غزوہ بنی نضیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(غزوہ بنو نضیر سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بنی نصیر فلسطین کے باشندے تھے۔ 132 ء میں رومیوں کی سخت روی کی وجہ سے یہودیوں کے چند قبائل جن میں میں بنی نضیر اور بنو قریظہ شامل تھے فلسطین کو چھوڑ کر یثرب میں آکر آباد ہوگئے۔ بنی نضیر مدینہ میں قباء کے قریب مشرقی جانب آکر آباد ہوگئے تھے۔ اس وقت مدینہ میں عرب قبائل میں سے بنی اوس اور بنی خزرج ممتاز قبائل تھے یہ دونوں یہودی قبائل بنی نضیر اور بنو قریظہ اوس کے حلیف بن گئے۔ اور بنی اوس اور بنی خزرج کی باہمی لڑائیوں میں اول الذکر کا ساتھ دیتے رہے۔ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے ہر دو عرب قبائل اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی اور مسلم معاشرہ اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا ۔ لیکن یہودی قبائل اوع خاص کر بنی نضیر ہمیشہ منافقانہ رویہ اختیار کئے رہے۔ یہاں تک کہ 4 ھ میں انہوں نے رسول کریم ﷺ کے قتل کی سازش کی جس کا بروقت آپ کو علم ہوگیا۔ جس پر آپ نے ربیع الاول 4 ھ میں انہیں الٹی میٹم دے دیا۔ کہ پندرہ دن کے اندر اندر یہاں سے نکل جائیں۔ لیکن جب انہوں نے لڑائی کی ٹھان لی تو مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا جس پر وہ ملک شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔ بنی نضیر کو یہ گھمنڈ تھا کہ یہودی اور عرب قبائل کی مدد سے وہ مسلمانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ لیکن خدائی طاقت کے سامنے علیٰ رغم التوقع بہت جلد ان کو ہار مان کر اپنی بستی کو چھوڑ کر چلے جانا پڑا[1]یہودیوں کا ایک قبیلہ جو مدینہ منورہ کے نواح میں آباد تھا۔ یہ لوگ بار بار مسلمانوں سے عہد باندھتے اور پھر توڑ دیتے ایک موقع پر انھوں نے حضور ﷺ کے قتل کی سازش بھی کی لیکن بروقت مطلع ہو جانے پر آپ صاف بچ گئے۔ بنو نضیر کی وعدہ خلافیوں اور سازشوں سے تنگ آکر آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا جو پندرہ دن تک جاری رہا۔ بالآخر 4 ھ میں بنو نضیر نے صلح کے لیے التجا کی ۔ قرار پایا کہ وہ مدینہ خالی کر دیں۔ اور جو مال اسباب اٹھا کر لے جاسکتے ہوں لے جائیں۔ بنو نضیر یہاں سے اٹھ کر خیبر میں جا بسے ۔ انہی لوگوں نے قریش کو ایک بار پھر مدینے پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ جس میں قریش کے علاوہ دوسرے قبیلے بھی شریک ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تفسیر انوار البیان،محمد علی،سورۃالحشر، آیت2