غلام رسول دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غلام رسول دہلوی
پیدائش شارق صدیقی
1990ء
دہلی, بھارت
مذہب اسلام
فرقہ سنی(صوفی)
کارہائے نماياں خلافت حجاز اور سعودی قومی ریاست عمران نزار حسین کی کتاب ”The Caliphate, the Hejaz and the Saudi-Wahhabi Nation-State“ کا اردو ترجمہ
مادر علمی جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی

غلام رسول دہلوی ایک مسلمان صحافی، مترجم، مصنف اور مقرر ہیں۔ وہ انگریزی، عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں کتابیں اور مضامین تحریر کرتے ہیں۔۔،[1]وہ قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز اور سیمینارز میں مختلف زبانوں میں متعدد مذہبی اور سیاسی موضوعات پر خطاب کر چکے ہیں ان کے موضوعات صوفی اسلام، دہشت گردی اور بین الاقوامی سیاست کے گرد گھومتے ہیں۔ غلام رسول کا بنیادی فلسفہ ”امن کے لیے لفظ“ ہے اسی عنوان سے وہ اپنی ایک ویب سائٹ ” Word for Peace“ پر امن سازی کے لیے مضامین شائع کرتے ہیں[2] ان کے کالم بھارت کے قومی انگریزی اخبارات (فرسٹ پوسٹ[3]دی ایشین ایج،[4] دکن کرونیکل، ) میں شائع ہوتے رہتے ہیں اس کے علاوہ انقلاب، جاگرن، نوبھارت ٹائمز اور راشٹریہ سہارا میں بھی ان کے مضامین چھپتے ہیں انہیں بھارتی میڈیا میں شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے بھارتی میڈیا پر تحریر اور بحث و مباحثے[5] کے ذریعے ڈاکٹر ذاکر نائیک اور دہشت گرد سوچ رکھنے والے عناصر کے خلاف کام کیا۔[3]

تعلیم[ترمیم]

غلام رسول دہلوی نے جامعہ امجدیہ رضویہ (مئو، یوپی، ہندوستان ) سے عالم و فاضل کی تعلیم حاصل کی، الجامعۃ اسلامیہ، فیض آباد، یوپی سے قرآنیات میں تحقیق اور الازہر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز بدایوں سے علوم الحدیث میں سند حاصل کی۔ پھر انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عربی میں بی اے(آنرز)[6] کا اور تقابلِ ادیان میں ایم کا امتحان پاس کیا اب وہ سنٹر فار کلچر، میڈیا اور گورنینس جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

کام[ترمیم]

ان کے درجنوں مضامین اور آرٹیکلز کے علاوہ مندرجہ ذیل کتب بھی شائع ہوچکی ہیں

  1. Sufism, Counter- extremism and Indian media
  2. Sufism, the heart of humanity
  3. Islamic Televangelism in India # خلافت حجاز اور سعودی قومی ریاست عمران نزار حسین کی کتاب”The Caliphate, the Hejaz and the Saudi-Wahhabi Nation-State“ کا اردو ترجمہ

معتدل اسلام کا فروغ[ترمیم]

غلام رسول نے ان پس پردہ وجوہ کا جائزہ لیا جو مسلمانوں میں جہاد اور شہادت کے نام پر دہشت گردی فروغ دے رہے تھے۔ ان میں طالبان جیسے عناصر شامل تھے باوجود اس کے کہ برادری کے زیادہ تر ارکان ان کے خلاف تھے۔ اس صورت حال کی اصل وجہ غلام رسول کے حساب سے ان تاسیسات کا مضبوط تنظیمی ڈھانچا، مولویوں کے ایک حلقے کی تائید اور مذہبی احکام کی غلط تاویلیں ہیں۔[6]

مدارس کے نصاب پر نظرثانی[ترمیم]

غلام رسول نے تاریخ اسلام میں مدارس اسلامیہ کے نمایاں کردار کی ستائش کی۔ تاہم وہ اس خیال کے حامی تھے کہ مدارس اسلامیہ کے مروجہ نصاب بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔[7]

تصوف کے ذریعے جہادی عسکریت کا مقابلہ[ترمیم]

غلام رسول کے مطابق، شدت پسند فتووں نے جہادی عسکریت پسندوں کو خانقاہوں کے خلاف لڑائی پر ابھارا ہے، جو اسلامی تہذیبی ورثہ ہے اور اسلامی عہد کی یادگاریں ہیں۔ یہی لوگ مسلمان دنیا میں غیر مسلم عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جس کا بھارتی مسلمانوں کو مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ امن، اجتماعیت، مخلوط وجود، اعتدال اور غور و فکر کا ماحول برقرار رہے۔[8]

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں اور نکاح حلالہ پر تبصرے[ترمیم]

غلام رسول نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے خواتین وینگ قائم کرنے کے فیصلے کی تنقید کی کہ اس کا مقصد صرف خاندانوں میں مردوں کی بالادستی والے تین طلاق کے اصول کو تقویت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ کیوں خواتین وینگ کئی دیگر خواتین سے جڑے مسائل کو کیوں نہیں اٹھا رہی ہے حالانکہ وہ ایک عورتوں کی نمائندہ تنظیم ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔ انہوں نے جمیعیۃ العلماء کی جانب سے نکاح حلالہ کی رسم کی حمایت کا نوٹ لے کر یہ بتایا کہ یہ اقدام کس طرح اکیسویں صدی میں خواتین کے رتبے کو گھٹا رہا ہے۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

خارجی روابط[ترمیم]