غلام جیلانی برق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غلام جیلانی برق
پیدائش 26 اکتوبر 1901
کنٹ تحصیل پنڈی گھیب ضلع اٹک
وفات
اٹک
دیگر نام

برق اور ڈھول دین [1]

[2]
علمی پس منظر
سال مقالہ 1940
علمی کام
بنیادی دلچسپی اسلامیات
قابل ذکر کام من کی دنیا، دو اسلام، دو قرآن

غلام جیلانی برق معروف عالم دین، ماہر تعلیم، دانشور، مصنف، مترجم اور شاعر 26 اکتوبر 1901ء کو کنٹ، پنڈی گھیب ضلع کیمبل پور (موجودہ، اٹک) میں پیدا ہوئے۔عربی، فارسی اور اردو میں اسناد فضیلت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی میں ایم اے کیا۔ 1940ء میں انہوں نے ابن تیمیہ پر تحقیقی مقالہ لکھ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے مختلف موضوعات پر چالیس کے لگ بھگ کتابیں تحریر کیں جن میں دو اسلام، دو قرآن، فلسفیان اسلام، مؤرخین اسلام، حکمائے عالم، فرمانروایان اسلام، دانش رومی و سعدی، بھائی بھائی، ہم اور ہمارے اسلاف اور میری آخری کتاب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔12 مارچ 1985ء کو ڈاکٹر غلام جیلانی برق اٹک میں وفات پاگئے اور قبرستان عیدگاہ میں دفن ہیں۔

ابتدائی زندگی و خاندان[ترمیم]

ڈاکٹر غلام جیلانی برق تحصیل پنڈی گھیب ضلع اٹک کے ایک گاؤں کنٹ میں ملک محمد قاسم شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ملک محمد قاسم شاہ کا تعلق اعوانوں کی مشہور گوت ”صدکال“ سے تھا۔ وہ محکمہ مال میں پٹواری تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو مذہبی اور اسکولی تعلیم دلوائی۔ ان کے پانچ بیٹے تھے جن میں سے تین (مولوی نورالحق علوی، پروفیسر غلام ربانی عزیز اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق) نےاپنے علمی اور ادبی مشاغل کی وجہ سے برصغیر پاک وہند میں شہرت پائی۔ مولوی نورالحق علوی اور پروفیسر غلام ربانی عزیز دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے۔ ڈاکٹر علام جیلانی برق نے بھی ابتدائی تعلیم اسلامی مدرسوں میں پائی لیکن اس کی تکمیل نہ کر سکے اور کالج اور جامعات میں جا پہنچے۔ ایم اے عربی اور فارسی میں کیا جبکہ ابن تیمیہ کے حالات و افکار پر انگریزی میں مقالہ لکھا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔یہ مقالہ ہی ان کی پہلی باقاعدہ تصنیف ہے۔ جس کا اردو ترجمہ چھپ چکا ہے، لیکن اصل انگریزی متن ابھی تک شائع نہیں ہوا۔

شجرۂ نسب[ترمیم]

ڈاکٹر برق صاحب نے خود اپنا شجرہ سرکاری دستاویزات سے اخذ شدہ اس طرح بیان کیا ہے:
غلام جیلانی برق بن محمد قاسم شاہ بن حسین شاہ بن محمد حسن بن محمد اعظم بن محمد غازی بن محمد جمیل
(اس شجرہ نسب کے ساتھ ڈاکٹر برق صاحب نے یہ نوٹ لکھا:
”یہ شجرہ اگست 1888 عیسوی کو حضرت والد صاحب نے ضلع کے سرکاری کاغذات سے تیار کرایاـ قوم اعوان ہے۔محمد جمیل سے اوپر کے نام نہیں مل سکے“[3]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

قبلہ والد صاحب نے 1906 میں مجھے گاؤں کے لوئر پرائمری سکول میں داخل کیا۔ سکول میں ایک ہی ماسٹر تھے۔ نام دیوان چند، وہ اسکول سے بھاگے والے اور نالائق بچوں کو بہت پیٹتے تھے میں ان میں سر فہرست تھا۔

[4]

1908 عیسوی تا 1917 اورنگ آباد کے دینی مدرسے میں زیر تعلم رہے۔1917 کے بعد پنڈی سرہال میں مولوی عبدالرحمان کے مدرسہ میں داخل ہوئے۔1918 میں چکوال کے دارالعلوم میں چلے گئے۔1918 کے اواخر میں دارالعلوم نعمانیہ لاہور میں داخل ہوئے لیکن کچھ ہی دنوں میں دارالعلوم حمیدیہ لاہور میں چلے گئے۔ [5] 1919 میں منشی فاضل کیا۔

افکار و نظریات[ترمیم]

نظریۂ دو قرآن[ترمیم]

نظریۂ دو اسلام[ترمیم]

نظریات پر رد عمل و تنقید[ترمیم]

"دو اسلام" کی زبان غیر سنجیدہ ، غیر علمی اور سخت جانبدارانہ ہے !

میرا یہ موقف کہ احادیث کی تدوین و تسوید اڑھائی سو برس بعد ہوئی تھی ، سر و پا غلط ہے۔ میں نے اس کی تلافی تو کر دی ہے کہ "تاریخ تدوین حدیث" لکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حیاتِ مبارکہ ہی میں تقریباً 40 ہزار احادیث ضبط ہو چکی تھیں۔[6]

—غلام جیلانی برق، کا مکتوب بنام مسعود احمد صاحب مصنف تفہیم اسلام بجواب دو اسلام، 16-مئی-1971ء[7]

دو اسلام کے جواب میں سینکڑوں کتب تحریر کی گئیں۔ جن میں سے مولانا سرفراز خان صفدر نے صرف ایک اسلام، مفتی احمد یا خان نعیمی نے ایک اسلام، حافظ محمد گوندلوی نے دوامِ حدیث، مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی نے تفہیم اسلام بجواب دو اسلام اس کتاب میں مسعود احمد صاحب نے "دو اسلام" کے ایک ایک پیرا کا علاحدہ علاحدہ جواب لکھا ہے۔ اس کتاب (تفہیم اسلام بجواب دو اسلام) کو پڑھ کر غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب تاریخ تدوین حدیث لکھی۔

نظریات سے رجوع[ترمیم]

غلام جیلانی برق نے اپنی پہلی تین کتب، ایک اسلام، د واسلام، اور دو قرآن سے رجوع کر لیا تھا یا نہیں، اس پر ان کی زندگی میں بھی اور بعد از وفات بھی بحث جاری ہے۔ رجوع کے حامی ان کے کچھ مکتوبات جو جیلانی برق کی حیات میں مختلف کتب میں شائع ہوئے، جن میں انھوں نے اپنی کتب کے مندرجات سے رجوع کیا ہے۔اور دیگر کتب میں ان کتب میں پیش کردہ نظریات کے برخلاف دوسرا نقطہ نظر پیش کیا، جیسے تدیون حدیث، اور محدثین کی زندگی پر کتاب لکھ کر۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں دو معروف کالم نویسوں کے درمیان بھی یہ بحث جاری ہے۔

  • 26 اپریل 2015:جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم”دو اسلام“ میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا تعارف کرایا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا[8]۔
  • اوریا مقبول جان نے جوابی کالم میں یہ ثابٹ کرنے کی کوشش کی کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق اپنے نظریات سے رجوع کر چکے تھے۔
  • 28 اپریل 2015:جاوید چوہدری نے جوابی کالم ”کیا ڈاکٹر برق واقعی نادم تھے؟“ لکھا[9]۔
  • 1 مئی 2015: جاوید چوہدری نے اپنے کالم ”دو اسلام (مزید)“ میں براہ راست تو ڈاکٹر برق کا حوالہ نہیں دیا مگر لگتا تھا کہ اُن کے خیال میں ڈاکٹر برق نے معاشرے سے ڈر کر اپنی باتوں سے رجوع کیا[10]۔
  • اوریا مقبول جان نے جوابی کالم میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے اُن خظوط کا حوالہ دیا جو انہوں نے مسعود بی اے صاحب کو لکھے تھے اور اپنے نظریات سے رجوع کرنے کے بارے میں لکھا تھا۔
  • 3 مئی کو جاوید چوہدی نے اوریا مقبول جان کے کالم کے جواب در جواب میں ایک کالم میں نادم ہوں لکھا[11]۔ اس کالم میں جاوید چوہدری نے اوریا مقبول جان پر تنقید کی اوراسی اصرار کے ساتھ بحث ختم کرنے کا اعلان کیا کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے اپنے پبلیشر کو کتاب دو اسلام کی اشاعت سے منع نہیں کیا تھا۔

تصانیف[ترمیم]

برق ایک کثیر التصانیف مصنف تھے۔ انہوں نے

  • امام ابن تیمیہ (انگریزی)
  • انفعال
  • پیام بہار
  • لمعات برق
  • امام ابن تیمیہ
  • ایک اسلام (اس کتاب کا انگریزی ترجمہ فضل احمد قریشی نے Islam—The Religion of Humanity کے نام سے کیا ہے)
  • حیات سکندر (غیر مطبوعہ)
  • انقلاب (کتابچہ خود نوشت سوانح)
  • دو قرآن
  • دو اسلام
  • من کی دنیا
  • جہان نو
  • حرف محرمانہ
  • بھائی بھائی
  • دانش رومی و سعدی
  • یورپ پر اسلام کے احسان
  • برقِ بے تاب (کلام برق: مرتبہ سید شاکرالقادری)

؛تراجم

  • سلاطین اسلام (لین پول کی کتاب کا ترجمہ، اس کتاب کا دوسری طباعت فرمانروایان اسلام کے نام سے ہوئی)
  • حکمائے عالم (جمال الدین ابوالحسن علی القفلی کی کتاب تاریخ الحکما کا ترجمہ)
  • معجم البلدان (یاقوت حموی کی کتاب کا ترجمہ و تلخیص)

بحیثیت شاعر[ترمیم]

برق[ترمیم]

ڈھول دین[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے خطوط | مرتب = ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر | صفحہ =0.-13 | باب =ڈاکٹر غلام جیلانی برق: سوانحی خاکہ | ناشر =حسنین پبلی کیشنز، لاہور | سال اشاعت = 1999 عیسوی
  2. برق بے تاب (ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا منظوم کلام) | مرتب = سید شاکرالقادری | مصنف ربط =https://www.facebook.com/shakirulqadree | صفحہ =0.-146 | باب =نظم بہ عنوان: میں اور وہ | ناشر =القلم ادارہ مطبوعات، اٹک | تاریخ اشاعت = 2004 عیسوی
  3. ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے خطوط | مرتب = ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر | صفحہ =۲۳۱ | ناشر =حسنین پبلی کیشنز، لاہور | سال اشاعت = 1999 عیسوی
  4. میری سترویں سالگرہ| ڈاکٹر غلام جیلانی برق| ”قافلہ“ لاہور| یکم نومبر 1978: ص33
  5. میری داستان حیات| ڈاکٹر غلام جیلانی برق| باردوم| 1989| ص:44 تا46
  6. "قابل تجدید توانائی فورم، بخش فاﺅنڈیشن نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی'". flahi-idare. 
  7. مکتوب بنام مسعود احمد صاحب مصنف تفہیم اسلام بجواب دو اسلام، طبع دوم صفحہ 575 تا 579
  8. کالم، جاوید چوہدری دو اسلام
  9. کالم، جاوید چوہدری، کیا ڈاکٹر برق واقعی نادم تھے؟
  10. کالم، جاوید چوہدری، دو اسلام (مزید)
  11. میں نام دہوں