غلام عباس (لکھاری)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
غلام عباس
پیدائش 1909
امرتسر، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند)
وفات نومبر 2، 1982 (عمر 73 سال)
کراچی، پاکستان
قومیت پاکستانی
شہریت Punjabi
پیشہ Writer، Editing، ترجمہ
تنظیم آکاش وانی (ریڈیو ناشر)، کے دوران دوسری جنگ عظیم
وجہِ شہرت افسانا نگار
کارہائے نمایاں آنندی، جاڑے کی چاندنی، کن رس، الحمرا کے افسانے، جزیرہ سخن وراں
مذہب اسلام
اعزازات ستارہ امتیاز 1967 میں

غلام عباس 1909ء میں امر تسر میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پرورش لاہور کے ادب پرور ماحول میں پائی۔ لکھنے لکھانے کا شوق فطرت میں داخل تھا۔ ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز 1925ء میں ہوا۔ 1925ء سے 1928ء تک غیر ملکی افسانوں کے ترجمے کرتے رہے۔ 1928ء سے 1937ء تک بچوں کے رسالوں (پھول) اور (تہذیب نسواں) کے ایڈیٹر رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران آل انڈیا ریڈیو سے منسلک رہے۔ آل انڈیا کے اردو ہندی رسالے (آواز) اور (سارنگ) کے مدیر بھی رہے۔ اسی دور میں کئی شاہکار افسانے بھی تخلیق کئے۔ تقسیم کے بعد پاکستان آگئے اور ریڈیو سے وابستہ رہے اور اس کے رسالے آہنگ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔
ملازمت کے دوران افسانہ نگاری کی طرف توجہ کی اور چند کامیاب افسانے لکھ کر اردو افسانہ نگاری میں نمایاں حیثیت حاصل کر لی۔

بحثیت افسانہ نگار غلام عباس کا نام اردو کے افسانہ نگاروں میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام کا حامل ہے ، گو کہ انہوں نے بہت کم افسانے لکھے لیکن جتنے لکھے بہت خوب لکھے ۔غلام عباس ان کے افسانوں میں صداقت، واقعیت اور حقیقت پسندی کا وہ جوہر جھلکتا ہے جو افسانہ نگاری کی جان ہوتا ہے۔ ان کے کردار ہمارے روز مرہ زندگی اور معاشرے ہی کے چلتے پھرتے اور جیتے جاگتے کردار ہیں ۔

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  • جاڑے کی چاندنی
  • کن رس
  • آنندی
  • الحمرا کے افسانے
  • جزیرہ سخن وراں

حوالہ جات[ترمیم]