غزوہ بدرالصغری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بدر ثالثہ / بدرالموعد
عربی:بدر الآخرہ
بسلسلہ غزوات نبوی
غزوہ بدر ثالثہ.JPG
نقشہ مقام بدر ثالثہ
تاریخ ذیقعد 4 ہجری
جنوری، 626ء
مقام بدر
نتیجہ
  • محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 8 دن بدر میں ٹھہرے رہے، مگر دشمن مقابلے میں نہ آیا
  • ابو سفیان اور اس کی فوج خوف سے فرار ہو گئی
[1]
شریک جنگ
مسلمان قریش
سپہ سالار و رہنما
محمد
حمزہ ابن عبدالمطلب
علی ابن ابی طالب
ابو سفیان
طاقت
1500 افراد اور 10 گھوڑ سوار[2] 2000 پیدل فوج اور 50 گھوڑ سوار[2]

وجہ تسمیہ[ترمیم]

اسےغزوہ بدرالموعد(وعدہ کی جگہ) (عربی:بدر الآخرہ،یا بدرالصغرٰی کہتے ہیں)

پس منظر[ترمیم]

جنگ ِ اُحد سے لوٹتے وقت ابو سفیان نے کہا تھا کہ آئندہ سال بدر میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا۔

واقعات[ترمیم]

شعبان یا ذوالقعدہ 4 ھ میں مسلمانوں اور ابو سفیان جو تب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کے لشکرمقابلے کے لئے تیار ہو کر نکلے حضور ﷺمدینہ کے نظم و نسق کا انتظام عبداﷲ بن رواحہ کے سپرد فرما کر لشکر کے ساتھ بدر میں تشریف لے گئے۔ آٹھ روز تک کفار کا انتظار کیا ادھر ابو سفیان بھی فوج کے ساتھ چلا،ایک منزل چلا تھا کہ اس نے اپنے لشکر سے یہ کہا کہ یہ سال جنگ کے لئے مناسب نہیں ہے ۔کیونکہ اتنا زبردست قحط پڑا ہوا ہے کہ نہ آدمیوں کے لئے دانہ پانی ہے نہ جانوروں کے لئے گھاس چارا،یہ کہہ کر ابو سفیان مکہ واپس چلا گیا،گویاابو سفیان ڈر کر لوگوں کو واپس لے گئے۔

نتا‏ئج[ترمیم]

مسلمانوں کے پاس کچھ مال تجارت بھی ساتھ تھاجب جنگ نہیں ہوئی تو مسلمانوں نے تجارت کرکے خوب نفع کمایااورمدینہ واپس چلے آئے۔ [3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Rahman al-Mubarakpuri، Saifur (2005)، The Sealed Nectar، Darussalam Publications، صفحہ 192 
  2. ^ 2.0 2.1 Muir، William (1861)، The life of Mahomet، Smith, Elder & Co، صفحات 220–222 
  3. مدارج النبوۃجلد2 ص151