غلام قادر روہیلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غلام قادر روہیلہ برصغیر کی تاریخ میں ایک انتہائی سفاک اور سنگدل شخص گزرا ہے جس نے مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کی آنکھیں نکلوا ڈالیں ۔

اشعار میں[ترمیم]

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے 'بانگ درا' میں اپنی نظم ”غلام قادر روہیلہ“ میں اقوام کے عروج و زوال کے اہم اسباب میں سے ایک اہم سبب پر روشنی ڈالی ہے اسی لیے انہیں ”دانائے راز“ کہا جاتا ہے:

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

علامہ اقبال نے برصغیر کی تاریخ کے اہم دردناک واقعے کی طرف اشارہ کر دیا ہے، جب غلام قادر روہیلہ نے لال قلعہ کے دیوان خاص میں جہاں کبھی شہاب الدین محمد شاہجہاں اور اورنگزیب عالمگیر تخت طاؤس پر بیٹھ کر ہندوستان کی تقدیر کے فیصلے کرتے تھے، اسی دیوان خاص میں اس نے مغل شہزادیوں کو ناچنے کا حکم دے دیا اور خود خنجر پاس رکھ کر سوتا بنا لیکن مغل شہزادیاں ناچتی رہیں۔ اس وقت غلام قادر روہیلہ نے یہ تاریخی جملہ بولا:

”میرا خیال تھا کہ تیمور کی بیٹیوں میں کچھ غیرت و حمیت باقی رہ گئی ہو گی اور وہ مجھے سوتا سمجھ کر میرے خنجر سے قتل کرنے کی کوشش کریں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اب مغل شہنشاہیت کو مٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔“

تعارف[ترمیم]

غلام قادر روہیلہ، کا تعلق افغانوں کے قبیلہ روہیلہ سے تھے جو روہیل کھنڈ کے باسی تھے۔ تاریخ ہندوستان، مغلوں اور پٹھانوں کی نبرد آزمایوں سے بھری پڑی ہے۔ عظیم پٹھان شاعر، خوشحال خان خٹک کا کلام اس کا واضح ثبوت ہے۔ شیر شاہ سوری نے بھی ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان بدر کر دیا تھا لیکن اس کی اولاد آخر ہمایوں کے ہاتھوں ہی موت کے گھاٹ اتری۔

اقبال کی نظم میں جس مغل بادشاہ کا ذکر ہے، اس کا نام مرزا عبد اللہ اور لقب شاہ عالم ثانی تھا، وہ 1759ء سے لیکر اپنی وفات 1806ء تک تخت دہلی پر کٹھ پتلی حکمران رہا۔ غلام قادر روہیلہ کے ہاتھوں 1787ء میں اندھا ہوا۔ مغل سلطنت کا زوال اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے ساتھ ہی ہو گیا تھا، اس کے بعد جتنا عرصہ بھی یہ سلطنت رہی، وہ ہاتھی والی اس مثال کے مصداق ہے کہ وہ مرتے مرتے بھی کافی عرصہ لگا دیتا ہے۔ اس واقعے کے پس منظر میں دیکھیں تو اس وقت طاقت کے ڈرامے میں کئی کردار تھے: مغل خود، مرہٹے، سکھ، انگریز اور حملہ آور۔ مرہٹوں اور سکھوں نے اس زمانے میں شمالی ہندوستان میں طوفان اٹھایا ہوا تھا اور حکمرانوں کے لیے مسلسل دردِ سر بنے ہوئے تھے۔

مرہٹوں کی چیرہ دستیاں اور مظالم جب حد سے بڑھ گئے تو، غلام قادر روہیلہ کا جرنیل دادا، نجیب الدولہ ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے یہ سوچا کہ مغل، مرہٹوں کے خلاف اس کا ساتھ دیں گے کہ مرہٹے خود، مغل سلطنت کے لیے مسلسل پریشانیاں کھڑی کر رہے تھے، لیکن خاندانِ تیموریہ اور ان کے وزراء نے کمال بد طینتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، الٹا مرہٹوں کے ساتھ مل کر نجیب الدولہ کو محصور کر دیا اور اس سے پے در پے جنگیں لڑیں۔

ان حالات میں جب نجیب الدولہ نے دیکھا کہ اب کوئی چارہ نہیں ہے تو اس نے احمد شاہ ابدالی سے مدد مانگی۔ احمد شاہ ابدالی نے اپنے قاضی سے فتوٰی طلب کیا تو قاضی نے کہا کہ مرہٹوں کے خلاف نجیب الدولہ کی مدد جائز ہے۔ لہذا احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں سے پانی پت کے مقام پر جنگیں لڑیں۔ اور ان میں سب سے مشہور پانی پت کی تیسری لڑائی ہے۔ جو 1761ء میں ہوئی اور اس میں ابدالی نے غلام قادر روہیلہ کے دادا نجیب الدولہ اور والد ضابطہ خان کی مدد سے مرہٹوں کو شکستِ فاش دی جس سے مرہٹوں کی اصل طاقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ ابدالی کے سامنے اس وقت دہلی کا تخت خالی پڑا ہوا تھا، لیکن یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے ہا پھر انسان کا مقدر کہ ہوتا وہ نہیں ہے جسے چاہا جاتا ہے۔ ابدالی بجائے دہلی پہ قابض ہونے کے واپس چلا گیا۔

اس کے بعد بھی نجیب الدولہ کی مرہٹوں اور سکھوں سے کشمکش جاری رہی لیکن وہ 1770ء میں فوت ہو گیا۔ اس بہادر جرنیل کی تعریف اپنے پرائے سب ہی کرتے ہیں، یہاں تک کہ انتہائی متعصب ہندو مصنف جادو ناتھ سرکار، جس نے تاریخِ مغلیہ اور تاریخِ ہند پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں اور جو مسلمانوں کے خلاف زہر سے بھری پڑی ہیں، اس نے بھی نجیب الدولہ کی معاملہ فہمی اور جرنیلی کی تعریفیں کی ہیں۔

نجیب الدولہ کے مرنے کے بعد، مرہٹوں نے روہیلوں سے پانی پت کی شکست کا انتہائی شرمناک انتقام لیا۔ اس کی وفات کے دو سال بعد ہی 1772ء میں مرہٹوں نے مغلوں کے ساتھ مل کر روہیلوں کے خون کے دریا بہا دیے اور یہی واقعہ غلام قادر روہیلہ کے انتقام کا محرک ہے۔

غلام قادر روہیلہ اس وقت کوئی 12، 13 سال کا بچہ تھا، اس نے اپنے قبیلے کو مرہٹوں کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں مرتے دیکھا۔ بات یہیں تک رہتی تو شاید وہ یہ فعل شعنیہ نہ کرتا جس کی طرف علامہ نے اپنی نظم میں اشارہ کیا ہے۔ لیکن ہوا وہی جو فاتح فوجیں ہمیشہ کرتی ہیں، مرہٹوں اور مغل فوج نے روہیلہ قبیلے کی عورتوں کی عصمت دری کی۔ غلام قادر نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، جان تو اس کی بچ گئی لیکن وہ اس ظلم کو کبھی نہ بھلا سکا جو اصل میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی نے ہی کیا تھا کہ مرہٹے اکیلے روہیلوں کو فتح نہیں کرسکتے تھے

غلام قادر نے 1787ء میں جب اس کی عمر کوئی 27 سال تھی، دہلی پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا اور یہ واقع رو پزیر ہوا۔ جب اس نے شاہ عالم ثانی کو پکڑا تو اس نے کہا۔ اگرچہ تمھارا جرم تو اس کا متقاضی ہے کہ تمہارا بند بند جدا کرکے تمہارا گوشت چیل کوؤں کو کھلا دیا جائے لیکن یہ میری خدا ترسی ہے کہ میں تمھیں زندہ چھوڑے دیتا ہوں، ہاں اس میں شک نہیں کہ میں نے تم سے غوث گڑھ کی اس بد سلوکی کا جو تم نے میری ماں بہنوں کے ساتھ روا رکھی، پورا پورا انتقام لے لیا ہے اور اس کے بعد خنجر سے اس کی دونوں آنکھیں نکال دیں۔ اس واقعہ کے ایک سال بعد ہی غلام قادر 1788ء میں مرہٹوں کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا۔

اب اس تمام واقعے سے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کی غلام قادر نے جو کچھ بھی کیا وہ انتقام کے جذبے میں تھا کہ مغلوں اور مرہٹوں نے اس کی خاندان کی عورتوں کی خود اور اپنی فوجوں سے آبروریزی کروائی، لیکن غلام قادر نے فتح کے باوجود اس حد تک بربریت نہیں دکھائی جس کا مظاہرہ مغل و مرہٹہ فوجوں نے کیا تھا بلکہ اس نے غیرت کھا کے مغل عورتوں کو موقع بھی دیا کہ اسے قتل کر دیں۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال نے اپنی نظم کا آغاز تو غلام قادر روہیلہ کی بربریت سے کیا ہے، لیکن نظم کے اختتام پہ نہ صرف غلام قادر پر لعن طعن نہیں کی بلکہ مغلوں کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انہی میں غیرت و حمیت ختم ہو گئی تھی۔

مذہب کی آڑ میں غلام قادر روہیلہ کے مظالم[ترمیم]

غلام قادر روہیلہ، شاہ عالم کا اس لیے دشمن ہو گیا تھا کہ شاہ عالم نے اس کے والد ضابطہ خاں کو عدول حکمی کی بنا پر اس کے عہدے سے محروم کر دیا تھا۔ غلام قادر اپنے والد کی معزولی کا انتقام لینا چاہتا تھا اور اس کے علاوہ یہ بھی چاہتا تھا کہ لٹی ہوئی سلطنت کے سربراہ کے محل میں جو مال و دولت بھی مل سکے گا اس پر قبضہ کر لیا جائے۔ لیکن یہ ہوتا آیا ہے کہ اقتدار کے دیوانوں کے اصل مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔ چنانچہ غلام قادر نے یہ حیلہ تراشا کہ اس کا مقصد شاہ عالم کو ہٹا کر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ چنانچہ ”اسلام کی خدمت“ کے اس جذبے سے سرشار ہوکر غلام قادر نے اپنے دوست اسماعیل کے ساتھ فوج اور سامان جنگ سے لیس ہوکر دلی پر چڑھائی کردی۔ غلام قادر کی فوجیں یکم جولائی 1877ء کو دلی کے گرد و نواح میں پہنچیں اور انہوں نے اسلامی حکومت قائم کرنے کی بجائے لوٹ مار، قتل و غارت گری شروع کردی۔ مہاراجا سندھیا نے خود مصائب میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی افواج کا کچھ حصہ شاہ عالم کی مدد کے لیے بھیجا۔ شاہ عالم کی فوج نے افلاس زدہ ہونے کے باوجود مقابلہ کیا لیکن اسے کیا کیجیے کہ خود شاہ عالم کے معتمد اعلیٰ افسران غلام قادر سے مل گئے تھے۔ انہوں نے نہ صرف شاہی افواج کو غلط راستہ دکھایا بلکہ سندھیا کی بھیجی ہوئی فوج کی بھی حوصلہ افزائی نہ کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سندھیا کی فوج نے دلی سے کوچ کیا اور شاہ عالم بے یارو مدد گار رہ گیا۔ غلام قادر کی فوجوں نے چار ہفتے تک دلی اور اطراف میں قتل و غارت کیا جس کی مثال صرف احمد ابدالی کے حملوں کے دوران میں ہی مل سکتی ہے۔ آخر کار 30 جولائی کو غلام قادر محل شاہی کے دروازے پر آیا اور درخواست کی کہ وہ شہنشاہ کی خدمات میں باریابی کا خواہش ہے۔ غلام قادر نے قرآن کریم کی قسم کھائی کہ اس کا مقصد صرف مغل شہنشاہ سے اظہارِ وفاداری ہے۔ محل شاہی کے پاسبانوں نے شاہ عالم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ دھوکا ہے، فریب ہے۔ غلام قادر کو محل کے اندر نہ آنے دیا جائے، لیکن شاہ عالم کے بعض مشیر ایسے بھی تھے جنہوں نے یہ مشورہ دیا کہ غلام قادر نے قرآن حکیم کی قسم کھائی ہے لہٰذا اس پر اعتبار نہ کرنا اسلامی نظریات کے خلاف ہوگا اس لیے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی جائے۔ معلوم نہیں ان مشیروں کی رائے ان کے بھولپن پر مبنی تھی یا سازش پر، لیکن شاہ عالم نے اس رائے پر عمل کیا اور غلام قادر کو اندر آنے کی اجازت دے دی گئی۔ جوں ہی محل کے دروازے کھل گئے، نہ صرف غلام قادر داخل ہوا بلکہ اس کے ساتھ دو ہزار سپاہی بھی شاہی محل میں داخل ہو گئے۔ غلام قادر کی فوج کے محل میں داخل ہونے پر کہرام مچ گیا۔ شہزادہ اکبر نے کہا کہ یا تو مجھے لڑ کر مرجانے کی اجازت دیجیے ورنہ میں خودکشی کرلوں گا۔ شاہ عالم نے بہ مشکل اسے روکا اور کہا کہ مشیت ایزدی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ غلام قادر دربارِ عام سے ہوتا ہوا دربارِ خاص میں پہنچا اور شہنشاہ سے مطالبہ کیا کہ اسے روپے کی ضرورت ہے لہٰذا جتنی دولت محل میں ہے وہ اسے دے دی جائے۔ شہنشاہ نے کہا کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں دے چکا ہوں، اب میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ غلام قادر اس جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔ چنانچہ شہنشاہ کو ایک مسجد میں قید کر دیا گیا اور محل کی تلاشی کا کام شروع کر دیا گیا۔ دوسرے دن شہنشاہ کو مسجد سے ہٹا کر محل کے اس حصے میں قید کر دیا گیا جہاں مجرموں کو رکھا جاتا تھا۔ غلام قادر کے سپاہیوں نے اب محل کے حرم کی تلاشی شروع کی۔ محل کے فرش، دیواروں اور چھتوں کو توڑا گیا لیکن اس میں وہ خزانہ نہ ملا جس کی غلام قادر کو تلاش تھی۔ شہنشاہ کی بیگمات اور کنیزوں کی تلاشی لی گی لیکن چند زیورات کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ اگلے دن محل کے در و دیوار چیخ و پکار سے گونج اٹھے۔ شہنشاہ کے ملازمین کو ہولناک اذیتیں دی جارہی تھیں۔ انہیں آگ پر اُلٹا لٹکایا جارہا تھا۔ ان کے ہاتھوں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جارہا تھا۔ لیکن اس کے باوجود افلاس زدہ محل میں وہ خزانہ نہ ملا جس کی غلام قادر کو تلاش تھی۔ آخر جب اذیت رسانی کے تمام طریقے ناکام ہو گئے تو غلام قادر نے شہنشاہ سے کہا کہ وہ جس طرح بھی ہو خزانے کا پتہ بتائے۔ شاہ عالم نے کہا کہ تم نے سارا محل دیکھ گیا ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ خزانہ میرے پیٹ میں ہے؟ غلام قادر نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو حقیقت کی تلاش میں خنجر کو بھی استعمال کرنا پڑے گا۔ اور آخر کار غلام قادر نے شہنشاہ کے جسم پر خنجر بھی استعمال کیا جس کے محل میں وہ قرآن حکیم کی قسم کھا کر داخل ہوا تھا۔ غلام قادر نے خنجر کیونکر استعمال کیا اس کی مختصر داستان مشہور انگریز مصنف مائیکل ایڈورڈز نے اس طرح بیان کی ہے۔ ”10 اگست کے دن جب غلام قادر، شاہ عالم کے بیان سے مطمئن نہیں ہوا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کمینے کو زمین پر گرا دو اور اسے اندھا کردو۔ چنانچہ مغل شہنشاہ کو ٹھوکر مار کر تخت سے گرایا گیا اور اس کی آنکھوں میں سوئیاں ڈالی گئیں۔ شہنشاہ درد و کرب سے چیختا رہا۔ آخر جب سوئیاں اس کی آنکھوں میں اچھی طرح پیوست ہوگئیں تو غلام قادر نے شہنشاہ سے پوچھا: ”کہو اب تمہیں کچھ دکھائی دیتا ہے!“ شہنشاہ نے جواب دیا: ”ہاں مجھے تمہارے اور اپنے درمیان میں قرآن دکھائی دیتا ہے۔“ دوسرے دن غلام قادر نے ایک درباری مصور کو بلا بھیجا اور اسے حکم کہ وہ ایک منظر کی تصویر کشی کرے۔ وہ منظر کیا تھا؟ غلام قادر نے منظر یہ پیش کیا کہ اپنے ایک کمانڈر سے کہا کہ وہ خنجر کے ذریعے شاہ عالم کی آنکھیں نکالے۔ چنانچہ خنجر کے ذریعے مغل کی دونوں آنکھیں نکال دی گئیں۔

دہلی پر روہیلوں کا قبضہ[ترمیم]

دہلی کے بادشاہ ”شاہ عالم“ کو صرف اس بات سے غرض تھی کہ لال قلعہ میں جو بادشاہی خوابگاہ ہے، وہاں اسے سکون سے رہنے دیا جائے، خواہ ملک کا حال کچھ بھی ہو، لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سکون ڈھونڈنے والے حکمرانوں کو سب سے زیادہ تکلیف دہ نشیب و فراز اور خلشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، لہذا شاہ عالم کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ سلطنت کی ابتدا میں عماد الملک کے خوف سے اسے دس بارہ سال صوبہ بہار میں خود اختیار کردہ جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی۔ احمد شاہ ابدالی نے محض یہ خیال کرکے اسے دہلی کا حکمراں تسلیم کر لیا تھا کہ اور کوئی مناسب خاندانی بادشاہ موجود نہ تھا۔ انگریزوں سے معاہدہ کے بعد اس کی حیثیت ایک برائے نام وظیفہ خوار حکمراں کی رہ گئی تھی۔ اگرچہ ابدالی کے ہاتھوں شکست فاش کے بعد مرہٹوں کی قوت برباد ہوچکی تھی، لیکن بادشاہ دہلی کو کٹھ پتلی بنانے کے لیے ان کے پاس کافی دم خم موجود تھا۔

1788ء میں روہیلوں نے دہلی پر حملہ کرکے بادشاہ کو قیدی بنالیا اور امرا کی سازش سے اسے اندھا کر دیا، یوں اپنی زندگی کے آخری کئی سال شاہ عالم نے معذوری اور محتاجی میں گزارے۔ جس تخت پر ایک اندھا بیٹھا ہو، وہاں سے کس قسم کی حکمرانی کی امید کی جاسکتی ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کی مقتدر قوتوں (انگریز، مرہٹے اور روہیلے وغیرہ) کو بھی اسی قسم کا اندھا، بیمار اور محتاج بادشاہ تخت دہلی پر زیادہ موزوں معلوم ہوتا تھا۔ دہلی پر روہیلہ حملے اور اس کے نتیجے میں شاہی خاندان پر آنے والی آفت کے اثرات ہندوستان بھر میں محسوس کیے گئے۔ جس طرح پہلے مغلیہ سلطنت پر کاری ضرب لگانے والا بظاہر ایک مسلم فاتح (نادرشاہ) تھا، اس مرتبہ بھی یہ کردار ایک مسلم سردار نے ادا کیا اور خاندان مغلیہ کی رہی سہی عزت خاک میں مل گئی۔

احمد شاہ ابدالی مرہٹوں کو شکست دینے کے بعد ایک روہیلہ افغان سردار نجیب الدولہ کو بادشاہ دہلی کا وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا تھا۔ یہ ایک لائق منتظم تھا اور شاہ عالم کی دار الحکومت سے غیر حاضری کے دس بارہ برسوں میں وہی عملاً دہلی کا حکمراں تھا۔ 1770ء میں اس کے انتقال کے بعد شاہ عالم دہلی واپسی پر آمادہ ہوا۔ اسی دور میں شمالی ہندوستان میں روہیلہ افغانوں نے بہت زور پکڑا اور مرہٹوں سے ان کی جھڑپیں ہونے لگیں۔ دسری طرف تخت دہلی مرہٹوں کے زیر اثر آچکا تھا اور شاہ عالم مرہٹہ سردار سندھیا کے زیر تحفظ تھا۔ سندھیا کو مغل دربار میں ”وکیل المطلق“ کا خطاب دیا گیا اور وہ دربار کا طاقتور ترین امیر بن گیا۔ یہ صورت حال روہیلوں کے لیے قابل قبول نہ تھی، چنانچہ سابق وزیر اعظم نجیب الدولہ کے پوتے غلام قادر روہیلہ کی قیادت کی میں روہیلہ افغانوں نے مغل سلطنت کے خلاف بغاوت کی اور دہلی پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اتنی تیزی سے ہوا کہ مرہٹہ سردار کو اسے روکنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور روہیلے قلعہ پر قابض ہوکر شاہی محل میں داخل ہو گئے۔ یہ واقعہ 1788ء کا ہے۔ غلام قادر روہیلہ نے تلوار کی نوک پر اپنے آپ کو بادشاہ دہلی کا وزیر اعظم مقرر کر لیا،

اس کے بعد اس نے بادشاہ پر مرہٹوں کے ساتھ ساز باز کا الزام لگاکر اسے محل کے ایک گوشہ میں محبوس کر دیا اور خاندان تیموریہ کے ایک گمنام شہزادہ کو بیدار بخت کے خطاب سے جانشین بنادیا، جب شاہ عالم کو تلوار کی نوک پر مجبور کیا کہ وہ نئے بادشاہ کے سامنے آداب بجالائے۔ بادشاہ اور اس کے خاندان کو تین دن اور تین راتیں بھوکا پیاسا ایک جگہ قیدر کھا گیا۔ اس دوران میں پورے شاہی محل میں خزانوں اور جواہرات لوٹنے کے لیے تلاشی مہم جاری رہی۔ اس کا خیال تھا کہ بادشاہ دہلی کے پاس بہت بڑا خزانہ ہے، جسے کسی خفیہ جگہ چھپا رکھا ہے، چنانچہ اس خزانہ اور دولت کو حاصل کرنے کے لیے اس نے مغل بادشاہ اور اس کے حرم پر بے پناہ ظلم و ستم کیے۔ بالآخر خزانہ کی تلاش میں ناکام غلام قادر، معزول شاہ عالم کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ وہ خفیہ خزانہ کا پتہ بتائے۔

کمزور اور ضعیف شاہ عالم نے تنگ آکر جواب دیا ”اگر تم سمجھتے ہو کہ خزانہ میں نے کہیں چھپا رکھا ہے تو پھر وہ اندر ہوتا، میرے پیٹ کو پھاڑکر دیکھ لو تاکہ تمھیں تسلی ہو جائے“۔ تین دن تک محل کے تمام کمروں کے فرش کھودے گئے، لیکن کوئی دفینہ یا خزانہ ہاتھ نہ آیا۔ اس کے بعد غلام قادر نے غضبناک ہوکر دیوان خاص میں شاہ عالم کو اپنے سامنے طلب کیا اور ایک بار پھر اس سے خفیہ خزانہ کے بارے میں پوچھا، لیکن شاہ عالم نے وہی پہلے والا جواب دیا۔ اس پر غلام قادر نے کہا ”تو پھر دنیا میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں، لہذا تمھیں اندھا کرنا ضروری ہے“۔ یوں بادشاہ دہلی کو پٹھانوں نے اندھا کر دیا اور محل کی عورتوں کی چیخوں اور رونے کی آوازوں کے درمیان میں اسے سلیم گڑھ منتقل کر دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]