غلام محمد وستانوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خادم القرآن و المساجد، مولانا

غلام محمد وستانوی
دار العلوم دیوبند کے بارہویں مہتمم
عہدہ سنبھالا
10 جنوری 2010ء سے 24 جولائی 2011ء
پیشرومرغوب الرحمن بجنوری
جانشینابو القاسم نعمانی
رکنِ مجلسِ شوری دارالعلوم دیوبند
عہدہ سنبھالا
1419ھ مطابق 1998ء سے تاحال
ذاتی
پیدائش1 جون 1950ء (عمر 71 سال)
وَستان، سورت ضلع، گجرات
مذہباسلام
فقہی مسلکحنفی
تحریکدیوبندی
مادر علمیفلاح دارین ترکیسر ، مظاہر علوم سہارنپور
مرتبہ

غلام محمد وستانوی ایک بھارتی مسلمان عالم دین اور دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے اداروں میں طب اور انجینئرنگ جیسے مضامین متعارف کرواتے ہوئے مدرسہ تعلیم کی اصلاح میں ان کا اہم کردار تھا۔[1]

ولادت[ترمیم]

مولانا وستانوی کی ولادت 1 جون 1950ء کو وستان سورت، گجرات میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد اسماعیل ہے۔[2]

تعليم وتربیت[ترمیم]

آپ نے قرآن مجید اپنے وطن کوساری ہی کے مدرسہ قوۃ الاسلام میں رہ کر پڑھا، اس کے بعد نانہال ہتھورن (سورت) اور مدرسہ شمس العلوم بڑودہ میں بھی ابتدائی کتابیں مختلف اساتذۂ کرام سے پڑھیں۔ 1964ء میں گجرات کے مشہور ومعروف مدرسہ فلاح دارین ترکیسر میں داخل ہوئے اور مسلسل آٹھ سال رہ کر 1982ء کے اوائل میں سند فراغت حاصل کی ۔ آپ کے اساتذ فلاح دارین ترکیسر میں مفتی احمد بیمات، مولانا عبد اللہ کاپودروی، مولانا شیر علی افغانی اور مولانا ذو الفقار علی جیسے نامور علما شامل ہیں۔ فلاح دارین سے فراغت کے بعد مزید علمی پیاس بجھانے کے لیے 1982ء کے اواخر میں مظاہر علوم سہارنپور چلے گئے ۔ وہاں حضرت مولانا شیخ محمد یونس جونپوری سے بخاری شریف اور دیگر اساتذۂ دورۂ حدیث سے دورۂ حدیث کی کتابیں پڑھ کر 1973ء میں فراغت حاصل کی ۔[3][2]

درس وتدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد قصبہ بوڈھان(سورت ضلع کے ایک گاؤں) میں دس دن آپ نے پڑھایا ، اس کے بعد 1973ء کے اواخر میں دار العلوم کنتھاریہ (بھروچ) تشریف لے آۓ اور وہاں فاری سے لیکر متوسطات تک کی مختلف علوم وفنون کی کتابیں پڑھائیں۔[3]

جامعہ اشاعت العلوم کی بنیاد و صدارت[ترمیم]

زمانۂ قیام کنتھاریہ ہی میں 1980ء میں جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کی بنیاد ڈالی، جس کی ابتدا ’’مکرانی پھلی محلہ‘‘ سے کی گئی، ابتدا میں آپ کا قیام کنتھاریہ میں ہی رہا، اس دوران مولانا یعقوب خانپوری (ناظم مکاتب و ناظم تعمیرات) اور آپ کے برادر حافظ محمد اسحاق (نائب مہتمم) نظامت سنبھالتے رہے۔ لیکن جب آپ نے دیکھا کہ یہاں رہتے ہوۓ مکمل نظم وضبط دشوار ہوگا تو پھر استعفی دے کر مستقل اکل کوا تشریف لے آئے ، جب سے اب تک رئیس الجامعہ کے عہدے پر فائز ہیں۔[3]

دار العلوم دیوبند کی مجلس شورٰی کی رکنیت[ترمیم]

1419ھ مطابق 1998ء میں آپ کو مجلس شورٰی دار العلوم دیوبند کا رکن بنایا گیا۔[2]

اہتمام دار العلوم دیوبند[ترمیم]

مولانا مرغوب الرحمن بجنوری کے انتقال کے بعد مجلس شورٰی دار العلوم دیوبند کے اجلاس منعقدہ 5 صفر 1432ھ مطابق 11-10 جنوری 2011ء میں آپ کو عہدۂ اہتمام کے لیے منتخب کیا گیا۔ آپ 21 شعبان 1432ھ مطابق 23 جولائی 2011ء تک اس منصب پر فائز رہے ۔ اس طرح صفر سے شعبان 1432ھ/ جنوری تا جولائی 2011ء تک (یعنی کل سات ماہ) آپ دار العلوم دیوبند کے مہتم رہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Who is Ghulam Mohammed Vastanvi?" [غلام محمد وستانوی کون ہیں؟]. انڈیا ٹودے. 20 جنوری 2011. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2020. 
  2. ^ ا ب پ ت ڈاکٹر مولانا محمد اللّٰہ قاسمی. دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن اکتوبر 2020). شیخ الہندؒ اکیڈمی، دار العلوم دیوبند. صفحہ 661. 
  3. ^ ا ب پ مولانا نظام الدین قاسمی. تذکرۂ اکابر (ایڈیشن ستمبر 2012). جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم، اکل کوا، نندوبار، مہاراشٹر. صفحہ 337-338.