غلام عباس (افسانہ نگار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(غلام عباس (مصنف) سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون پاکستانی افسانہ نگار کے بارے میں ہے۔ دیگر افراد جن کے نام غلام عباس ہیں، ان کے لیے غلام عباس دیکھیے۔
غلام عباس (افسانہ نگار)
معلومات شخصیت
پیدائش 17 نومبر 1909  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 نومبر 1982 (73 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ افسانہ نگار، ناول نگار، ادیب اطفال، شاعر، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت آل انڈیا ریڈیو  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

غلام عباس 1909ء میں امر تسر میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پرورش لاہور کے ادب پرور ماحول میں پائی۔ لکھنے لکھانے کا شوق فطرت میں داخل تھا۔ ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز 1925ء میں ہوا۔ 1925ء سے 1928ء تک غیر ملکی افسانوں کے ترجمے کرتے رہے۔ 1928ء سے 1937ء تک بچوں کے رسالوں (پھول) اور (تہذیب نسواں) کے ایڈیٹر رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک رہے۔ آل انڈیا کے اردو ہندی رسالے (آواز) اور (سارنگ) کے مدیر بھی رہے۔ اسی دور میں کئی شاہکار افسانے بھی تخلیق کیے۔ تقسیم کے بعد پاکستان آ گئے اور ریڈیو سے وابستہ رہے اور اس کے رسالے آہنگ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔
ملازمت کے دوران میں افسانہ نگاری کی طرف توجہ کی اور چند کامیاب افسانے لکھ کر اردو افسانہ نگاری میں نمایاں حیثیت حاصل کر لی۔

بحثیت افسانہ نگار غلام عباس کا نام اردو کے افسانہ نگاروں میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام کا حامل ہے، گو کہ انہوں نے بہت کم افسانے لکھے لیکن جتنے لکھے بہت خوب لکھے۔ غلام عباس ان کے افسانوں میں صداقت، واقعیت اور حقیقت پسندی کا وہ جوہر جھلکتا ہے جو افسانہ نگاری کی جان ہوتا ہے۔ ان کے کردار ہمارے روز مرہ زندگی اور معاشرے ہی کے چلتے پھرتے اور جیتے جاگتے کردار ہیں ۔

تصنیفات[ترمیم]

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  • آنندی، 1948ء
  • جاڑے کی چاندنی، 1960ء<
  • کن رس، 1969ء
  • رینگنے والے، 1980ء

ناولٹ[ترمیم]

  • گوندنی والا تکیہ، 1936ء
  • جزیرہ سخن وراں، 1941ء
  • دھنک، 1969ء

بچوں کا ادب[ترمیم]

  • الحمرا کے افسانے، 1931ء
  • چاند تارا (نظمیں)،
  • ننھی کی گڑیا، 1936ء

تراجم[ترمیم]

  • جلا وطن، از لیو ٹالسٹائی
  • بے چارہ سپاہی[2]
  • صدر ایوب کی کتاب فرینڈ ناٹ ماسٹرز کا ترجمہ، جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی کے نام سے
دیگن
  • چار چھوٹے ناٹک، 1936ء[3]

وفات[ترمیم]

غلام عباس 2نومبر 1982ءکو کراچی میں وفات پاگئے اورسوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے،

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb162701300 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 مارچ 2017
  2. کلیات غلام عباس، غلام عباس، ترتیب و تعارف محمد عاصم بٹ، صفحہ 7 تا 11
  3. غلام عباس۔ "چار چھوٹے ناٹک برقی کتاب از غلام عباس"۔ ریختہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-04۔