غلام حسین ذو الفقار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(غلام حسین ذوالفقار سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
غلام حسین ذو الفقار
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اگست 1924  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بٹالا،  ضلع گرداسپور،  برطانوی پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 13 جون 2007 (83 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
ڈاکٹری مشیر سید محمد عبداللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاکٹورل مشیر (P184) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مؤرخ،  محقق،  پروفیسر،  ادبی تنقید نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل سوانح،  ادبی تنقید،  تحریک پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ پنجاب،  استنبول یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذو الفقار (پیدائش: 15 اگست، 1924ء - وفات: 13 جون، 2007ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز محقق، نقاد، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ماہرِ تعلیم اور جامعہ پنجاب میں شعبۂ اردو کے صدر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر غلام حسین ذو الفقار 15 اگست، 1924ء کو بٹالہ، ضلع گرداسپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2] انہوں نے میٹرک کا امتحان مسلم ہائی اسکول بٹالہ سے 1941ء میں فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ ایف اے کی تعلیم کے لیے ایم اے او کالج امرتسر میں داخلہ لیا جہاں پرنسپل ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر اور اساتذہ میں فیض احمد فیض، کرامت حسن جعفری اور عظیم الدین احمد اور مہر ادریس شامل تھے۔ کالج کے ابتدائی چہند مہینوں میں ہی مالی مشکلات کے سبب تعلیم کو چھوڑ کر محکمہ ریلوے کی ملازمت اختیار کرنے پڑی۔ انہوں نے اس دوران مسلم لیگ نیشنل گارڈز سے تعلق قائم کر لیا۔</ref>[3] تقسیم ہند کے بعد جب فسادات شروع ہو گئے تو 27 اگست، 1947ء میں وہ خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور لاہور میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ پہلے ادیب فاضل کا امتحان پاس کیا اور پھر بی اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) اور بعد ازاں ڈاکٹر سید محمد عبداللہ کی نگرانی میں اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پسِ منظر کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ وہ طویل عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں صدر شعبۂ اردو کے عہدے اور استنبول یونیورسٹی میں اردو چئیر پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ وہ بزمِ اقبال لاہور کے ناظم بھی رہے ا ور اپنی وفات تک اس کے سہ ماہی مجلے اقبال کے مدیر بھی ہے۔[2]

ادبی خدمات[ترمیم]

ڈاکٹر غلام حسین ذو الفقار ماہرِ اقبالیات، مؤرخ، نقاد، غالب شناس اور محقق ہیں۔ اقبالیات کے حوالے سے ان کا کام سند تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی تصانیف میں محاسن خطوط غالب، شاہ حاتم : حالات و کلام، جگر لخت لخت (خود نوشت سوانح عمری)، مولانا ظفر علی خاں - حیات، خدمات و آثار، اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پسِ منظر، گاندھی : لسان العصر کی نظر میں، قومی زبان کے بارے میں اہم دستاویزات، سرگزشتِ اقبال: ایک محاکمہ، اقبال کا ذہنی و فکری ارتقا، اعلامِ خطباتِ اقبال، بیادِ اقبال، سرگزشتِ اقبال: ایک محاکمہ اور اقبال- ایک مطالعہ کے نام سر فہرست ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • پاکستان تصور سے حقیقت تک
  • جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام اور مظالمِ پنجاب
  • تحریکِ خلافت 1924ء - 1919ء
  • پنجاب تحقیق کی روشنی میں
  • گاندھی : لسان العصر کی نظر میں
  • اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پسِ منظر (پی ایچ ڈی مقالہ)
  • مولانا ظفر علی خاں - حیات، خدمات و آثار
  • مضامین سرسید
  • خیالاتِ آزاد
  • محاسن خطوط غالب
  • شاہ حاتم - حالات و کلام
  • بزمِ اکبر سے بزمِ اقبال تک
  • سرگزشتِ اقبال: ایک محاکمہ
  • بیادِ اقبال
  • اکبر اور اقبال
  • اکبر اور اقبال: نئے تناظر میں
  • اقبال کا ذہنی و فکری ارتقا
  • اعلامِ خطباتِ اقبال
  • اقبال- ایک مطالعہ
  • قومی زبان کے بارے میں اہم دستاویزات (جلد اول، حصہ اول)
  • قومی زبان کے بارے میں اہم دستاویزات (جلد دوم، حصہ اول)
  • دیوان زادہ
  • اقبال کا ذہنی ارتقا

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر غلام حسین ذو الفقار 13 جون، 2007ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے اور پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2]۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر غلام حسین ذو الفقار، بائیو ببلوگرافی ڈاٹ کام، پاکستان
  2. ^ ا ب پ ت عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 989
  3. ^ ا ب ایم آر شاہد، لاہور میں مدفون مشاہیر (جلد دوئم)، الفیصل ناشران و تاجرانِ کتب، لاہور، جون 2008ء، ص 97