غلام حسن سواگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ غلام حسن پیر سواگ نقشبندی تھل کی عظیم ہستی اور بزرگ ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

نام خواجہ غلام حسن۔ لقب: پیرسواگ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے: خواجہ غلام حسن ا لمعروف پیر سواگ نقشبندی بن ملک لعل حسین سواگ بن احمد یا ربن یار محمد۔

ولادت[ترمیم]

خواجہ غلام حسن سواگ کی پیدائش 1267ھ، مطابق 1849ء کو موضع گاڑے کھوہ " ڈگر سواگ "لعل عیسن کروڑ، ،ضلع لیہ میں ہوئی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

آپ بچپن میں والدین کے سایہ سے محروم ہو گئے اور آپ کی پرورش سواگ خاندان کی نیک اور پاکیزہ خاتون نے کی۔ آپ مویشی چراتے تھے۔

تحصیل ِعلم[ترمیم]

آپ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر خواجہ محمد عثمان دامانی کے خلیفہ مولانا غلام حسن پونگر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدائی تعلیم ان سے حاصل کی۔ اور صَرف مولانا محمد علی شہاب ضلع جھنگ سے پڑھی اور کروڑ کے ایک خدا رسیدہ بزرگ مولانا جان محمد کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد" سیواں "ضلع میانوالی تشریف لا کر مولانا غلام محمد کی خدمت میں رہ کر اکتساب علم کرنے لگے۔ پھر آپ سیواں سے رخصت ہو کر "چکڑالہ" میں مولانا نور خان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا نور خان خواجہ محمد عثمان دامانی کے خلفاء میں سے تھے۔ آپ نے بقیہ تمام تعلیم مولانا نور خان سے حاصل کی اور ظاہری وباطنی علوم میں کامل ہوئے۔

علم باطنی[ترمیم]

تکمیل علم کے بعد خواجہ محمد عثمان دامانی کی خدمت میں حاضر ہوکر سلسلہ نقشبندیہ میں داخل ہو گئے۔ خواجہ محمد عثمان نے آپ کی پختگی باطنی پاکیزگی دیکھ کر سلسلہ کی ترویج کے لیے خلافت عطا فرما دی۔ خواجہ محمد عثمان موسیٰ زئی کے انتقال کے بعد قطب عالم خواجہ محمد سراج الدین نے آپ کو بیعت کی اجازت بخشی۔ خواجہ غلام حسن سواگ کے کشف و کرامات کے باعث سرحد، بلوچستان اور پنجاب میں مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہو گئی۔

سیرت و خصائل[ترمیم]

پیرغلام حسن سواگ کی تمام عمر دین اسلام اور شریعت مصطفٰی ﷺ کے احکام کی اشاعت فرمانے میں گذری۔ لاتعداد ہندو، سیکھ، مسیحی صرف آپ کے روئے تاباں کی زیارت سے مشرف ہو کر داخلِ اسلام ہوئے۔ آپ کا معمول تھا کہ اگر کوئی ہندو یا غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتا تو آپ حسب ِضرورت اس کی مالی معاونت و امداد کرنے کے لیے اپنا مال، جان، اولادتک قربان کرنے سے دریغ نہ فرماتے۔ آپ کا معمول تھا کہ جہاں کہیں بھی وعظ کے لیے تشریف لے جاتے تو لوگوں کو غیر شرعی رسومات چھوڑنے اور احکام شریعت پر عمل کرنے کی ترغیب فرماتے۔ آپ کلمہ حق کہنے میں بھی بڑی دلیری اور بے باکی سے کام لیتے اور اس سلسلہ میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کی بھی پروانہ کرتے۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات 13 جمادی الآخر 1358ھ بمطابق 1939ء حسن آباد سواگ شریف تحصیل کروڑ ضلع لیہ میں ہوئی۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ضیائے طیبہ
  2. اولیائے لیہ، صفحہ 64، نور محمد تھند دار الکتاب کالج روڈ لیہ