غفلت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جماعت بندی اور بیرونی ذرائع
آئی سی ڈی-10 T74.0

غفلت ایک قسم کا استحصال ہے جس میں وہ قصوروار جس پر کسی شخص کی دیکھ ریکھ لازم ہیں، اپنی ذمے داری سے منہ موڑتا ہے یا پھر اسے نبھانے میں ناکام ہوتا ہے۔

غفلت میں ممکن ہے کہ مناسب نگرانی، تغذیہ یا طبی دیکھ ریکھ فراہم کرنے میں ناکامی شامل ہو سکتی ہے یا اس میں ان ضروریات کی تکمیل میں ناکامی ہو سکتی ہے جسے متاثرہ شخص خود حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی اصطلاح اس وقت بھی مستعمل ہوتی ہے جب ضروری دیکھ ریکھ ان لوگوں کی جانب سے روکا جاتا ہے جو جانوروں، درختوں اور یہاں تک کہ غیر جاندار اشیاء کی دیکھ ریکھ کے ذمے دار ہیں۔ غفلت کسی نچے کی زندگی میں کئی طریقوں سے اثر انداز ہو سکتی ہے: جسمانی زخم، خود تعظیم کی کمی، توجہ کی بد نظمی، متشدد رویہ، یہاں تک کہ اس کا نتیجہ موت بھی ہو سکتی ہے۔[1]

قانونی تعریف[ترمیم]

انگریزی قانون میں غفلت فن کی اصطلاح ہے، جو (اب از کار رفتہ) مشابہ ہے عدم دیکھ ریکھ کے اور یہ تصورِ غافلانہ رویہ سے مختلف ہے۔ ایک ایک مقصد یہ ہے کہ یہ فیصلے کو ثابت کیا جائے کہ اچانک اور غیر توجیہی موت کی صورت میں وہ عوامل کا پتہ چلانا جن سے موت واقع ہوئی ہے۔ [2]

غفلت کے نتائج[ترمیم]

کئی قسم کی غفلتیں موجود ہیں مگر ان سب کے اثرات ہوتے ہیں، بھلے ہی وہ جسمانی ہوں یا دماغی۔ غفلت جسم پر اس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے کہ بچے کی نشو و نما اور صحت، کبھی کبھی دیر پا طبی مسائل رو نما ہو سکتے ہیں۔ غفلت کا شکار بچے اکثر قلت تغذیہ سے متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے نشو و نما غیر متوازن ہو سکتی ہے۔ مناسب تغذیہ جات کا نہ ملنا اختصاری نشو و نما پر نتجہ خیز ہو سکتا ہے اور ناکافی ہڈیوں اور اعصابی نشو و نما ہو سکتی ہے۔ دماغ کی کار کردگی اور معلومات کا استعمال بھی غفلت سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے رخوں کو سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے، سماجی رشتوں کی فہم کم زور ہو سکتی ہے یا تعلیمی سرگرمیوں کو کسی کی مدد کے بنا مکمل کرنا ناممکن ہو سکتا ہے۔[3] غفلت کے شکار نچے یا بالغ کئی بار ہڈیوں کے ٹوٹنے یا بری طرح سے جلنے سے رو نما چھالوں متاثر ہو سکتے ہیں جنہیں اکثر علاج کے مرحلے پر پہنچنے کا موقع نہیں ملتا، معتدی امراض، جوؤں یا اسی طرح کی علامات سے متاثر ہو سکتے ہیں جو دیکھ ریکھ کی کمی کا اشارہ ہیں۔ ایسے کئی جسمانی اثرات ہو سکتے ہیں جو غفلت کسی شخص پر چھوڑ سکتی ہے۔[4]

غفلت صرف جسمانی مسائل سے ہی جڑی نہیں ہے؛ اس کا اثر ایک شخص کی دماغی حالت پر بھی ہوتا ہے، جس میں ہم منصبوں سے خراب تعلقات سے لے کر تشدد آمیز رویہ شامل ہو سکتا ہے۔ نہ صرف رویہ بگڑ سکتا ہے، بلکہ لوگ جس طرح سے خود کو دیکھتے ہیں، اس سے کمزور خود تعظیم اور یہ احساس کہ وہ غیر مطلوب ہیں، پیدا ہو سکتا ہے۔ غفلت جواں سال بچوں میں نفسیاتی عواقب کے حساب سے اور گہری ہو سکتی ہے۔ والدین سے ناوابستگی بچوں کی اِلحاقی نشو و نما بگاڑ سکتی ہے اور والدین سے لگاؤ بچوں کی یہ توقع کو ہوا دے سکتا ہے کہ صورت حال سی طرح رہے گی جب وہ سن بلوغ کو پہنچیں گے (استحصال کا دور کچھ معاملوں میں بڑھے)۔ والدین کی محدود موجودگی کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ مسائل کی یکسوئی تناؤ سے بھری حالات سے جوجنے اور سماجی رشتوں میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ غفلت کے شکار بچوں کے مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ وہ حد سے زیادہ اداسی اور ناامیدی کی سطحوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس کے ساتھ خود کشی کی کوششوں کے بھی واقعات شامل ہوتے ہیں۔[5][6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Child Abuse and Neglect"۔ Long-term consequences of child Abuse and Neglect۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2011۔
  2. Lord Mackay of Clashfern (ed.) (2006) Halsbury's Laws of England, 4th ed. reissue, vol.9(2), "Coroners", 1035. Lack of care, neglect and self-neglect
  3. Deanna Pledge۔ "Neglect"۔
  4. Diane Depanfillis۔ "Child Neglect: A Guide for Prevention, Assessment and Intervention."۔
  5. Panel on Research on Child Abuse and Neglect, Commission on Behavioral and Social Sciences and Education, National Research Council۔ Understanding child abuse and neglect۔ Washington, D.C.: National Academy Press۔ آئی ایس بی این 0-585-02166-X۔
  6. "Analysis of Elder Abuse and Neglect Definitions Under State Law"۔ National Academy of Sciences۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 29، 2015۔ Check date values in: |access-date= (معاونت)