غلام معین الدین گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیر غلام معین الدین گیلانی المعروف بڑے لالہ جی (پیدائش1920ء وفات 1997ء) پیر سید غلام محی الدین گیلانی کے بڑے بیٹے اور پير مہر علی شاہ کے پوتے تھے۔ آپ کا تعلق عظیم روحانی درسگاہ گولڑہ شریف اسلام آباد سے تھا۔ آپ 23 سال تک دربار عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین رہے۔ آپ کے جانشین پیر نصیر الدین نصیر ہوئے۔

پیر غلام معین الدین گیلانی
Peer Syed Ghulam Moinuddin Gilani.jpg
دیگر نام بڑے لالہ جی
ذاتی
پیدائش 1920ء
وفات 1997ء (77 سال)
مذہب اسلام
والدین
دیگر نام بڑے لالہ جی
سلسلہ چشتیہ
مرتبہ
مقام گولڑہ شریف
دور بیسویں صدی
پیشرو پیر سید غلام محی الدین گیلانی
جانشین پیر نصیر الدین نصیر

پیدائش[ترمیم]

پیر غلام معین الدین گیلانی المعروف بڑے لالہ جی نے 1920ء میں پیر سید غلام محی الدین گیلانی کے گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے پوتے تھے۔ آپ نے سترہ سال دادا جان پیر مہر علی شاہ کی زیارت بھی کی اور ان کی شفقت و محبت سے بھی مالا مال ہوئے۔ آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ دادا جان پیر مہر علی شاہ آپ کو کندھوں پر بیٹھا کر سیر کرایا کرتے تھے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر ہی یعنی گولڑہ شریف کے عظیم علمی اور روحانی دار العلوم میں ہی ہوئی۔ ابتدائی تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے درسی کتابیں مولانا محمد غازی جو گولڑہ شریف دار العلوم میں مدرس تھے ان سے پڑھیں۔ 1939ء میں مولانا محمد غازی کے وصال با کمال کے بعد جامعہ بہاولپور میں استاذ العلماء غلام محمد گھوٹوی کی سر پرستی میں داخلہ لے کر علامہ غلام محمد گھوٹوی سے 1944ء تک اکتساب فیض کرتے رہے۔ پیر سید غلام محی الدین گیلانی نے آپ کی ظاہری و باطنی تعلیم پر خصوصی توجہ دے رکھی تھی اور جہاں کہیں بھی ہوتے اپنے بیٹے سے بذریعہ خط کتابت حصول علم کے سلسلہ میں آپ کو پند و نصائح فرماتے رہتے اور علم کی فضیت سے آگاہ فرماتے رہے۔ حضورقبلہ بابو جی کی خصوصی توجہ نے آپ کوعلم و عمل کا بحر بیکراں بنا دیا تھا۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

تاجدارِ گولڑہ پیر سید مہر علی شاہ کے دونوں پوتے غلام معین الدین گیلانی اور سید عبد الحق گیلانی ان کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے اور انہی سے خرقہ خلافت حاصل کر کے صاحب ارشاد ہوئے۔

حج بیت اللہ و زیارات مقامات مقدسہ[ترمیم]

پیر غلام معین الدین گیلانی نے لاتعداد مرتبہ حج بیت اللہ شریف ادا کیا۔ آپ مدینہ منورہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار گوہر بار میں بھی بہت عقیدت و محبت سے حاضری دیا کرتے تھے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آپ کی سخاوت کا یہ عالم ہوتا کہ اہل مدینہ میں جتنے حسنی حسینی سید موجود تھے ان کو فوقیت دیتے ہوئے ان کی ہر ضرورت پوری کرتے اور کثیر رقم نقد پیش کرتے۔ اس کے علاوہ بھی اپنے آباؤ اجداد کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے مدینہ پاک کے غربا و مساکین اور علما و طلبہ کی دل کھول کر امداد فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے متعدد بار بغداد شریف، دمشق، شام، کربلائے معلی، نجف اشرف، کاظمین شریفین، بخارا، کابل، قندھار اور دیگر مقامات مقدسہ کی زیارات کے لیے بھی متعدد سفر کیے۔

سیرت و کردار[ترمیم]

آپ جس قدر خوبصورت تھے حق تعالی نے اس قدر آپ کو باطنی حسن سے بھی نوازا تھا۔ اخلاق محمدی کا عملی نمونہ تھے۔ سخاوت میں بے مثل تھے۔ عفودرگذر آپ کا شیوه خاص تھا۔ دشمن سے بھی گفتگو فرما رہے ہوتے تو معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے لبوں سے پھول جھڑ رہے ہیں۔ اتنے عالی شان اور رفیع الدرجات گھرانے سے تعلق کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ تکبر، غرور، حسد، کبر، کینہ اور بخل جیسی چیزیں نام کو بھی آپ میں موجود نہ تھیں۔ اپنے سے بڑوں کا انتہائی درجہ کا احترام فرماتے اور چھوٹوں پر شفقت کے لیے ہمیشہ آپ کا ہاتھ دراز رہتا۔ آپ کی زندگی کے معمولات بہت سخت تھے۔ ہر کام کو اپنے وقت پرانجام دیتے تھے۔ عبادت، ریاضت اور مجاہدہ سلوک میں آپ یکتائے روزگار تھے۔ تہجد اور دیگر نوافل کا اہتمام خصوصیت سے فرماتے تھے۔ آپ ہمہ وقت اپنے اوراد و وظائف میں مشغول رہتے۔ سفر ہو یا حضر آپ نے اپنے معمولات میں کبھی بھی فرق نہیں آنے دیا۔ آپ اپنے زمانے کے مشائخ میں لاثانی تھے۔ سخاوت حد درجہ کی فرماتے۔ آنے والے سائل کو کبھی نہ جھڑکا نہ خالی لوٹایا۔ اپنے دادا پیر مہر علی شاہ اور والد بزرگوار پیر سید غلام محی الدین گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طریقت و شریت کی مکمل پاسداری آپ کا شیوہ رہا۔ آپ جب دعا فرماتے تو فیضان کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا تھا۔ آپ انتہا درجہ کے راست گو اور روشن خیال تھے۔ بڑے بڑے قد آور، صاحب اختیار اور سرکش قسم کے لوگ آپ کو دیکھتے ہی سر جھکا لیتے تھے۔ خوشامد اور خود نمائی کا آپ میں شائبہ تک نہ تھا۔ آپ اپنے آپ کو نہ تو پیر لکھتے تھے اور نہ لکھوانا پسند کرتے تھے۔ آپ خادم دربار کہلوانا پسند فرماتے تھے۔ اپنے آباؤ اجداد اور پیرخانہ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ آپ جاہ و جلال اور قد و قامت میں سیدنا عمر فاروق رضی الله تعالی عنہا کے وارث لگتے اور معرفت و طریقت میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہا کی تصویر تھے۔

وصال با کمال[ترمیم]

پیر غلام معین الدین گیلانی وصال با کمال سے پہلے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اب یہاں جی نہیں لگتا۔ چنانچہ آپ کا وصال 2 ذیقعد بروز بدھ 1997ء میں گولڑہ شریف میں ہوا۔ لاکھوں افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ مزار پر انوار گوڑ شریف ضلع اسلام آباد میں مرجع خاص و عام ہے۔ [1]

اولاد[ترمیم]

پیر غلام معین الدین گیلانی کے تین بیٹے تھے

  1. پیر نصیر الدین نصیر
  2. غلام جلال الدین
  3. غلام حسام الدین

ان میں پیر نصیر الدین نصیر آپ کے جانشین ہوئے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 113 تا 115
  2. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد راہی صفحہ 37