غیر معلنہ جنگ
غَیْر مُعْلِنَہ جَن٘گ (انگریزی: Undeclared war، یعنی بغیر اعلان والی جنگ) ایسی مسلح کشمکش کو کہا جاتا ہے جو دو یا زیادہ ممالک کے درمیان اس وقت وقوع پزیر ہو جب کسی بھی فریق کی جانب سے باضابطہ اعلانِ جنگ نہ کیا گیا ہو۔ کبھی کبھی یہ اصطلاح ایسے تنازعات یا کشیدگی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جن میں رسمی اعلان کے بغیر فریقین جنگ میں ملوث ہوں۔ کوریا کی جنگ کے دوران میں اقوام متحدہ کی طرف سے کی گئی ’پولیس کارروائی‘[1] کے بعد کئی حکومتوں نے محدود جنگی کارروائیوں کو ’فوجی اقدام‘ یا ’مسلح رد عمل‘ جیسے نام دے کر اعلانِ جنگ سے گریز کی روش اپنائی۔
بین الاقوامی عرفی قانون کے تحت جنگ کا باقاعدہ اعلان ضروری نہیں ہوتا۔ دشمنانہ کارروائیوں کا آغاز ہی متحارب ارادوں کو واضح کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔[2]
امریکا
[ترمیم]امریکی قانون میں اعلانِ جنگ کے لیے کسی خاص شکل یا ساخت کی پابندی نہیں ہے۔ آئینِ ریاستہائے متحدہ امریکا میں درج ہے: ”کانگریس کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جنگ کا اعلان کرے، جہاز کی ضبطی اور انتقامی کارروائی کی اجازت دے اور زمین و پانی پر قبضے سے متعلق قوانین بنائے۔“[3]
ستمبر 2024ء تک امریکی کانگریس 11 مرتبہ باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان کر چکی ہے جن میں سے آخری اعلان 1942ء میں ہوا تھا؛ اور ان میں سے 6 اعلانات دوسری جنگِ عظیم سے متعلق تھے۔[4] امریکا نے ویت نام کی جنگ میں شرکت کے دوران جنگ کا اعلان نہیں کیا بلکہ خلیج ٹونکن قرارداد کے ذریعے کانگریس نے فوجی قوت کے استعمال کی اجازت دی۔[5] کم از کم 125 مرتبہ امریکی صدور نے کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی طاقت استعمال کی۔[6] ان میں سب سے نمایاں مثال کوریا کی جنگ ہے جس میں امریکا نے اقوام متحدہ کی امن فوج کی قیادت کرتے ہوئے شمالی کوریا کی جارحیت کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اس جنگ میں 1،42،000 سے زائد امریکی ہلاکتیں و زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے جن میں تقریباً 40،000 اموات شامل ہیں۔[6]
روس
[ترمیم]روس یوکرین جنگ کے دوران میں روس کی جانب سے آج تک کوئی باضابطہ اعلانِ جنگ جاری نہیں کیا گیا۔ 2022ء میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملہ کرتے وقت اسے ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ قرار دیا۔[7]
دیگر مثالیں
[ترمیم]1982ء میں ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان لڑی گئی فاک لینڈز جنگ (اپریل تا جون 1982ء) کا بھی کسی فریق نے باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔[8]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Harry S. Truman (29 Jun 1950). "The President's News Conference of June 29, 1950" (بزبان انگریزی). Teachingamericanhistory.org. Retrieved 2011-01-04.
- ↑ "Declaration of war". International Committee of the Red Cross (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-02-09.
- ↑ "U.S. Constitution - Article 1 Section 8" آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ usconstitution.net (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل).
- ↑ Garance Franke-Ruta (31 Aug 2019). "All the Previous Declarations of War". The Atlantic (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2019-09-01.
- ↑ "The Law: The President's War Powers". Time (بزبان انگریزی). 1 Jun 1970. Archived from the original on 2008-01-07. Retrieved 2009-09-28.
- 1 2 John C. Yoo; Robert J. Delahunty (2002). "The President's Constitutional Authority to Conduct Military Operations Against Terrorist Organizations and the Nations that Harbor or Support Them". SSRN Working Paper Series (بزبان انگریزی): 502. DOI:10.2139/ssrn.331202. ISSN:1556-5068. Archived from the original on 2019-04-26. Retrieved 2020-01-14.
- ↑ Putin's Ukraine invasion - do declarations of war still exist?, R. Pullen, C. Frost, The Conversation, March 3, 2022]
- ↑ "A Short History of the Falklands Conflict". Imperial War Museums (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-02-25.