غضنفر علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پروفیسر غضنفر علی
پیدائش 1953ء
گوپال گنج، بہار (بھارت)، انڈیا
رہائش نئی دہلی، صوبۂ دہلی
اسمائے دیگر غضنفر علی
پیشہ ادب سے وابستگی
وجہِ شہرت شاعری
مذہب اسلام

غضنفر علی: پروفیسر غضنفر علی، ایک مشہور ناول نگار، کہانی کار اور شاعر ہیں۔ گوپال گنج بہار میں 1953ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا تازہ ترین مجموعہ کلام "آنکھ میں لکنت" فروری 2015 میں شائع ہوا ہے۔ غضنفر صبح کی سیر کو قرطاس و قلم سے لیس ہو کر نکلتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کہیں بھی کسی بھی وقت تخیلاتی آمد کا امکان ہے۔ وہ اس وقت اکادمی برائے فروغ استعداد اردو اساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے ڈائریکٹر ہیں اور شاہین باغ (دہلی) میں قیام پزیر ہیں۔[1]

"غضنفر" عصری اردو دنیا کا ایک مشہور و معتبر نام ہے[ترمیم]

جامعہ ملیہ دہلی کے فیکلٹی ممبر پروفیسر غضنفر علی اس وقت "اکیڈمی آف پروفیشنل ڈیولپمنٹ برائے اردو میڈیم ٹیچرز، جامعہ ملیہ اسلامیہ" کے ڈائریکٹر ہیں۔[2] غضنفر نے اپنے ناول "پانی" کے ذریعے 1989 میں اردو دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی تھی۔

ادبی سفر[ترمیم]

پروفیسر غضنفر علی کاقلمی نام غضنفر ہے۔ آپ اکادمی برائے فروغ استعداد اردواساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے ڈائریکٹر ہیں اور تدریسی عمل کے ساتھ ساتھ تخلیقی کام بھی 1971 سے برابر انجام دے رہے ہیں۔ ان کی کئی تصانیف شائع ہو چکی ہیں اور اردو حلقوں میں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ 1971 میں "کوئلے سے ہیرا" نام سے ان کاپہلا ڈراما شائع ہوا تھا، اس کے بعد سے ان کی کتابیں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔ اب تک ان کے آٹھ ناول منظر عام پر آ چکے ہیں، ناولوں کے علاوہ تین تصانیف تنقید پر، ایک تصنیف درس و تدریس پر، ایک ڈراما، ایک خاکوں کا مجموعہ اور ایک افسانوی مجموعہ اشاعت کی راہ سے گزر کرقارئین کے دل و دماغ میں اپنامقام بنا چکے ہیں۔ اور اب غضنفر صاحب کا نواں ناول "مانجھی" جلوہ گر ہوا ہے، جو مذہب، آستھا، معاشرت اور سیاست کی تازہ صورت حال کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ امید ہے کہ ان کا یہ ناول بھی ان کے دیگر ناولوں کی طرح پزیرائی کی حدود سے ہمکنار ہوگا اور قارئین کے دل و نگاہ میں اتر جائے گا۔

تصانیف[ترمیم]

  • مشرقی معیار نقد (تنقید) - 1978* زبان و ادب کے تدریسی پہلو - پہلا ایڈیشن: 1996* تدریس شعر و شاعری - 2004
  • لسانی کھیل - 2007
  • اردو بھارتی برائے جماعت دہم (کرناٹک اسکول ایجوکیشن) (اشتراک) - 2007* ابتدائی اردو برائے جماعت چہارم (این سی ای آر ٹی) - 2007
  • پانی (ناول) - 1989
  • آسان اردو قواعد (گرامر) - 1984
  • کینچلی (ناول) - 1994
  • کہانی انکل (ناول) - 2001
  • دویہ بانی (ناول) - 2002
  • فسوں (ناول) - 2003
  • مم (ناول) - 2007
  • وش منتھن (ناول) - 2004
  • حیرت فروش (کہانیوں کا مجموعہ) - 2006
  • شوراب (ناول) - 2010
  • تدریس نامہ (جرنل) - 2009
  • سرخ روح
  • مانجھی (ناول) - 2012* فرہنگ مرکبات غالب

ونیز۔[ترمیم]

مختلف رسائل و جرائد میں 73 علمی و تحقیقی مضامین کی اشاعت 30 سے زائد قومی و علاقائی سمینار و کانفرنسوں میں مقالوں کی پیشکشی

زیرطبع تصانیف[ترمیم]

  • ایڈوانس اردو ریڈر
  • ہندی اردو ڈکشنری
  • شبلی کے تنقیدی نظریات (تنقید)
  • ڈکشنری آف سوشیو کلچرل آئٹمز
  • خواب کے پاؤں (مجموعہ کلام)
  • اکادمی پروگرام اور نصاب (برائے 'فروغ استعداد اردو اساتذہ اکادمی، جامعہ ملیہ اسلامیہ'، نئی دہلی)

اعزازات و انعامات[ترمیم]

  • تخلیقی ذہانت ایوارڈ (نیا سفر اردو میگزین، دہلی)
  • ناول "پانی" پر اترپردیش اور بہار اردو اکادمی کا انعام
  • ناول "کینچلی" پر اترپردیش اردو اکادمی کا انعام* ناول "کہانی انکل" پر اترپردیش اردو اکادمی کا انعام* ناول "دویہ بانی" پر بہار اردو اکادمی کا انعام
  • "تدریس شعر و شاعری" پر اترپردیش اردو اکادمی کا انعام
  • "حیرت فروش" پر اترپردیش اردو اکادمی کا انعام

احباب کی نظر میں[ترمیم]

جدید عہد کے ادیب، موصوف کی شخصیت اور ادب پر یوں اپنے خیالات پیش کرتے ہیں۔[1]

ڈاکٹر انجم لکھتے ہیں[ترمیم]

پیغام آفاقی کاناول "مکان"، 'دوگز زمین' کے ایک سال بعد یعنی 1989ء میں منظرِ عام پر آیا۔۔۔۔۔ غضنفر کا ناول "پانی" بھی اسی برس منظرِعام پرآیا۔ یہ ناول زبان و اسلوب، تکنیک اور پیش کش کے اعتبار سے مختلف تھا۔ علامتی پیرائے میں لکھے گئے اس ناول میں سماج کے ٹھیکیداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ غضنفر ناول لکھنے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ واقعے کے اجزاء کو سمیٹنا جانتے ہیں۔ موضوعات کے تنوع کو کس طرح سے بخشا جائے اور زبان کا جادو کس طرح جگایا جائے اس پر انھیں قدرت حاصل ہے۔ کسی بھی موضوع یا مسئلے کو آفاقی صداقت میں ڈھالنا یا مسئلے کو آفاقیت بخشنا انھیں بخوبی آتاہے۔ اس لیے کوئی بھی واقعہ محض انفرادی واقعہ نہیں رہتا ہے بلکہ اس میں اجتماعی سائیکی در آتی ہے۔ غضنفر کایہ ناول اساطیری پیش کش اور زبا ن و بیان کی وجہ سے کافی پسند کیا گیا۔ اس ناول کے بعد غضنفر نے ٹھہر کر پیچھے نہیں دیکھا اور اس کے بعد کینچلی،کہانی انکل،دویہ بانی،فسوں، وش منتھن، شوراب بھی منظرِ عام پر آئے۔ یہ ناول بھی پسند کیے گئے اور بحث کے موضوع بنے، لیکن مجھے غضنفر سے اب بھی ایک بڑے ناول کی امید ہے۔

تحسین منور اپنے مضمون میں لکھتے ہیں[ترمیم]

دیکھا جائے تو ہمارے یہاں اردو ناولوں کے معاملے میں چند ایک ہی نام ہیں جن میں غضنفر صاحب کا ایک الگ اور مخصوص مقام ہے۔ وہ ہماچل میں بیٹھ کر اُس وقت اردو کے لیے جو کچھ کر رہے تھے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا تھا۔۔۔۔ شگفتہ یاسمین نے تو آگے بڑھ کر ان کے فن کو بہتر طور پر پیش کر دیا ہے۔ وہ پیش لفظ میں لکھتی ہیں کہ ڈاکٹر صفدر امام قادری نے پٹنہ میں انھیں غضنفر صاحب کا ناول 'فسوں' پڑھنے کو دیا تھا۔ اس پر انھوں نے 'غضنفر اور عکسِ فسوں 'کے عنوان سے اپنے تاثرات لکھے جسے کافی سراہا گیا۔ اس کے بعد تنقیدی مضامین کا یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔

اور شگفتہ یاسمین اپنی کتاب میں لکھتی ہیں[ترمیم]

"غضنفر صاحب کی طبیعت میں ایک اضطرابی کیفیت ہے۔ وہ سیدھی لکیر پر چلنے اور چلتے رہنے کے قائل نہیں۔ وہ چیزوں کو discover کرنا چاہتے ہیں اور تحقیق و تلاش اور فکر وجستجو کی یہی آرزو انھیں دشت تو دشت دریاؤں میں بھی گھوڑے دوڑا دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ "

آخر میں علیگڑھ کے زیدی جعفر رضا اپنے اردو بلاگ "قلمکار" کی اپریل 2010 کی ایک تحریر میں اردو دنیا کی نامور شخصیات کو دوہوں کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اور غضنفر کے نام انہوں نے یہ دوہا معنون کیا ہے :

میاں غضنفر 'دویہ' ہیں، 'بانی' ہے انمول 'پانی' پانی مانگتا، 'کینچل' مانگے خول

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]