غلام غوث ہزاروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سابق ناظم اعلیٰ مجلس احرار پاکستان۔ پورانام مولانا غلام غوث ہزاروی ہے۔

ولادت[ترمیم]

آپ 1896ء کو بفہ تحصیل مانسہرہ ہزارہ ڈویژن میں پیدا ہوئے۔۔ آپ کے والد کا نام حکیم سید گل صاحب ہے۔1914میں مڈل کا امتحان پاس کیا اسی دوران ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد سے حاصل کرتے رہے اعلیٰ تعلیم کے لیے 1915ء میں دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے ۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب کے فیضان صحت سے فیضیاب ہوئے ۔ 1337ھ میں علامہ انور شاہ کشمیری سے دورہ حدیث پڑھ کر سند فراغت حاصل کی۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ میں حاصل کی۔ پھر اعلیٰ تعلیم کت لیے پہلے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں داخلہ لیا، بعد از اں 1915ء کو دار العلوم دیوبند میں داخل ہوئے۔ پھر 1337ھ بمطابق 1919ء میں علامہ انور شاہ کشمیری، علامہ شبیر احمد عثمانی، عالم دین مولانا رسول خان ہزاروی اور مولانا محمد ابراہیم بلیاوی سے دورہ حدیث پڑھ کر سند فراغت حاصل کی۔

تدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد دار العلوم دیوبند میں بطور معین المدرس تدریس کی۔

اہم کارنامے[ترمیم]

  • حیدرآباد، دکن کی ایک ہندو ریاست "سمستان گدوال" میں 2 سال تک تبلیغی خدامت انجام دیں۔
  • تحریک ختم نبوت 1953ء کے دوران میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ اپنے ایک خادم کے ساتھ بھیس بدل کر خانقاہ سراجیہ آئے۔ اس وقت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا محمد عبد اللہ ثانی ؒ تھے۔ انھوں نے اپنے ایک مرید، جو بھلوال ضلع سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے، ان کے ایک دور دراز کھیتوں کے ڈیرہ پر مولانا کی رہائش کا انتظام کر دیا۔ پولیس اور فوج آپ کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ ’’مجھے سخت پریشانی لاحق تھی اور اپنی حالت پر سوچتا تھا اگر اس حالت میں گولی سے مارا جاتا ہوں تو یہ بزدلی کی موت ہے اور اگر گرفتاری کے لیے ظاہر ہوتا ہوں تو مرکز کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پریشانی تین دن تک رہی اور تیسرے دن مجھے کچھ نیند اور کچھ بیداری کی حالت میں حضورِ انورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارتِ مبارک نصیب ہوئی اور آپصلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

’’غلام غوثؒ! تم نے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکی عزت کے لیے قربانی دی ہے، پریشان مت ہو، کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘

جب میری آنکھ کھلی تو طبیعت میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور کامل اطمینان پیدا ہو گیا۔ بعد میں بہت سی تکالیف بھی آئیں لیکن مجھے قطعاً پریشانی نہیں ہوئی اور اس کے بعد ہی میں فوج اور پولیس کو جُل دے کر نکل گیا اور ایسے اوقات بھی آئے کہ میرے پیچھے فوج اور پولیس والے نماز پڑھتے رہے لیکن پہچان نہ سکے۔ یہ سب حفاظت الٰہی اور بشارتِ نبویصلی اللہ علیہ وسلم کا نتیجہ تھا۔ 1932ء میں مجلس احرار اسلام سے وابستہ ہوئے اور مرزائیت کے خلاف تحریک میں زبردست حصہ لیا۔

  • 1940ء میں تحریک آزادی میں نمایاں کام کیا۔ کئی سال قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
  • 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں بھرپور حصہ لیا۔
  • 1956ء میں جمیعت علمائے اسلام کے ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔
  • 1958ء میں ایوب خان کے مارشل لا اور 1962ء میں عائلی قوانین کے خلاف ڈٹ گئے۔
  • 1970ء کے الیکشن مین قومی اسملی کے ارکان منتخب ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

اسلام میں غلامی، مسلمہ اصول جنگ اور جواب محضرنامہ آپکی تالیافات ہیں۔

مخالفت[ترمیم]

علامہ مشرقی اور ابو الاعلی مودودی کی سخت ترین مخالفت کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

4فروری 1981ء کو رحلت فرمائی۔

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔