غیاث الدین محمد غوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غیاث الدین محمد بن سام
شہنشاہ افغان سلطان غوری سلطنت
Ghyasudeen-Ghuri.jpg
عکس غیاث الدین محمد — 1192ء
معیاد عہدہ 1163ء — 1202ء
پیشرو سیف الدین محمد
جانشین شہاب الدین غوری
نسل غیاث الدین محمود
والد بہاء الدین سام
پیدائش 1139ء
صوبہ غور، غوری سلطنت موجودہ افغانستان
وفات 11 فروری 1203ء (عمر 63 سال)
ہرات، غوری سلطنت، موجودہ صوبہ غور، افغانستان
مذہب سنی اسلام

غیاث الدین محمد بن سام غوری سلطنت کا حکمران تھا۔ وہ 1163ء میں تخت نشین ہوا اور 11 فروری 1203ء تک مسلسل تخت غوری پر متمکن رہا۔ غیاث الدین محمد کے زمانہ میں غوری سلطنت کی حدود گرگان سے لے کر بنگال تک پھیل چکی تھیں۔

نام و لقب[ترمیم]

سلطان غیاث الدین محمد کا نام محمد بن سام ہے۔ لقب سلطان المعظم غیاث الدنیاء وَ الدین قسیم امیر المومنین ہے۔ کنیت ابو الفتح ہے۔ اِن کی والدہ اِنہیں ازراہِ محبت "حبشی" کہا کرتی تھیں۔[1]

پیدائش و تخت نشینی[ترمیم]

غیاث الدین محمد کی پیدائش 1139ء میں صوبہ غور میں ہوئی۔ اُس کے والد بہاء الدین سام تھے جو 1149ء میں غوری سلطنت کے بادشاہ کی حیثیت سے حکمرانی کر رہے تھے۔ 1149ء میں جب غیاث الدین محمد کے والد بہاء الدین سام کا انتقال ہوا تو اُس کے چچا علاء الدین حسین نے اُسے اُس کے چھوٹے بھائی معز الدین (جو بعد ازاں شہاب الدین غوری کے نام سے مشہور ہوا) کے ہمراہ قید کر دیا اور خود بادشاہ بنا۔ 1161ء میں علاء الدین حسین فوت ہوا تو اُس کا بیٹا سیف الدین محمد تخت نشیں ہوا تو اُس نے غیاث الدین محمد اور اُس کے چھوٹے بھائی معز الدین شہاب الدین غوری کو قید سے آزاد کر دیا۔ 1163ء میں سیف الدین محمد بھی فوت ہوا تو غوری اُمرائے حکومت نے غیاث الدین محمد کو تخت نشین کر دیا۔ اُس وقت غیاث الدین محمد کی عمر فقط 24 سال تھی۔

فتوحات[ترمیم]

1173ء میں غیاث الدین محمد نے غزنی شہر پر لشکر کشی کی اور غزنی کو غز ترکوں کے قبضہ سے چھین لیا۔ غیاث الدین محمد نے غزنی شہر پر اپنے بھائی معز الدین شہاب الدین غوری کو حاکم و امیر غزنی مقرر کیا۔1175ء میں غیاث الدین محمد نے ہرات شہر پر حملہ کیا۔ اُس وقت ہرات شہر سلجوقیوں کے تسلط میں تھا اور ایک سنجری غلام بہاء الدین طغرل قابض تھا۔ اہل ہرات اُس کے مظالم سے تنگ آئے تو غیاث الدین محمد کو بلایا اور اِسی اثناء میں بہاء الدین طغرل خوارزم شاہی سلطنت بھاگ نکلا اور ہرات پر سلطان غیاث الدین محمد کا قبضہ ہو گیا۔ کچھ ہی عرصہ میں قادس، کالیون، نیوارو، سیفرود کے علاقے بھی غوری سلطنت میں شامل ہو گئے۔[2] ہرات شہر میں غوری فاتح پشنگ کو امیر مقرر کیا۔ ہرات شہر کی فتح کے مختصر عرصہ کے بعد ہی سیستان کے امیر و حاکم تاج الدین حرب ابن محمد نے غیاث الدین محمد کی ماتحتی قبول کرلی اور سیستان کو غوری سلطنت میں ضم کر لیا گیا لیکن چند ہی دِنوں بعد غز ترک کرمان شہر پر غالب آ گئے۔[3]

1186ء میں غیاث الدین محمد نے اپنے چھوٹے بھائی معز الدین شہاب الدین غوری کے ہمراہ غزنوی سلطنت پر لشکر کشی کی۔ سلطان غیاث الدین محمد نے لاہور پر قبضہ کر لیا اور غزنوی امیر لاہور خسرو ملک قتل کر دیا گیا۔ اس طرح ہند کے شمالی علاقوں سمیت لاہور غوری سلطنت کا حصہ قرار پایا۔ 1190ء میں سلطاں غیاث الدین محمد نے حاکمان بامیان و سیستان کی مدد سے مرو الرود کے مقام پر سلطان شاہ خوارزمشاہی کو شکست دے کر خراسان پر قبضہ کیا اور خراسان غوری سلطنت کا حصہ بنا۔

سلطان غیاث الدین محمد بحیثیت حکمران[ترمیم]

سلطان غیاث الدین محمد فیاض و سخی، علم دوست اور علم پرور تھا۔ اُس کے عہد میں مستحقین صدقات و اِمداد کے نام سرکاری دفتروں میں درج تھے۔ سلطان غیاث الدین محمد اولاً قرامطی تھا مگر قاضی وحید الدین کی تبلیغ سے مسلک شافعی اِختیار کر لیا۔ یہ بات قرامطہ کو بہت شاق گزری۔ قرامطہ کے ایک امام صدر الدین علی ہیصم نیشاپوری نے ہجو میں ایک قطعہ لکھ بھیجا جس کا ایک شعر یوں تھا:

تا چُو ہرکس با اِمام اہل خیزد روز حشر

تو درِیں تقلید خود تنہاء بِمانی جاوِداں

سلطان غیاث الدین محمد کو جب خبر ہوئی تو خوب بگڑا۔ قرامطہ کا اِمام صدر الدین علی ہیصم نیشاپوری غور چھوڑ کر نیشاپور چلا گیا۔ ایک سال بعد ایک دعائیہ قصیدہ لکھ کر سلطان غیاث الدین محمد سے معذرت چاہی۔ اُس قصیدہ کا مشہور شعر یہ ہے:

دُعائے دولتِ تو فرض ہر قوی و ضعیف

ثنائے حضرت تو فرض برذِ کورو اَناث [4]

مشاغل و شغف[ترمیم]

سلطان غیاث الدین محمد اوائل شباب میں عیش و عشرت اور شکار کا بہت دلدادہ تھا۔ فیروزکوہ سے علاقہ زمینداور تک 40 فرسنگ کا فاصلہ تھا، اِس تمام علاقے میں کسی فرد کو مجال نہ تھی کہ وہ شکار کرسکے۔ شہر زمینداور میں ایک باغ ارم نامی لگوایا تھا جو اُس زمانہ میں بے مثال تھا۔ اُس باغ کا طول گھوڑے کی دو منزلوں کے برابر تھا اور ہر قسم کے پھولوں سے آراستہ تھا۔ اِس باغ کے پاس اُس کے طول و عرض کے برابر ایک میدا تھا جس میں ہر سال ایک ماہ تک ہزاروں شکاری جمع ہوا کرتے تھے۔ مجلس عیش و نشاط جما کرتی اور خوب شکار کھیلا جاتا۔ لیکن چند سالوں بعد سلطان غیاث الدین محمد نے شراب نوشی سے توبہ کرلی تھی۔[4]

وفات[ترمیم]

بروز منگل 27 جمادی الاول 599ھ مطابق 11 فروری 1203ء کو سلطان غیاث الدین محمد بن سام نے 63 سال کی عمر میں ہرات شہر میں وفات پائی۔ سلطان غیاث الدین محمد نے 40 سال شمسی اور قریباً 43 سال قمری حکمرانی کی۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. منہاج الدین جوزجانی: طبقات ناصری، سترہواں طبقہ: شنسبانی حکمران و غوری سرداران، صفحہ 153 اور 155، طبع لاہور2004ء۔
  2. منہاج الدین جوزجانی: طبقات ناصری، سترہواں طبقہ: شنسبانی حکمران و غوری سرداران، صفحہ 154، طبع لاہور2004ء۔
  3. Encyclopedia Iranica, Ghaznavids, Edmund Bosworth, Online Edition 2007
  4. ^ ا ب پ منہاج الدین جوزجانی: طبقات ناصری، سترہواں طبقہ: شنسبانی حکمران و غوری سرداران، صفحہ 155، طبع لاہور2004ء۔