کہ جہاں تک میری کوتاہ فکری پہنچ سکے، حضرت علی ابن ابی طالب کے گہربار کلمات کو جمع کروں گا۔‘‘[4]

متن[ترمیم]

یہ کتاب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کلمات و اقتباسات پر مشتمل ہے جسے مؤلف علامہ آمدی نے نہج البلاغہ، مائۃ کلمۃ الجاحظ، تحف العقول اور دستور معالم الحکم جیسی کتب سے جمع کیا ہے۔مؤلف نے اِس کتاب کو ہر قول کے ابتدائی حرف کے مطابق حروف تہجی کے اعتبار سے 91 ابواب میں مرتب کیا ہے اور کسی خاص موضوع کے متعلق موجود قول کو با آسانی تلاش کرنے کی خاطر اِس کتاب کو بعد میں موضوع کے لحاظ سے بھی منتشر کیا ہے۔ غرر الحکم کے فرامین موضوع کے اعتبار سے عام ہیں ، جن میں اعتقادی، اِخلاقی، عبادت سے متعلق، اجتماعی اور سیاسی موضوعات بھی شامل ہیں۔ اقوال و اِقتباسات کو بغیر سند کے ہی ذِکر کیا گیا ہے اور علامہ آمدی نے کتاب کے مقدمہ میں اسناد کو حذف کرنے کی عِلَّت کی طرف اِشارہ بھی کیا ہے۔

شرح[ترمیم]

غرر الحکم پر لکھی گئی واحد شرح آقا جمال خوانساری کی ہے جو اُنہوں نے شاہ سلطان حسین صفوی کی درخواست پر لکھی تھی۔ یہ شرح اقوال و اقتباسات کے لغوی معنی اور مفاہیم کی توضیح کے علاوہ علم الکلام، حدیث، اخلاق، تفسیر، فقہ اور فلسفہ کے مختلف مسائل کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔ اِس شرح کو اِنتشارات دانش گاہِ تہران نے سید جلال الدین محدث اُرمَوِی کے مقدمہ، تصحیح اور تعلیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آقا بزرگ تہرانی: الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، جلد 16، صفحہ 38۔ مطبوعہ قم، 1408ھ
  2. سید حسن امین: مستدرکات اعیان الشیعہ، جلد 6، صفحہ 326۔ مطبوعہ بیروت، 1408ھ
  3. میرزا عبد اللہ آفندی: ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، جلد 3، صفحہ284۔ مطبوعہ قم، 1401ھ
  4. علامہ آمدی: غرر الحکم و درر الکلم، ترجمہ اُردو، صفحہ 28/29۔ مطبوعہ کراچی، 1408ھ