غیر جنسی تولید
زیادہ تر جاندار اپنی نسل میں اضافے کے لیے جنسی تولید کا طریقہ اپناتے ہیں یعنی یہ اپنی مخالف جنس سے ملاپ کر کے اپنے جیسے جاندار پیدا کرتے ہیں۔ بعض انواع میں جنسی عمل کے بغیر بھی افزائش نسل ہو جاتی ہے۔ اس طریقہ تولید کو غیر جنسی طریقۂ تولید (Asexual Reproduction) کہا جاتا ہے۔ اس طریقۂ تولید کی بہت سی مختلف اقسام ہیں۔
امیبا جیسے یک خلوی جانور ثنائی انشقاق یا دو پارگی (Binary Fission) کے ذریعے اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔ اس طریقے میں ایک امیبا سادہ تقسیم کے طریقے سے دو امیبا میں تبدیل ہوتا ہے۔ تاہم تقسیم سے پہلے امیبا اپنے اندر موجود ہر شے کو برابر تقسیم کرتا ہے، تاکہ نئے جنم لینے والے دونوں امیبا ہر طرح سے ایک جیسے ہوں۔[1]
چپٹے کیڑوں (پلیٹی ہیلمن تھس) میں سے کچھ اپنی تولید کے لیے باز پیدائش (Regeneration) کا طریقہ اپناتے ہیں۔ اگر اس گروہ کا کوئی کیڑا بیچ میں سے ٹوٹ جائے تو ہر نصف حصہ اپنا بقیہ نصف حصہ مکمل کر لیتا ہے۔ یوں ایک خاص دورانیے کے بعد ایک کی بجائے دو کیڑے بن جاتے ہیں۔
توالد البکر یا باکرہ زائی (Parthenogenesis) میں مادہ جانور نر جانور سے ملاپ کے بغیر ہی انڈے دیتی ہے۔ اس لیے ان سے نکلنے والے بچے ہو بہوا اپنی ماں جیسے ہوتے ہیں۔
کچھ ادنٰی درجے کے پودے بھی غیر جنسی طریقے سے بذرے (Spores) بناتے ہیں۔ یہ بذرے یوں تو بیجوں سے ملتے چلتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ یہ کسی مادہ پودے میں پیدا نہیں ہوتے۔ بذروں کے پھوٹنے پر نر اور مادہ دونوں طرح کے پودے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے جنسی ملاپ کے نتیجے میں ایک ایسا پودا لگتا ہے جو دوبارہ بذرے پیدا کرنے لگتا ہے۔
درختوں کی طرح کے کچھ اعلٰی پودے بھی غیر جنسی طریقہ تولید اختیار کرتے ہیں۔ مثلا اگر بانس کے درخت کی شاخ ٹوٹ کر نم زمین پر گر جائے تو اس سے ایک نیا پودا جنم لے لیتا ہے۔ اس عمل کو نموی افزائش (Propagation) کہا جاتا ہے۔
غیر جنسی طریقۂ تولید کے ذریعے پیدا ہونے والے پودے یا جانور ہو بہو اپنے والدین کے مشابہ ہوتے ہیں۔ انھیں کلون (Clones) کہتے ہیں۔ حیات کے ابتدائی ادوار میں غیر جنسی طریقۂ تولید کا غلبہ تھا۔ تاہم اب پودوں اور جانوروں میں جنسی طریقۂ تولید زیادہ عام اور رائج ہے۔ اس طریقے میں والدین اور اولاد کے درمیان کچھ فرق ہمیشہ پیدا ہوتا ہے۔ خارجی حالات بدلتے ہیں تو ان کے مطابق خواص رکھنے والے جاندار بچ جاتے ہیں اور ارتقائی عمل آگے بڑھتا ہے۔ خواص کا جینیاتی تغیر فقط جنسی افزائش میں ممکن ہے۔ اگر تمام جاندار صرف غیر جنسی تولید ہی سے اپنی نسل کو بڑھائیں تو ارتقا کا عمل تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Mehrotra, R. S.; Aneja, K. R. (Dec 1990). An Introduction to Mycology (بزبان انگریزی). New Age International. pp. 83 ff. ISBN:978-81-224-0089-2.