غزوہ بنی قینقاع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غزوہ بنی قینقاع
بسلسلہ مسلم-یہود جنگیں
تاریخشوال (10) , 624 , 2 ہجری [1]
مقاممدینہ منورہ
نتیجہ بنو قینقاع کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا [1]
شریک جنگ
مسلمان مدینہ یہود مدینہ
سپہ سالار و رہنما
محمد صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن ابی
طاقت
نامعلوم 700 [2]
نقصانات
نامعلوم نامعلوم

مدینہ منورہ میں آباد یہودیوں کا ایک قبیلہ۔ نبی کریماللھمہ صل علٰی محمدﷺ آل محمدﷺ.jpeg نے مدینے کے یہودی قبائل سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کی صورت میں فریقین ایک دوسرے کی مدد کریں گے (دیکھیے: میثاق مدینہجنگ بدر کے موقع پر یہود نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور غیر جانبداری کا اعلان کر دیا۔ مسلمان اکیلے ہی مشرکین مکہ پر فتح حاصل کرکے مدینے واپس لوٹے تو یہودیوں کو اور ناگوار گزرا۔ حسد میں وہ مسلم دشمنی پر اتر آئے۔ مجبوراً مسلمانوں کو سب سے پہلے یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کو مدینے سے جلاوطن کرنا پڑا۔ یہ خیبر میں جا آباد ہوئے۔ مگر اسلام دشمنی سے پھر بھی باز نہ آئے۔ بدستور سازشوں میں مصروف رہے۔ اسلامی لشکر نے جنگ خیبر میں ان کی سرکوبی کی۔ رمضان2 ھ میں حضور ﷺ جنگ ِ بدر کے معرکہ سے مدینہ واپس لوٹے۔ اس کے ایک مہینے بعدہی 15 شوال 2ھ میں غزوہ بنی قینقاعکا واقعہ درپیش ہوا۔ بدر کے بعد یہودیوں نے شر و عداوت کا مظاہرہ کیا مدینہ کے اطراف میں یہودیوں کے تین بڑے بڑے قبائل آباد تھے۔بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ۔ ان تینوں سے مسلمانوں کا معاہدہ تھا مگر جنگ ِ بدر کے بعد جس قبیلہ نے سب سے پہلے معاہدہ توڑا وہ قبیلہ بنو قینقاع کے یہودی تھے جو سب سے زیادہ بہادر اور دولت مند تھے۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک برقع پوش عرب عورت یہودیوں کے بازار میں آئی، دکانداروں نے شرارت کی اور اس عورت کو ننگا کر دیا اس پر تمام یہودی قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے، عورت چلائی تو ایک عربی آیا اور دکان دار کو قتل کر دیا اس پر یہودیوں اور عربوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔ حضور ﷺکو خبر ہوئی تو تشریف لائے اور یہودیوں کی اس غیر شریفانہ حرکت پر ملامت فرمانے لگے۔ اس پر بنوقینقاع کے خبیث یہودی بگڑ گئے اور بولے کہ جنگ ِبدر کی فتح سے آپ مغرور نہ ہو جائیں مکہ والے جنگ کے معاملہ میں بے ڈھنگے تھے اس لیے آپ نے ان کو مار لیا اگر ہم سے آپ کا سابقہ پڑا تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جنگ کس چیز کا نام ہے؟ اور لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں؟ جب یہودیوں نے معاہدہ توڑدیا تو حضور ﷺ نے نصف شوال 2 ھ پیر کے دن ان یہودیوں پر حملہ کر دیا۔ یہودی جنگ کی تاب نہ لا سکے اور اپنے قلعوں کا پھاٹک بند کرکے قلعہ بند ہو گئے مگر پندرہ دن کے محاصرہ کے بعد بالآخر یہودی مغلوب ہو گئے اور ذی القعدہ کے چاند رات کو یہودی ہتھیار ڈال دینے پر مجبور ہو گئے۔ حضور ﷺ نے صحابۂ کرام کے مشورہ سے ان یہودیوں کو جلاوطن کر دیا اور یہ عہد شکن،بدذات یہودی ملک شام کے مقام اذرعات میں جاکر آباد ہو گئے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://military.hawarey.org/military_english.htm
  2. Watt (1956), pg. 209-10
  3. سیرتِ مصطفی،مؤلف عبد المصطفیٰ اعظمی،صفحہ 245،ناشرمکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی