فارابی
| فارابی | |
|---|---|
| (فارسی میں: ابونصر محمد بن محمد فارابی) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 870ء [1][2] فاراب [3] |
| وفات | سنہ 951ء (80–81 سال) دمشق [4][5] |
| مدفن | باب صغیر |
| شہریت | |
| لقب | المعلم الثاني |
| مذہب | اسلام [6]، اہل تشیع [7] |
| عملی زندگی | |
| استاذ | يوحنا بن حيلان، أبي بشر متى بن يونس |
| تلمیذ خاص | یحیی بن عدی [8] |
| پیشہ | فلسفی ، طبیعیات دان ، موسیقی کا نظریہ ساز ، منطقی ، ماہر فلکیات |
| مادری زبان | ترکی [9][3] |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی [10][11]، فارسی ، سغدی زبان |
| شعبۂ عمل | فطری تاریخ ، ماوراء الطبیعیات ، ریاضی ، منطق [12]، فلکیات ، طب ، اخلاقیات ، سیاسیات ، نفسیات |
| کارہائے نمایاں | آراء المدینہ الفاضلہ ومضاداتھا ، رسالہ فی العقل ، الجمع بین رایی الحکیمین ، کتاب الموسیقی الکبیر |
| مؤثر | ارسطو [11]، افلاطون [13]، فلاطینوس [14] |
| درستی - ترمیم | |
ابو نصر فارابی، جن کا اصل نام محمد تھا اور کنیت ابو نصر تھی، 260ھ (874ء) میں فاراب (ترکستان، موجودہ قازقستان)[17] .[18] میں پیدا ہوئے اور 339ھ (950ء) میں وفات پائی۔ انھیں “الفارابی” اس شہر کی نسبت سے کہا جاتا ہے جہاں وہ پیدا ہوئے۔ وہ ایک عظیم فلسفی تھے اور اسلامی دنیا کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے طب، طبیعیات ، فلسفہ اور موسیقی سمیت متعدد علوم میں مہارت حاصل کی۔[19]
انھوں نے کچھ عرصہ بغداد میں گزارا، پھر دمشق منتقل ہو گئے۔ وہاں سے انھوں نے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور آخرکار دوبارہ دمشق واپس آ کر وہیں قیام پزیر رہے یہاں تک کہ وفات پا گئے۔ اپنے قیامِ شام کے دوران وہ حلب بھی گئے، جہاں انھوں نے سیف الدولہ حمدانی کے دربار میں قیام کیا اور علما، ادبا اور فلاسفہ میں بلند مقام حاصل کیا۔ [20] ان کے معاصرین نے انھیں “معلم الثانی” (دوسرا استاد) کا لقب دیا، کیونکہ انھوں نے ارسطو (جو “معلم اول” کہلاتے ہیں) کی تصانیف پر گہری تحقیق کی، ان کی شرح کی اور ان پر اہم حواشی لکھے۔
مورخین کے نزدیک اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ ابو نصر الفارابی اسلامی فلسفہ کے اولین بانی ہیں اور ان کے بعد آنے والے اکثر علما ان کے افکار سے متاثر ہوئے۔ [21]
تسمیہ
[ترمیم]ابو نصر فارابی کے نام اور نسب کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابن ابی اصیبعہ نے اپنی کتاب عیون الأنباء میں ان کا نام “ابو نصر محمد بن محمد بن اوزلغ بن طرخان” ذکر کیا ہے۔ بعض مؤرخین، جیسے ابن خلكان، نے انھیں “ابو نصر محمد بن طرخان بن اوزلغ” کہا ہے۔ جبکہ القفطی اور بیہقی کے مطابق ان کا نام “ابو نصر محمد بن محمد بن طرخان” تھا۔ اسی طرح ابن نديم نے اپنی کتاب الفہرست میں بھی یہی نام ذکر کیا ہے، جبکہ صاعد اندلسی نے طبقات الأمم میں ان کا نام “ابو نصر محمد بن محمد بن نصر” بیان کیا ہے۔ [22]
اسی طرح ان کی جائے پیدائش کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ ابن نديم کے مطابق ان کا اصل خراسان کے علاقے فاریاب سے تھا،[23] جبکہ بیہقی نے انھیں ترکستان کے علاقے فاریاب سے منسوب کیا ہے۔ [24] تاہم یہ رائے اس بات سے مختلف ہے جو معجم البلدان میں مذکور ہے، جہاں فاریاب کے باشندوں کو “فاریابی” کہا گیا ہے، جیسے محمد بن یوسف الفاریابی۔ [25]
سیرت
[ترمیم]
ابو نصر فارابی کا مکمل نام ابو نصر محمد بن محمد بن اوزلغ بن طرخان بیان کیا جاتا ہے اور ان کے نسب میں “طرخان” کا نام نمایاں طور پر ملتا ہے۔ ان کے دادا اپنے معاصرین میں زیادہ معروف نہ تھے، لیکن “اوزلغ” کا نام بعد میں ابن ابی اصیبعہ کی تحریروں میں ظاہر ہوا، جبکہ ان کے پردادا کا ذکر ابن خلكان کی کتابوں میں ملتا ہے۔ [26]
الفارابی کے نسب اور اصل کے بارے میں روایات میں جو اختلاف پایا جاتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے دوران یا اس کے فوراً بعد کسی مستند شخص نے ان کی مکمل سوانح عمری مرتب نہیں کی۔ چنانچہ ان کے بارے میں موجود معلومات زیادہ تر قیاسات اور روایتی بیانات پر مبنی ہیں، جیسا کہ ان کے بعض معاصرین کے حالات میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کے بارے میں مستند معلومات بہت کم ہیں۔ ابتدائی مصادر میں ایک مختصر خود نوشت اقتباس ملتا ہے، جس میں الفارابی نے اپنے زمانے تک منطق اور فلسفہ کی تاریخ کا سرسری جائزہ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ مسعودی ، ابن نديم اور ابن حوقل نے بھی ان کا مختصر ذکر کیا ہے۔ صاعد اندلسی نے الفارابی کی سوانح عمری لکھی، مگر بارہویں اور تیرہویں صدی کے عرب مؤرخین کے پاس ان کی زندگی کے بارے میں مستند معلومات بہت محدود تھیں، جس کے باعث انھوں نے ان کی سیرت میں بعض من گھڑت حکایات بھی شامل کر دیں۔ [26]
ابو نصر فارابی کی زندگی کے بارے میں جو روایات دستیاب ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بغداد میں گزارا، جہاں انھوں نے عیسائی علما کے ساتھ وقت گزارا، جن میں يوحنا بن حيلان ، یحیی بن عدی اور ابو اسحاق ابراہیم بغدادی شامل تھے۔ اس کے بعد وہ کچھ عرصہ دمشق اور مصر میں رہے، پھر دوبارہ دمشق واپس آئے، جہاں 950–951ء میں ان کا انتقال ہوا۔ [27]
ان کی جائے پیدائش کے بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ وسطی ایشیا کے متعدد مقامات “فاراب” یا “فاریاب” کے نام سے معروف تھے، جو عمومی طور پر خراسان کے علاقے میں شمار ہوتے تھے۔ “فاراب/باراب” دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے “وہ زمین جو چشموں یا دریا کے پانی سے سیراب ہو”۔ اسی وجہ سے اس نام کے کئی مقامات موجود تھے، مثلاً: سیر دریا (جاکسارتس) کے کنارے موجود فاراب (موجودہ قازقستان) آمو دریا (اوکسس) کے کنارے موجود فاراب (موجودہ ترکمانستان) خراسان الكبرى میں فاریاب (موجودہ افغانستان) قدیم فارسی میں “باراب” یا “فاریاب” ایک عام جغرافیائی نام تھا، جس کا مطلب “دریا کے پانی سے سیراب زمین” ہے۔ تیرہویں صدی تک سیر دریا کے کنارے واقع فاراب کو “اُترار” کے نام سے بھی جانا جانے لگا۔ [28][29] .[30]
جہاں تک فارابی کی نسلی اصل کا تعلق ہے، علما کے درمیان اس پر مکمل اتفاق نہیں ہے، تاہم عمومی رجحان یہ ہے کہ ان کا تعلق ترک النسل پس منظر سے تھا۔[26][31][32][33][34][35]
نظریۂ ایرانی اصل
[ترمیم]قرونِ وسطیٰ کے عرب مؤرخ ابن ابی اصیبعہ (وفات 1270ء)، [26][36] جو فارابی کی سوانح عمری لکھنے والے اولین مؤرخین میں شمار ہوتے ہیں، اپنی کتاب عیون الانباء میں ذکر کرتے ہیں کہ ابو نصر فارابی کے والد فارسی النسل تھے۔ اسی طرح شمس الدین شہرزوری (تقریباً 1288ء) نے بھی اپنی سوانحی تحریر میں اشارہ کیا کہ فارابی ایک فارسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ [37][38] ماجد فخری، جو جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے فلسفہ کے پروفیسر تھے، کے مطابق فارابی کے والد فوج میں ایک نقیب تھے اور ان کا تعلق فارسی نسل سے تھا۔ [39] [26][40] [41] [42] . .[43]
نظریۂ ترک اصل
[ترمیم]قرونِ وسطیٰ کے مؤرخ ابن خلكان (وفات 1282ء) وہ قدیم ترین ماخذ شمار ہوتے ہیں جنھوں نے ابو نصر فارابی کو ترک النسل قرار دیا۔ اپنی کتاب وفيات الاعيان وانباء ابناء الزمان (جو 669ھ / 1271ء میں مکمل ہوئی) میں انھوں نے ذکر کیا کہ الفارابی ایک چھوٹے سے گاؤں “واسیج” میں پیدا ہوئے جو فاراب (موجودہ قازقستان) کے قریب واقع تھا اور ان کے والدین ترک تھے۔ اسی روایت کی بنیاد پر بعض جدید محققین نے بھی انھیں ترک النسل قرار دیا ہے۔ [44][45][46][47][48][49]
دیمیتری گوتاس، جو ایک یونانی نژاد امریکی مستشرق ہیں، اس روایت پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ابن خلكان کی روایت پہلے کے ماخذات، خصوصاً ابن ابی اصیبعہ، کے بیانات کو رد کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ الفارابی ترک النسل تھے۔ وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ “الترک” جیسی نسبت الفارابی کے نام کے ساتھ تاریخی طور پر ثابت نہیں ملتی۔ تاہم ابو الفداء، جو ابن خلكان کے مؤقف کے قریب ہیں، اس بات کو مزید واضح کرتے ہیں اور عبارت میں ترمیم کرتے ہوئے اسے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ “ترک نسل کے فرد تھے”۔ اس سلسلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کلفرڈ ایڈمنڈ بوسورتھ بھی یہ رائے دیتے ہیں کہ الفارابی، البیرونی اور ابن سينا جیسی عظیم شخصیات کو ترک علما سے جوڑا گیا ہے جو اپنی نسلی شناخت پر زور دیتے تھے۔ [50]
تعلیم
[ترمیم]ابو نصر فارابی نے اپنی پوری زندگی تقریباً بغداد میں گزاری۔ یہ بات اس سوانح سے بھی واضح ہوتی ہے جو ابن ابی اصیبعہ نے لکھی، جس میں ذکر ہے کہ الفارابی نے طب اور فلسفہ کی تعلیم يوحنا بن حيلان سے حاصل کی، جن میں ارسطو کی بعد کی تشریحات بھی شامل تھیں۔ منہجِ تعلیم کے مطابق انھوں نے ایساغوجی، کتاب المقولات، کتاب العبارة، کتاب القیاس اور کتاب البرہان کی شرح بھی کی۔ ان کے استاد یوحنا بن حیلان غالباً ایک نسطوری مسیحی مذہبی عالم تھے۔ الفارابی طویل عرصہ بغداد میں مقیم رہے اور المسعودی کے مطابق یوحنا کی وفات خلیفہ مقتدر (295ھ–320ھ / 908–932ء) کے دور میں ہوئی۔
الفارابی کم از کم ستمبر 942ء تک بغداد میں موجود رہے، جیسا کہ ان کے نوٹس سے ظاہر ہوتا ہے جو انھوں نے اپنی کتاب آراء اہل المدینہ الفاضلہ میں درج کیے، جسے انھوں نے اگلے سال 943ء میں دمشق میں مکمل کیا۔ [51] انھوں نے بعض اوقات تطوان میں بھی تعلیم دی اور کچھ عرصہ حلب میں تدریس کی۔ بعد ازاں وہ مصر گئے اور وہاں فلسفۂ قدیم کے اصولوں کا خلاصہ چھ حصوں میں مکمل کیا، جس کا زمانہ تقریباً 337ھ / 948ء بتایا جاتا ہے۔ جون 949ء میں وہ دوبارہ شام واپس آئے جہاں انھیں سیف الدولہ حمدانی کی بھرپور سرپرستی حاصل ہوئی۔ مسعودی کے مطابق اپنی کتاب تاریخ التکوین میں انھوں نے لکھا کہ الفارابی کا انتقال دمشق میں رجب 339ھ (14 دسمبر 950ء تا 12 جنوری 951ء کے درمیان) ہوا۔ [26]
دین و مذہبی رجحان
[ترمیم]ابو نصر فارابی کی دینی نسبت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ہنری كوربان نے ان کی تحریروں میں ایسے شواہد تلاش کیے ہیں جن کی بنیاد پر ایران میں رائج یہ رائے مضبوط ہوتی ہے کہ الفارابی شیعہ تھے۔ ان کے مطابق الفارابی کی اصطلاح “فلسفۂ نبوت” اور شیعہ ائمہ کی تعلیمات کے درمیان واضح مشابہت پائی جاتی ہے۔ [52] اسی طرح فوزي النجار نے بھی یہ موقف اختیار کیا ہے کہ الفارابی کا سیاسی فلسفہ شیعہ تعلیمات سے متاثر تھا۔ [53] نادیہ مفتونی کے مطابق الفارابی کی تحریروں میں شیعہ رجحانات موجود ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اپنی کتابوں جیسے الملّہ، السياسة المدنية اور تحصيل السعادہ میں وہ ایسی مثالی ریاست کا تصور پیش کرتے ہیں جس کی قیادت نبی اور ان کے خلفاء (ائمہ) کرتے ہیں۔ [54] دوسری طرف محسن مہدی کا خیال ہے کہ الفارابی حنفی تھے اور وہ فقہ حنفی کے اصولوں کی پابندی کرتے تھے۔ [55]
حیات اور تعلیم
[ترمیم]ابو نصر فارابی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، جہاں انھوں نے علوم، ریاضیات ، ادب ، فلسفہ اور زبانوں کا مطالعہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ترک زبان میں مہارت رکھتے تھے جو ان کی بنیادی زبان سمجھی جاتی ہے، اس کے علاوہ وہ عربی، فارسی اور یونانی زبانیں بھی جانتے تھے۔
تقریباً 310ھ کے آس پاس وہ اپنے وطن سے عراق روانہ ہوئے تاکہ اپنی تعلیم کو آگے بڑھا سکیں۔ انھوں نے حران میں فلسفہ ، منطق اور طب کی تعلیم يوحنا بن حيلان سے حاصل کی۔ [56] [ar 1]بعد ازاں وہ بغداد گئے جہاں انھوں نے فلسفہ اور منطق کی تعلیم ابو بشر متى بن يونس سے حاصل کی، جو یونانی متون کے مشہور مترجم تھے۔ انھوں نے عربی لسانیات کی تعلیم ابن السراج سے بھی حاصل کی۔ [57]
انھوں نے موسیقی اور طب و ریاضیات کی اعلیٰ تعلیم بھی مکمل کی۔ وہ علم کی تلاش میں سفر کے شوقین تھے، اسی لیے وہ عراق سے شام منتقل ہو گئے، جہاں انھوں نے مختلف شہروں خصوصاً حلب اور دمشق میں وقت گزارا۔ وہ سیف الدولہ حمدانی کے دربار میں علمی مشاغل کے ساتھ وابستہ رہے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے 338ھ کے قریب مصر کا سفر بھی کیا اور پھر دوبارہ دمشق واپس آ گئے، جہاں ان کی وفات 339ھ (یا بعض روایات کے مطابق 398ھ) میں ہوئی۔ [58].[59]
ابن خلكان کے مطابق الفارابی گوشہ نشینی پسند تھے اور زیادہ تر وقت دمشق کے باغات اور دریاؤں کے کنارے گزارتے تھے، جہاں وہ تنہائی میں علمی تصانیف لکھتے تھے۔ ان کے پاس طلبہ اور معاونین بھی علم حاصل کرنے کے لیے آتے رہتے تھے۔ [60]
وفات
[ترمیم]
اکثر مؤرخین کے مطابق الفارابی کی وفات تقریباً 339ھ میں ہوئی جب ان کی عمر 79 یا 80 سال کے قریب تھی۔ انھیں دمشق میں دفن کیا گیا اور روایت کے مطابق سیف الدولہ حمدانی نے اپنے 14 یا 15 خاص ساتھیوں کے ساتھ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ مؤرخین کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی وفات طبعی تھی۔ [61]
باب الصغير قبرستان دمشق کے مشہور قبرستانوں میں سے ایک ہے جہاں اہلِ بیت، شعرا، علما اور مسلم حکماء کے کئی مزارات موجود ہیں۔ ان کے مزار پر یہ عبارت درج ہے: “یہ عالم ، فلسفی ، ادیب اور اسلامی موسیقار محمد بن طرخان بن اوزلغ کا مزار ہے جو ابو نصر فارابی کے نام سے مشہور ہیں۔” [62] .[63]
علمی خدمات
[ترمیم]فلسفہ
[ترمیم]ابو نصر الفارابی نے وہ فلسفیانہ نظام قائم کیا جسے اسلامی فلسفہ میں پہلا منظم منہج سمجھا جاتا ہے اور اسے “الفارابی مکتبِ فکر” کے نام سے بھی جانا گیا۔ تاہم بعد میں ابن سينا کے فلسفیانہ نظام کے سامنے آنے کے بعد اس کی علمی شہرت میں کمی واقع ہوئی۔ الفارابی کے منہج کو بعض اوقات یونانی فلسفہ خصوصاً افلاطون اور ارسطو کے طریقِ فکر سے مختلف قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس نے مابعد الطبیعیات سے ہٹ کر زیادہ سائنسی طرزِ فکر اختیار کیا۔
انھوں نے نظریہ اور عمل کے درمیان ربط قائم کیا، تاہم سیاسی فلسفے میں وہ اس بات کے قائل تھے کہ عملی زندگی کو نظری قیود سے کسی حد تک آزاد ہونا چاہیے۔ ان کے افکار میں افلاطونی فلسفے کے عناصر پائے جاتے ہیں، لیکن وہ صرف مابعد الطبیعیات تک محدود نہیں رہتے۔ وجود کے “سببِ اول” کو سمجھنے کی کوشش کے دوران الفارابی اس نتیجے پر پہنچے کہ انسانی علم محدود ہے اور مکمل حقیقت کا احاطہ کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔[64]

ابو نصر فارابی کے افکار نے کئی صدیوں تک طبیعی علوم اور فلسفے پر گہرا اثر ڈالا۔ بہت سے اہلِ علم نے انھیں اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم قرار دیا، ارسطو کے بعد اور اسی نسبت سے انھیں “معلمِ ثانی” کہا گیا۔ ان کے کاموں نے فلسفہ اور تصوف کو یکجا کرنے کی کوشش کے ذریعے ابن سينا کے فکری نظام کی راہ ہموار کی۔ [65] [66]
الفارابی نے ارسطو کے کاموں پر شروح اور حواشی لکھے اور اپنی کتاب آراء اہل المدینہ الفاضلہ ومضاداتها میں مثالی ریاست کا تصور پیش کیا، جیسا کہ افلاطون نے اپنی کتاب جمہوریہ میں پیش کیا تھا۔ [67] انھوں نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ مذاہب عام لوگوں تک حقیقت کو علامات اور حکایات کی صورت میں پہنچاتے ہیں، جبکہ فلسفی کا کام ریاست کو رہنمائی اور نصیحت فراہم کرنا ہے۔ اس حوالے سے ان کے افکار افلاطون سے ملتے جلتے ہیں، مگر انھوں نے اسے اسلامی فکری ماحول کے مطابق ڈھالا۔ [68]
الفارابی کے مطابق “مدینہ فاضلہ” کی قیادت ایک نبی امام کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ افلاطون کے تصور کردہ “فلسفی بادشاہ” کے زیرِ حکومت ہو۔ کچھ محققین اور ان کے بعد آنے والے اہلِ فکر کے مطابق الفارابی کی “مدینہ فاضلہ” سے مراد وہ مثالی معاشرہ ہے جس کی جھلک نبی محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کی مدینہ منورہ میں ملتی ہے، جہاں وہ وحی کے ذریعے الٰہی ہدایت کے مطابق معاشرہ قائم کرتے تھے۔
منطق
[ترمیم]ابو نصر فارابی نے اگرچہ منطق میں ارسطو کے منہج کی پیروی کی، لیکن انھوں نے دیگر منطقی مکاتبِ فکر سے بھی استفادہ کیا۔ انھوں نے مستقبل کے احتمالات، اعداد اور مجموعات کے نظریات اور منطق و نحو کے باہمی تعلق جیسے موضوعات پر بحث کی۔ [69] الفارابی نے ارسطو کے طریقۂ استدلال میں خاص دلچسپی لی اور غالباً وہ پہلے مفکر تھے جنھوں نے منطق کو دو حصوں میں تقسیم کیا:
- (1) تصور (فکر)
- (2) برہان
انھوں نے شرطی قیاس اور تمثیلی استدلال پر بھی بحث کی اور ارسطوی منطق میں “قیاسِ شعری” کا تصور شامل کیا، جس کا ذکر انھوں نے فن الشعر پر اپنی شرح میں کیا ہے۔ .[70]
علم نفس
[ترمیم]ابو نصر فارابی نے علمِ نفس کے موضوع پر بھی اہم گفتگو کی، خصوصاً سماجی نفسیات کے پہلو سے۔ انھوں نے اپنی کتاب آراء اہل المدینہ الفاضلہ میں نفس کو انسان کی تشکیل کا ایک بنیادی عنصر قرار دیا۔ الفارابی کے نزدیک انسان اکیلا کمال حاصل نہیں کر سکتا، بلکہ اسے دوسرے افراد کی مدد درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے انسان فطری طور پر معاشرتی اور تعاون کرنے والا ہے، تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکے اور اپنے فرائض انجام دے سکے۔
چنانچہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہے، کیونکہ کمال کے حصول کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے اور انسان اسی اشتراکِ عمل کے ذریعے اپنی تکمیل کی طرف بڑھتا ہے۔ [71]
ابو نصر فارابی کے نزدیک ارادے کی قوت (قوّتِ ارادہ) ہی خواہشات کے وجود یا عدم کی ذمہ دار ہے، جو احساس اور تخیل سے پیدا ہوتی ہیں اور یہی قوت فرد کے سماجی رویّے کو تحریک دیتی ہے۔ انھوں نے حیوانات کے خودکار ردِّ عمل اور انسان کے شعوری و عقلی ردِّ عمل میں واضح فرق کیا۔ الفارابی کے مطابق انسانی جسم میں دل حاکم کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ دماغ اور دیگر اعضا کے ساتھ مل کر حواس کو حرارت فراہم کرتا ہے۔ یہی حرارت مرد و عورت کے درمیان بعض فرق کا سبب بنتی ہے؛ ان کے نزدیک مردوں میں حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ غصے والے اور سخت مزاج ہوتے ہیں، جبکہ خواتین رحم اور نرمی میں برتری رکھتی ہیں۔ یہاں الفارابی کے افکار میں افلاطون کے اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں، کیونکہ وہ مرد اور عورت کو ادراکی صلاحیتوں میں برابر سمجھتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ عورتیں بھی فلسفی بلکہ نبی بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ [72]

ابو نصر الفارابی نے نفس کی قوتوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا:
- قوتِ غاذیہ: جو غذا فراہم کرتی ہے، نشو و نما دیتی ہے اور تولید کا سبب بنتی ہے۔
- قوتِ حاسہ: جس کے ذریعے پانچ حواس کے ذریعے ادراک حاصل ہوتا ہے۔
- قوتِ متخیّلہ: جو محسوس شے کے غائب ہونے کے بعد اس کی صورت کو محفوظ رکھتی ہے۔
- قوتِ ناطقہ: جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے اور حسن و قبح اور قیمتی و کم تر میں فرق کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
- قوتِ نزوعیہ: جو انسان کو کسی چیز کی طرف مائل کرتی ہے یا اس سے نفرت دلاتی ہے۔[73]
مزید برآں، الفارابی نے اپنی کتاب مدینۂ فاضلہ کے آخری باب “سببِ منامات” میں خوابوں کی تعبیر، ان کی حقیقت اور اسباب کے درمیان فرق کیا اور خوابوں کو انسان کی شخصیت اور اس کے رویّے کے اظہار کا ایک ذریعہ قرار دیا۔ [71]
موسیقی
[ترمیم]
ابو نصر فارابی نے موسیقی پر ایک اہم کتاب کتاب الموسیقی الکبیر لکھی، جس میں انھوں نے موسیقی کے فلسفیانہ اصولوں، اس کی عمومی خصوصیات اور انسانی نفس پر اس کے اثرات پر تفصیل سے بحث کی۔ اس کتاب میں انھوں نے “موسیقی کے ذریعے علاج” اور روح پر موسیقی کے شفا بخش اثرات کے تصور پر بھی گفتگو کی۔[71]
طبیعیات
[ترمیم]الفارابی نے ایک مختصر رسالہ “الخلاء” (خلا) کے نام سے بھی لکھا جس میں انھوں نے خلا (vacuum) کی ماہیت پر بحث کی۔ بعض محققین کے مطابق وہ پہلے مفکرین میں سے تھے جنھوں نے سائنسی طریقے سے خلا کے مسئلے کو جانچنے کی کوشش کی۔ [74] انھوں نے پانی میں ڈوبے ہوئے پسٹن (مکبس) کا مشاہدہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہوا ہمیشہ پھیل کر خالی جگہ کو بھر دیتی ہے۔ اسی بنا پر انھوں نے خلا کے مکمل وجود کے تصور کو غیر منطقی سمجھ کر رد کر دیا۔[75]
فلسفی افکار
[ترمیم]مصادرِ اثر
[ترمیم]ابو نصر فارابی نے مختلف فلسفیانہ مکاتبِ فکر کا مطالعہ کیا، لیکن ان پر سب سے زیادہ اثر ارسطو کے فلسفے کا تھا، خصوصاً اس کے وہ جدید ارسطوی مکتبِ فکر کا جو اسکندریہ میں رائج تھا۔ [76] الفارابی کی تحریریں بہت وسیع ہیں اور ان کی طرف سو سے زائد کتابیں منسوب کی جاتی ہیں۔ ان کی تصانیف میں فلسفے کے عمومی تعارفی مباحث، ارسطو کے کاموں پر شروحات جیسے اخلاق نيقوماخس اور ان کے اپنے فلسفیانہ نظریات شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں اگرچہ مختلف مکاتبِ فکر کا امتزاج ہے، لیکن وہ منطقی ربط اور فکری ہم آہنگی رکھتی ہیں۔ [77] الفارابی پر بطلیموس کے فلکیاتی نظام اور نو افلاطونی فلسفے کے عناصر کا بھی اثر تھا۔ انھوں نے مابعد الطبیعیات، عملی فلسفہ اور سیاسی فکر میں خاص دلچسپی لی اور ان کا سیاسی تصور زیادہ تر افلاطون کی جمہوریہ سے قریب سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ارسطو کی سیاسیات سے۔ [78] [79]
الفارابی، ارسطو اور موسیٰ بن میمون
[ترمیم]ابو نصر فارابی نے قدیم یونانی فلسفے کو مغربی مسیحی دنیا تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر ارسطو کے افکار کی ترسیل میں۔ اس کا ایک واضح ثبوت ارسطو کی کتاب العبارہ پر الفارابی کی شرح کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہے۔ موسى بن ميمون، جو قرونِ وسطیٰ کے یہودی فلسفیوں میں سب سے اہم شمار کیے جاتے ہیں، الفارابی سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ان کی ایک مشہور تحریر مقالہ فی فن المنطق میں انھوں نے ارسطوی منطق کو ابنِ سینا اور الفارابی کی شروح کی روشنی میں اختصار کے ساتھ پیش کیا۔ محقق ریمی براگ کے مطابق اس رسالے میں بنیادی طور پر الفارابی ہی مرکزی فکری ماخذ ہیں۔ موسیٰ بن میمون پر نبوت کے نو افلاطونی تصور کا بھی اثر تھا، جو غالباً الفارابی کے زمانے سے رائج ہوا۔ [80] .[81]
الفارابی، ابن سينا اور ابن رشد کو عموماً مشائی یا استدلالی مکتب کے پیروکار سمجھا جاتا ہے۔ تاہم الفارابی نے اپنی کتاب الجمع بین رایی الحکیمین میں ارسطوی اور افلاطونی فکر میں تطبیق کی کوشش کی۔ [82][83][84]
ڈامسن کے مطابق الفارابی کا بنیادی مقصد اسکندریہ کے فلسفیانہ مکتب کی تجدید تھا، جس سے ان کے استاد يوحنا بن حيلان وابستہ تھے۔ اسی لیے انھیں “معلمِ ثانی” کا لقب دیا گیا۔ ڈامسن یہ بھی کہتے ہیں کہ الفارابی نے اپنے معاصر مفکرین الكندی اور الرازی کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے طریقۂ فکر سے متفق نہیں تھے۔ [85][86] .[87]
عقائد
[ترمیم]مابعد الطبیعیات اور علمِ کائنات
[ترمیم]| مضامین کا سلسلہ: الفارابی |
|---|
ابو نصر فارابی کے مابعد الطبیعیات اور علمِ کائنات کے بارے میں افکار میں ایک بنیادی امتیاز پایا جاتا ہے۔ الكندی کے برخلاف، جن کے نزدیک مابعد الطبیعیات کا اصل موضوع براہِ راست خدا تھا، الفارابی کے نزدیک اس علم کا بنیادی موضوع “وجود” ہے، یعنی وجود بذاتِ خود۔ خدا سے اس کی نسبت صرف اس حد تک ہے کہ وہ مطلق وجود کا اصل مبدا اور سرچشمہ ہے۔ اس دور میں اسلامی اہلِ علم کے درمیان یونانی فلسفے کے بارے میں ایک عام فکری غلط فہمی پائی جاتی تھی، جس کی وجہ سے بعض تصورات درست طور پر سمجھ میں نہیں آ رہے تھے۔ اسی تناظر میں ابن سينا نے ذکر کیا کہ انھیں ارسطو کی مابعد الطبیعیات صحیح طور پر اس وقت تک سمجھ میں نہیں آئی جب تک انھوں نے الفارابی کی تنقیدی مقدمہ بندی نہ پڑھی۔
ابو نصر فارابی کا علمِ کائنات بنیادی طور پر تین اصولوں پر قائم ہے: ارسطو کی مابعد الطبیعیاتی سببیت، نو افلاطونی (افلاطونی محدث) صدور کا ترقی یافتہ نظریہ اور بطليموس کا فلکیاتی نظام۔ ان کے ماڈل کے مطابق کائنات کو ہم مرکز دائرہ وار کی صورت میں سمجھا جاتا ہے۔ سب سے بیرونی دائرہ “پہلا آسمان” کہلاتا ہے، پھر ثابت ستاروں کا دائرہ، اس کے بعد بالترتیب زحل ، مشتری ، مریخ، سورج ، زہرہ، عطارد اور آخر میں چاند کا دائرہ آتا ہے۔ ان دائرہ نما آسمانی طبقات کے مرکز میں وہ عالم موجود ہے جو چاند کے مدار سے متعلق ہے اور مادی دنیا پر مشتمل ہے۔ ہر آسمانی دائرہ ایک ثانوی عقل کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی علامت خود آسمانی اجرام ہیں اور یہ عقلیں سببِ اول (یعنی خدا) اور مادی دنیا کے درمیان واسطہ بنتی ہیں۔ اس نظریے کے مطابق یہ تمام مراتب خدا سے صادر ہوئے ہیں، جو علتِ فاعلی اور علتِ صوری دونوں کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی سے کائنات کا وجود قائم ہے۔
ابو نصر فارابی کے نزدیک صدور (انبثاق) کا عمل مابعد الطبیعی طور پر اس وقت شروع ہوتا ہے جب “سببِ اوّل” اپنی ذات پر غور کرتا ہے۔ اس کا بنیادی فعل خودآگاہی اور خود تفکری ہے اور یہی فکری عمل کائنات کی تخلیق کے نظام کی بنیاد بنتا ہے۔ سببِ اوّل اپنی ذات پر غور کے ذریعے ایک غیر مادی وجود کو “فیض” کرتا ہے، جس سے دوسرا عقل (عقلِ ثانی) وجود میں آتا ہے۔ یہ عقل بھی اپنی ذات پر غور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں آسمانی دائرہ (مثلاً ثابت ستاروں کا عالم) وجود میں آتا ہے۔ تاہم چونکہ یہ عقل سببِ اوّل کو بھی مدنظر رکھتی ہے، اس لیے ایک اور درجے کی عقل کا صدور بھی ہوتا ہے۔ [88]
یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے یہاں تک کہ “عقلِ دہم” تک پہنچتا ہے، جس کے نیچے مادی دنیا واقع ہوتی ہے۔ ہر اگلا عقل اپنے سے ماقبل عقلوں اور اپنی ذات پر غور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وجود کی سطحیں زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہیں۔ یہ پورا نظام “ضرورت” پر قائم ہے نہ کہ “ارادہ” پر؛ یعنی خدا کائنات کو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنے وجود کی لازمی صفت کے طور پر صادر کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ تصور کائنات کو ازلی قرار دیتا ہے۔ اس نظریے پر بعد کے بڑے متکلم ابو حامد غزالی نے شدید تنقید کی، خصوصاً کائنات کے ازلی ہونے اور صدور کے “ضروری” ہونے کے تصور پر۔ [89][90]
ابو نصر فارابی کی فکر میں “سببِ اوّل” (یعنی خدا) کے بارے میں گفتگو میں وہ شدید طور پر مسیحی الٰہیات پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا کو خالص فکری طریقوں جیسے جدلیاتی تقسیم یا رسمی تعریف کے ذریعے مکمل طور پر نہیں جانا جا سکتا، کیونکہ یہ طریقے اُن اشیاء پر لاگو ہوتے ہیں جو علت و معلول کے دائرے میں آتی ہیں، جبکہ سببِ اوّل کسی علت کا محتاج نہیں۔ اسی طرح خدا کو جنس اور نوع کے تحت بھی بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کی ذات اور وجود دیگر تمام موجودات سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اگر اسے کسی جنس کے تحت رکھا جائے تو اس سے پہلے کوئی اور شے موجود ماننی پڑے گی، جو خود سببِ اوّل کے تصور کے خلاف ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ فلسفیانہ اعتبار سے جتنی شے زیادہ سادہ اور غیر مرکب ہو، وہ اتنی ہی زیادہ کامل ہوتی ہے۔ [91] .[92] اسی بنیاد پر آدمسن یہ رائے دیتے ہیں کہ الفارابی کے پورے کائناتی نظام کو جنس اور نوع کی درجہ بندی کے ذریعے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس درجہ بندی میں ہر نچلا درجہ اپنے سے اوپر کے درجے کے مقابلے میں زیادہ مرکب اور زیادہ نقائص کا حامل ہوتا ہے اور یہی بڑھتی ہوئی پیچیدگی مادی دنیا کی بنیادی خصوصیت ہے۔ [91]
علم المعرفیات اور علم الآخرت
[ترمیم]ابو نصر فارابی کے کائناتی تصور میں انسان ایک منفرد مخلوق ہے، کیونکہ وہ دو جہانوں کے درمیان واقع ہے: ایک اعلیٰ غیر مادی عالم، جو آسمانی عقول اور کلی معقولات پر مشتمل ہے اور دوسرا نچلا مادی عالم، جو حسی ادراک پر مبنی ہے۔ یہ نچلا عالم اُن محسوس اشیاء سے متعلق ہے جن میں “کہاں، کب، مقدار اور کیفیت” جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں اور اس سطح پر انسان حیوانات کے ساتھ بھی مشترک ہوتا ہے۔ انسان ایک مادی جسم میں رہتا ہے، اس لیے وہ اس “نچلے عالم” سے تعلق رکھتا ہے، لیکن اس کے پاس ایک عقلی قوت بھی موجود ہے جو اسے “اعلیٰ عالم” سے جوڑتی ہے۔ [93] الفارابی کے مطابق وجود کے ہر درجے میں کمال کی طرف حرکت پائی جاتی ہے اور یہ کمال بالآخر سببِ اوّل یعنی کامل عقل کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس لیے انسانی کمال (جسے وہ “سعادت” کہتے ہیں) دراصل مسلسل فکر و تدبر اور عقلانی غور و فکر کا نام ہے۔ [94]
ابو نصر فارابی عقل کو چار اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: عقل بالقوۃ، عقل بالفعل، عقل مستفاد اور عقلِ فعال۔ پہلی تین اقسام انسانی عقل کی مختلف حالتیں ہیں، جبکہ چوتھا درجہ کائناتی نظام میں “عقلِ فعال” (عقلِ دہم / قمری عقل) سے متعلق ہے۔ عقل بالقوۃ وہ صلاحیت ہے جو ہر انسان میں موجود ہوتی ہے اور سوچنے کی استعداد کو ظاہر کرتی ہے۔ عقل بالفعل وہ حالت ہے جس میں عقل فعلی طور پر غور و فکر میں مصروف ہو جاتی ہے۔ الفارابی کے نزدیک “تفکر” کا مطلب یہ ہے کہ محسوس اشیاء کی صورتوں سے کلی معقولات کو اخذ کیا جائے، جو پہلے فرد کے تخیل (خیال) میں محفوظ ہو چکی ہوتی ہیں۔ [95][ar 2]
ابو نصر فارابی کے مطابق یہ حرکت عقل کے “بالقوۃ” سے “بالفعل” اور پھر “مستفاد” کی طرف ایک تدریجی ارتقا ہے، جو عقلِ فعال کی مدد سے مکمل ہوتی ہے۔ یہ ارتقائی عمل اس طرح ہوتا ہے کہ عقلِ فعال انسانی ذہن پر اسی طرح اثر انداز ہوتی ہے جیسے سورج مادی دنیا کو روشن کرتا ہے تاکہ ہم دیکھ سکیں۔ اسی طرح عقلِ فعال معقولات کے عالم کو روشن کرتی ہے تاکہ انسان سوچ اور فہم حاصل کر سکے۔ .[96] یہ روشنی حسی اشیاء سے وابستہ تمام عوارض جیسے زمان، مکان، کیفیت اور مادیت کو الگ کر دیتی ہے اور انھیں ابتدائی معقول اصولوں میں تبدیل کر دیتی ہے، جیسے یہ منطقی اصول کہ “کل جز سے بڑا ہوتا ہے”۔ اس طرح انسانی عقل اپنی فکری سرگرمی کے ذریعے بالقوۃ سے بالفعل کی طرف بڑھتی ہے اور جب وہ ان معقولات کو مکمل طور پر سمجھ لیتی ہے تو وہ ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ ارسطو کے مطابق علم حاصل کرنا دراصل معلوم شے کی صورت کو عقل میں قبول کرنا ہے۔ چونکہ عقلِ فعال تمام معقولات کو جانتی ہے، اس لیے جب انسانی عقل ان تمام معقولات کو حاصل کر لیتی ہے تو وہ عقلِ فعال کے کمال سے جڑ جاتی ہے اور اس حالت کو “عقلِ مستفاد” کہا جاتا ہے۔ [97] .[91]
اگرچہ یہ عمل بظاہر ایک میکانکی سلسلہ دکھائی دیتا ہے اور اس میں انسانی اختیار یا ارادے کے لیے زیادہ گنجائش نظر نہیں آتی، لیکن ريسمن کے مطابق ابو نصر فارابی انسانی ارادے اور اختیار کے قائل ہیں۔ [97] یہ اختیار اس وقت سامنے آتا ہے جب انسان اپنی حاصل کردہ معرفت کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ خود کو فضیلت والے اعمال کی طرف لے جائے یا غیر فضیلت والے اعمال کی طرف۔ اسی فیصلے کے ذریعے وہ طے کرتا ہے کہ وہ حقیقی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اخلاقی انتخاب اور اخلاق کی حقیقت پر غور و فکر کے ذریعے عقلِ بالفعل اس درجے تک پہنچ سکتی ہے کہ وہ عقلِ فعال کی مانند بننے لگتی ہے اور یہی عمل انسانی کمال کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی فکری و اخلاقی ارتقا کے نتیجے میں روح کو بقا حاصل ہوتی ہے اور وہ موت سے نجات پا کر آخرت میں ایک نوع کی بقا کی حامل بن جاتی ہے۔ [96][98]
ابو نصر فارابی کے مطابق آخرت کو عام مذہبی تصورات جیسے اسلام اور مسیحیت میں پائی جانے والی ذاتی اور انفرادی تجرباتی بقا کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے نظریے میں جسم کے مرنے کے بعد فرد کی مخصوص انفرادی خصوصیات اور نفس کی ذاتی امتیازات ختم ہو جاتے ہیں۔ صرف عقلی قوت باقی رہتی ہے اور وہ بھی صرف اس صورت میں جب وہ کمال کو پہنچ چکی ہو۔ یہ عقلی قوت پھر تمام دیگر کامل عقلی ارواح کے ساتھ العقل الفعّال کے اندر متحد ہو جاتی ہے اور خالص عقلی عالم میں داخل ہو جاتی ہے۔ [91]ہنری كوربان اس اخروی تصور کا موازنہ نو افلاطونی اسماعیلی فکر سے کرتے ہیں، جہاں کائنات کے ایک عظیم دور کے ذریعے اسی طرح کی واپسی کا تصور پایا جاتا ہے۔ تاہم ديبورا بلاكويل کے مطابق اس بات پر شک کرنے کی گنجائش موجود ہے کہ آیا یہی الفارابی کی حتمی اور مکمل فکر ہے یا نہیں۔ بعد کے مفکرین جیسے ابن طفيل ، ابن رشد اور ابن باجہ نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ اس نے اس رائے سے رجوع کر لیا ہو، جیسا کہ اس کی کتاب نیکوماخوسی اخلاقیات پر لکھی گئی شرح میں ظاہر ہوتا ہے، جو بدقسمتی سے معاصر محققین کو دستیاب نہیں رہی۔ [99] [91]
علمِ نفس، روح اور معرفتِ نبوی
[ترمیم]ابو نصر فارابی نے انسانی روح کی تشریح میں بنیادی طور پر ارسطو کے تصور سے رہنمائی لی، جسے بعد کے یونانی مفکرین کی تشریحات سے بھی تقویت ملی۔ ان کے مطابق روح چار بنیادی قوتوں (ملکات) پر مشتمل ہے: قوتِ شہویہ: جو کسی شے کی طرف رغبت یا اس سے نفرت پیدا کرتی ہے۔ قوتِ حاسہ: جو مادی اشیاء کا ادراک حواس کے ذریعے کرتی ہے۔ [100] قوتِ متخیّلہ: جو محسوس اشیاء کی صورتوں کو محفوظ رکھتی ہے اور پھر انھیں جدا اور مرکب کر کے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ قوتِ عاقلہ: جو فکر اور تعقل کی قوت ہے۔ ان میں سے آخری یعنی عقل ہی وہ صفت ہے جو انسان کو نباتات اور حیوانات سے ممتاز کرتی ہے اور یہی روح کا وہ حصہ ہے جو جسم کی موت کے بعد باقی رہتا ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس تقسیم میں باطنی حواس جیسے “حسِ مشترک” وغیرہ کو واضح طور پر شامل نہیں کیا گیا، جن پر بعد کے مفکرین مثلاً ابن سينا اور ابن رشد نے مزید تفصیل سے بحث کی۔ [101][102]
ابو نصر فارابی کے نزدیک روح کی قوتِ متخیّلہ کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے وہ نبوت اور علمِ نبوی کی توضیح کرتے ہیں۔
قوتِ متخیّلہ نہ صرف محسوس اشیاء کی صورتوں کو محفوظ رکھنے اور ان پر تصرف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ اس میں “تمثیل” کی قوت بھی ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شے اپنی اصل صورت کے علاوہ کسی دوسری صورت میں پیش کی جا سکتی ہے۔ یعنی کسی چیز “س” کی تمثیل یہ ہے کہ اسے ایسی صفات کے ساتھ تصور کیا جائے جو اس کی ظاہری شکل سے مختلف ہوں۔ اس طرح تخیل کی قوت صرف محسوس صورتوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ مزاج، جذبات، خواہشات، بلکہ غیر مادی معقولات اور مجرد کلیات تک پھیل جاتی ہے۔ [103][104]مثال کے طور پر انسان “شر” کو “تاریکی” سے تعبیر کرتا ہے۔ نبی میں، عقلی قوت کے ساتھ ساتھ ایک نہایت قوی تخیّلی قوت بھی ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ العقل الفعّال (کائناتی نظام میں عقلِ دہم) سے معقولات کا فیض حاصل کرتا ہے۔ پھر وہ ان معقولات کو علامات اور تصویری پیکروں (symbols) کے ساتھ مربوط کر دیتا ہے، تاکہ عام لوگ بھی ان مجرد حقائق کو سمجھ سکیں۔ لہٰذا علمِ نبوی کی خصوصیت اس کے “محتوا” میں نہیں کیونکہ وہی حقائق فلسفی بھی عقل و استدلال کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اس کے “اسلوب” اور “بیان” میں ہے، جو نبی کی قوتِ متخیّلہ کے ذریعے عام فہم اور مؤثر صورت اختیار کر لیتا ہے۔ [105][106]
الفارابی اور تصوف
[ترمیم]ابو نصر فارابی اپنی باطنی طبیعت کے لحاظ سے صوفیانہ رجحان رکھتے تھے۔ ان کی زندگی زہد، سادگی اور گوشہ نشینی کی مثال تھی۔ مؤرخینِ عرب نے ان کے تقشف اور دنیا سے بے رغبتی کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور ابن خلكان نے خاص طور پر انھیں زاہدوں اور عبادت گزاروں میں شمار کیا ہے۔ اگرچہ وہ سيف الدولہ حمدانی کے دربار سے وابستہ رہے اور بڑے لوگوں کی صحبت میں رہے، لیکن ان کی سادہ زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ اکثر فطرت کے قریب رہتے، اس سے ہم کلام ہوتے، اس کے اسرار پر غور کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے۔ روایت ہے کہ انھوں نے اپنی کئی تصانیف دریاؤں کے کنارے، باغات اور پھولوں کے درمیان بیٹھ کر لکھیں۔ یہ فطری صوفیانہ رجحان یقیناً ان کے افکار اور نظریات پر اثرانداز ہوا اور خاص طور پر ان کے نظریۂ “سعادت” کی تشکیل میں اس کا بڑا دخل تھا۔ ان کا اسلوب بھی اسی مزاج کی عکاسی کرتا ہے: وہ
- ان کا تصوف محض روحانی ریاضت پر مبنی نہیں بلکہ عقلی اور نظری بنیاد رکھتا ہے؛ یعنی وہ تصوف کو فکر و تدبر کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
- ان کے نزدیک نفس کی پاکیزگی صرف جسمانی مشقت یا لذتوں سے دوری سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ عقل اور فکری اعمال اس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
- وہ اس بات کے قائل ہیں کہ علم کے ذریعے انسان حقیقی سعادت تک پہنچتا ہے، جبکہ عمل کو ثانوی حیثیت حاصل ہے؛ اس طرح وہ روحانیت میں بھی ایک عقلی نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ [107]
فلسفۂ عملی (اخلاق اور سیاست)
[ترمیم]ابو نصر فارابی کے نزدیک فلسفے کا عملی پہلو نہایت اہم تھا، جسے انھوں نے اپنی متعدد تصانیف میں واضح کیا۔ اگرچہ ان کی بیشتر فلسفیانہ فکر ارسطو سے متاثر تھی، لیکن ان کا عملی فلسفہ زیادہ تر افلاطون کی تعلیمات پر مبنی تھا۔ [108] الفارابی کے مطابق فلسفہ ایک ایسا نظام ہے جس میں نظری اور عملی دونوں پہلو شامل ہیں۔ وہ ان فلاسفہ کو جو اپنے علم کو عملی زندگی میں نافذ نہیں کرتے، “بانجھ فلاسفہ” (غیر مفید) قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مثالی معاشرہ وہ ہے جو “حقیقی سعادت” (یعنی فکری و روحانی کمال) کے حصول کی طرف متوجہ ہو۔ اس لیے کامل فلسفی کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلاغت اور شعر و ادب کے تمام فنون میں مہارت حاصل کرے تاکہ وہ مجرد حقائق کو عام لوگوں تک قابلِ فہم انداز میں پہنچا سکے اور خود بھی اس اعلیٰ معرفت تک پہنچے۔ [109] .[110] الفارابی نے فلسفی کے معاشرے میں کردار کو جسم میں طبیب کے کردار سے تشبیہ دی۔ جیسے جسم کی صحت اس کے اخلاط کے توازن پر منحصر ہوتی ہے، ویسے ہی شہر (معاشرہ) کی حالت اس کے باشندوں کے اخلاق پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی لیے الفارابی کے نزدیک “شہر” سیاسی اجتماع کی بنیادی اکائی ہے اور فلسفی کا فرض ہے کہ وہ ایک “مدینۂ فاضلہ” قائم کرے لوگوں کی روحانی اصلاح کرے، عدل قائم کرے اور انھیں حقیقی سعادت کی طرف رہنمائی دے۔ [111] .[112]
ابو نصر فارابی اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ ایسا مثالی معاشرہ نہایت نایاب ہوتا ہے اور اس کے قیام کے لیے مخصوص تاریخی اور سماجی حالات درکار ہوتے ہیں، اسی لیے بہت کم معاشرے اس منزل کو حاصل کر پاتے ہیں۔ [113] انھوں نے ان معاشروں کو جو “مدینۂ فاضلہ” کے معیار تک نہیں پہنچتے، “فاسد” یا “گمراہ” معاشروں میں تقسیم کیا۔ ان کے نزدیک جاہل معاشرے انسانی وجود کے اصل مقصد کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں اور حقیقی سعادت کی بجائے کم تر مقاصد کو اختیار کر لیتے ہیں، جیسے دولت، حسی لذت یا اقتدار۔ الفارابی نے “مدینۂ فاضلہ” میں بھی ایک گروہ کا ذکر کیا جسے وہ “نباتات” (جڑی بوٹیاں) کہتے ہیں یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشرے کو اس کے حقیقی مقصد سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مجموعی طور پر الفارابی نے ایک ایسا سیاسی و سماجی تصور پیش کیا جس میں فکر اور معاشرہ باہم متحد ہوں۔ ان کے نزدیک فکری وحدت ہی اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ حقیقتِ فلسفی ایک ہی ہے، چاہے اس کے اظہار کے طریقے مختلف کیوں نہ ہوں۔ [114]
ابو نصر فارابی کے بارے میں یہ سوال کہ آیا وہ اپنی تحریروں میں واقعی کوئی واضح سیاسی نظام پیش کرنا چاہتے تھے یا نہیں، اہلِ علم کے درمیان اختلاف کا موضوع ہے۔ [115]ہنری كوربان، جو الفارابی کو ایک “پوشیدہ شیعی مفکر” سمجھتے ہیں، کے نزدیک ان کے افکار کو سیاسی نظریہ کی بجائے “فلسفۂ نبوت” کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ اس کے برعکس تشارلز باتروورث کا موقف ہے کہ الفارابی نے اپنی تحریروں میں کہیں بھی واضح طور پر شریعت دینے والے نبی یا وحی کا ذکر نہیں کیا (حتیٰ کہ لفظ “فلسفہ” بھی کم ہی استعمال کیا)، بلکہ ان کی بحث زیادہ تر “بادشاہ” اور “اہلِ سیاست” کے کردار کے گرد گھومتی ہے۔ [116] دیوید ریسمن ایک درمیانی رائے رکھتے ہیں۔ وہ کوربین کی طرح یہ سمجھتے ہیں کہ الفارابی کا مقصد کوئی عملی سیاسی نظریہ دینا نہیں تھا، بلکہ وہ مختلف اقسام کے معاشروں کو بطور مثال پیش کر کے یہ دکھانا چاہتے تھے کہ درست یا غلط فکر معاشرے پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ [117]
اسی طرح جوشوا بارينز کے مطابق الفارابی نے بڑی حکمت سے یہ واضح کیا کہ ایک مکمل مثالی اسلامی معاشرہ عملاً قائم کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس کے لیے اخلاقی اور فکری اعتبار سے نہایت اعلیٰ شرائط درکار ہیں—اور اس طرح وہ قاری کو اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ انسان عمومی طور پر اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ بعض دیگر محققین ، جیسے میخائیلو میخائیلووچ یعقوبوویچ، کے نزدیک الفارابی کے ہاں “دین” (ملّت) اور “فلسفہ” عملی اعتبار سے ایک ہی مقصد رکھتے ہیں (یعنی نیک عمل کی بنیاد)، جبکہ علمی سطح پر (یعنی معرفت کے اعتبار سے) ان دونوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ [118] .[119]
مؤلفات
[ترمیم]ابو نصر الفارابي کے دامن میں مختلف علوم کے تقریباً ہر میدان سے متعلق بے شمار تصانیف موجود ہیں، جن کی تعداد سو سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جرمن مستشرق غوستاف فلوگل سٹائینشنائڈر کو اپنی کتاب تاریخِ ادبِ عربی کا ایک بڑا حصہ الفارابی کے آثار کے لیے مخصوص کرنا پڑا۔ [120] تاہم عباسی خلافت کے دور میں منگول حملے، بغداد کی تباہی اور بیت الحکمت کی لائبریری کے جلائے جانے کے نتیجے میں الفارابی کی زیادہ تر تصانیف ضائع ہو گئیں۔ آج جو کچھ باقی ہے وہ چند مخطوطات، تاریخی حوالہ جات اور بعد میں شائع ہونے والی وہ کتب ہیں جن کی علمی اہمیت کے باعث انھیں دوبارہ مرتب اور شائع کیا گیا۔ [121]
ابو نصر الفارابی کے باقی ماندہ مخطوطات
فلسفہ
- وہ موجود جو اپنے وجود کے لیے کسی سبب کا محتاج نہیں
- فعال عقول
- سماوی نفوس
- انسانی نفوس
- فلسفیانہ مسائل اور ان کے جوابات ۔ [122]
- افلاطون اور ارسطو کے فلسفے کے مقاصد
- سیرتِ فاضلہ ۔ [123]
موسیقی
- کتاب: «صنعتِ علمِ موسیقی»
منطق
- وہ امور جن کا مطالعہ ارسطو کے مطالعہ سے پہلے ضروری ہے
- رسالہ فی المنطق: یقین کی شرائط پر بحث
- رسالہ فی القیاس
- رسالہ فی ماہیت الروح [124]
شعر و خطابت
- کتاب «ریٹوریکا» (خطابت)
- کتاب «پوئٹیکا» (شاعری)
- رسالہ: شعر کی صنعت کے قواعد [125]
اس کے علاوہ ابو نصر الفارابی کے متعدد رسائل ریاضی، کیمیا اور موسیقی کے موضوعات پر بھی منسوب کیے جاتے ہیں، جو دنیا کی مختلف لائبریریوں میں عبرانی اور لاطینی زبانوں میں محفوظ ہیں۔ مزید یہ کہ ان کے مزید نو (9) رسائل مختلف علوم میں بھی ملتے ہیں۔[126]
| تسلسلی نمبر | سرورق کی تصویر | کتاب کا نام | شعبہ | حوالہ |
|---|---|---|---|---|
| 1 | آراء المدینہ الفاضلہ ومضاداتھا | سماجی فلسفہ | [127] | |
| 2 | منطق میں مستعمل الفاظ | منطق | [128] | |
| 3 | الموفق والشارح | منطق | [129] | |
| 4 | الفارابی کا منطق (کتاب البُرهان، شرائطِ یقین، تعلیقات ابن باجا) | منطق | [130] | |
| 5 | الفارابی کا منطق (حصہ اول: ایساغوجی، مقولات، عبارت) | منطق | [131] | |
| 6 | الفارابی کا منطق (حصہ دوم: قیاس، تحلیل، مغالطے) | منطق | [132] | |
| 7 | الفارابی کا منطق (کتاب الجدل) | منطق | [133] | |
| 8 | رسالہ فی العقل | منطق | [134] | |
| 9 | دو حکیموں کے درمیان تطبیق | فلسفہ | [135] | |
| 10 | فلسفیانہ انسائیکلوپیڈیا کی طرف | فلسفہ | [136] | |
| 11 | منتخب ابواب | فلسفہ | [137] | |
| 12 | دو فلسفیانہ رسائل | فلسفہ | [138] | |
| 13 | سعادت کے راستے کی طرف تنبیہ | فلسفہ | [139] | |
| 14 | سعادت کا حصول | فلسفہ | [140] | |
| 15 | ملت اور دیگر نصوص | دین | [141] | |
| 16 | سیاست | سیاست | [142] | |
| 17 | مدنی سیاست | سیاست | [143] | |
| 18 | حروف (لسانیات) | زبان | [144] | |
| 19 | علوم کی درجہ بندی | علوم | [145] | |
| 20 | الموسیقی الکبیر | موسیقی | [146] | |
| 21 | مختلف رسائل (مجموعہ اول) | متفرق علوم | [147] | |
| 22 | مختلف رسائل (مجموعہ دوم) | متفرق علوم | [148] |
ثقافتِ عامہ میں الفارابی کا اثر
[ترمیم]الفارابی کو ان علما میں شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے مختلف سائنسی و فکری میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں، جس کے باعث مختلف ممالک نے ان کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات کیے۔ ان میں ان کے نام یا تصویر والے ڈاک ٹکٹ اور کرنسی نوٹ جاری کرنا شامل ہے، اس کے علاوہ ان کی علمی و فنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری مجسمے اور یادگاریں بھی قائم کی گئیں۔
یہ تمام اقدامات ان کی فلسفہ، منطق اور موسیقی سمیت مختلف علوم میں عظیم خدمات کے اعتراف اور ان کی فکری اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کیے گئے۔
-
طابعِ ڈاک پر الفارابی کی تصویر (سابق سوویت یونین میں استعمال)
-
ایران کا ڈاک ٹکٹ جس پر الفارابی کا نام درج ہے
-
ایرانی ڈاک ٹکٹ جس پر الفارابی کی فرضی تصویر موجود ہے
-
شام کا ڈاک ٹکٹ جس پر الفارابی کی تصوراتی تصویر ہے
-
ترکی کا ڈاک ٹکٹ جس پر الفارابی کی تصویر موجود ہے
-
قازقستانی کرنسی (1 ٹینگے) پر الفارابی کی تصویر
-
قازقستانی 20 ٹینگے کے سکے پر الفارابی کی تصویر
-
قازقستانی کرنسی نوٹ پر الفارابی کی تصویر
-
قازقستانی 5000 ٹینگے کے نوٹ پر الفارابی کی تصویر
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/al-Farabi
- ↑ مصنف: فارابی — صفحہ: 9 — ISBN 978-2-02-048161-8 — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/al-Farabi
- ^ ا ب مصنف: عبد الرحمن بدوی — عنوان : Histoire de la philosophie en Islam — جلد: 60 — صفحہ: 478 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.google.fr/books/edition/Histoire_de_la_philosophie_en_Islam/I0ANAAAAIAAJ?hl=fr&gbpv=0&kptab=overview
- ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118686097 — اخذ شدہ بتاریخ: 31 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ مصنف: عبد الرحمن بدوی — عنوان : Histoire de la philosophie en Islam — جلد: 60 — صفحہ: 481 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.google.fr/books/edition/Histoire_de_la_philosophie_en_Islam/I0ANAAAAIAAJ?hl=fr&gbpv=0&kptab=overview
- ↑ مصنف: ہنری کوربان — عنوان : Histoire de la philosophie islamique — صفحہ: 223 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/histoiredelaphil0000corb/page/n5/mode/2up
- ↑ مصنف: سید محسن الامین — عنوان : أعيان الشيعة — جلد: 9 — صفحہ: 104 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/histoiredelaphil0000corb/page/n5/mode/2up
- ↑ مصنف: فارابی — صفحہ: 15 — ISBN 978-2-02-048161-8
- ↑ مصنف: فارابی — صفحہ: 10 — ISBN 978-2-02-048161-8
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb11902242t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- ^ ا ب مصنف: عبد الرحمن بدوی — عنوان : Histoire de la philosophie en Islam — جلد: 60 — صفحہ: 479 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.google.fr/books/edition/Histoire_de_la_philosophie_en_Islam/I0ANAAAAIAAJ?hl=fr&gbpv=0&kptab=overview
- ↑ مصنف: عبد الرحمن بدوی — عنوان : Histoire de la philosophie en Islam — جلد: 60 — صفحہ: 484 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.google.fr/books/edition/Histoire_de_la_philosophie_en_Islam/I0ANAAAAIAAJ?hl=fr&gbpv=0&kptab=overview
- ↑ مصنف: فارابی — صفحہ: 11 — ISBN 978-2-02-048161-8 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.google.fr/books/edition/Histoire_de_la_philosophie_en_Islam/I0ANAAAAIAAJ?hl=fr&gbpv=0&kptab=overview
- ↑ مصنف: عبد الرحمن بدوی — عنوان : Histoire de la philosophie en Islam — جلد: 60 — صفحہ: 541-543 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.google.fr/books/edition/Histoire_de_la_philosophie_en_Islam/I0ANAAAAIAAJ?hl=fr&gbpv=0&kptab=overview
- ↑ Alnoor Dhanani (2007)۔ Thomas Hockey؛ دیگر (مدیران)۔ Fārābī: Abū Naṣr Muḥammad ibn Muḥammad ibn Tarkhān al‐Fārābī۔ New York: Springer۔ ص 356–7۔ ISBN:978-0-387-31022-0۔ 2023-03-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر|دائرۃ المعارف=رد کیا گیا (معاونت) (PDF version) - ↑ "الفارابى والفلسفه"۔ adabdamanhour.ahlamontada.com (بزبان عربی)۔ 24 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ خیر الدین زرکلی (2002)، الأعلام: قاموس تراجم لأشهر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين (بزبان عربی) (15 ایڈیشن)، بیروت: دار العلم للملایین، ج السابع، ص 20، OCLC:1127653771، QID: Q113504685
- ↑ "الشيخ أبو النصر محمّد الفارابي" (بزبان ar-AR). 2013-01-27. Archived from the original on 16 يناير 2017. Retrieved 2017-01-12.
{{حوالہ خبر}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(help)اسلوب حوالہ: نامعلوم زبان (link) - ↑ "الفارابي - مدخل شامل ومترجم من (موسوعة ستانفورد للفلسفة)"۔ مجلة حكمة (بزبان عربی)۔ 14 اگست 2018۔ 2020-12-02 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-03-31
- ↑ "الفارابي المعلم الثاني"۔ موهوبون | موقع المخترعين والمبتكرين العرب (بزبان عربی)۔ 1999-11-30۔ 20 ديسمبر 2019 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-12
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ mominoun۔ "أهمية الفارابي في الفلسفة الإسلامية"۔ Mominoun Without Borders (بزبان عربی)۔ 15 سبتمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-17
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ مصطفى عبد الرازق۔ فيلسوف العرب والمعلم الثاني۔ القاهرة - جمهورية مصر العربية: مؤسسة هنداوي۔ ص 41۔ 14 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ ابن النديم۔ الفهرست۔ بيروت - لبنان: دار المعرفة۔ ص 368۔ 17 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الشيخ الإمام شهاب الدين أبو عبد الله ياقوت بن عبد الله الحموي الرومي البغدادي۔ معجم البلدان - المجلد الرابع۔ بيروت: دار صادر۔ ص 229۔ 17 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ مصطفى عبد الرازق۔ فيلسوف العرب والمعلم الثاني۔ القاهرة - جمهورية مصر العربية: مؤسسة هنداوي۔ ص 42۔ 14 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ^ ا ب پ ت ٹ ث Dimitri Gutas۔ Farabi۔ 20 أكتوبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ April 4, 2010
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) ونامعلوم پیرامیٹر|دائرۃ المعارف=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ Reisman, D.(ed.)Before and After Avicenna. Princeton, NJ. 2001
- ↑ DANIEL BALLAND, "FĀRYĀB" in Encyclopedia Iranica [1][مردہ ربط] . excerpt: "Fāryāb (also Pāryāb), common Persian toponym meaning “lands irrigated by diversion of river water" آرکائیو شدہ 2020-12-15 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ Dehkhoda Dictionary under "Parab" آرکائیو شدہ 2011-10-03 بذریعہ وے بیک مشین excerpt: "پاراب . (اِ مرکب ) زراعتی که به آب چشمه وکاریز ورودخانه ومانند آن کنند مَسقوی . آبی . مقابل دیم" (translation: "Lands irrigated by diversion of river water, springs and قناةs.")
- ↑ "C. E. Bosworth, "OTRĀR" in Encyclopedia Iranica"۔ Iranicaonline.org۔ 2002-07-20۔ 20 سبتمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-19
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ محسن مهدي، تحقيق اراء اهل المدينة الفاضلة، بيروت 1977 ص 43
- ↑ "al-Farabi – Muslim philosopher"۔ 28 أبريل 2015 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Lessons with Texts by Alfarabi۔ "D. Gutas, "AlFarabi" in Barthaolomew's World accessed Feb 18, 2010"۔ Bartholomew.stanford.edu۔ 2 مايو 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-19
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ David C. Reisman, "Al-Farabi and the philosophical curriculum", in Peter Adamson and Richard C. Taylor, The Cambridge companion to Arabic philosophy, Cambridge University Press, 2005, p. 53.
- ↑ F. Abiola Irele/Biodun Jeyifo, "Farabi", in The Oxford Encyclopedia of African Thought, Vol. 1, p. 379.
- ↑ Ebn Abi Osaybea, Oyun al-anba fi tabaqat at-atebba, ed. A. Müller, Cairo, 1299/1882. وكان ابوه قائد جيش وهو فارسي المنتسب
- ↑ Seyyed Hossein Nasr, Mehdi Amin Razavi. "An Anthology of Philosophy in Persia, Vol. 1: From Zoroaster to Umar Khayyam", I.B. Tauris in association with The Institute of Ismaili Studies, 2007. Pg 134: "Ibn Nadim in his al-Fihrist, which is the first work to mention Farabi considers him to be of Persian origin, as does Muhammad Shahrazuri in his Tarikh al-hukama and Ibn Abi Usaybi'ah in his Tabaqat al-atibba. In contrast, ابن خلكان in his '"Wafayat al-'ayan considers him to be of Turkish descent. In any case, he was born in Farab in Khurasan of that day around 257/870 in a climate of Persianate culture"
- ↑ Arabic: وكان من سلاله فارس in J. Mashkur, Farab and Farabi, Tehran,1972. See also قاموس دهخدا under the entry Farabi for the same exact Arabic quote.
- ↑ Majid Fakhry, Al-Farabi, Founder of Islamic Neoplatonism: His Life, Works and Influence, Great Islamic Thinkers (Oxford: Oneworld Publications, 2002), 157. سانچہ:ردمك.
- ↑
- George Fadlo Hourani, Essays on Islamic Philosophy and Science, Suny press, 1975.
- Kiki Kennedy-Day, Books of Definition in Islamic Philosophy: The Limits of Words, Routledge, 2002, page 32.
- ↑ Joshua Parens (2006). An Islamic philosophy of virtuous religions : introducing Alfarabi. Albany, NY: State Univ. of New York Press. pp. 3. سانچہ:ردمك excerpt: "He was a native speaker of Turkic سانچہ:كذا dialect, Soghdian." [Note: Sogdian was an East Iranian language and not a Turkic dialect]
- ↑ Joep Lameer, "Al-Fārābī and Aristotelian syllogistics: Greek theory and Islamic practice", E.J. Brill, 1994. سانچہ:ردمك pg 22: "..Islamic world of that time, an area whose inhabitants must have spoken Soghdian or maybe a Turkish dialect..."
- ↑ * P.J. King, "One Hundred Philosophers: the life and work of the world's greatest thinkers", chapter al-Fārābi, Zebra, 2006. pp 50: "Of Persian stock, al-Farabi (Alfarabius, AbuNaser) was born in Turkestan"
- Henry Thomas, Understanding the Great Philosophers, Doubleday, Published 1962
- T. J. De Boer, "The History of Philosophy in Islam", Forgotten Books, 2008. Excerpt page 98: "His father is said to have been a Persian General". سانچہ:ردمك
- Sterling M. McMurrin, Religion, Reason, and Truth: Historical Essays in the Philosophy of Religion, University of Utah Press, 1982, سانچہ:ردمك. page 40.
- edited by Robert C. Solomon and Kathleen M. Higgins. (2003). From Africa to Zen : an invitation to world philosophy. Lanham, Md.: Rowman & Littlefield Publishers. pp. 163. سانچہ:ردمك "al-Farabi (870–950), a Persian,"
- Thomas F. Glick. (1995). From Muslim fortress to Christian castle : social and cultural change in medieval Spain. Manchester: Manchester University Press. pp. 170. سانچہ:ردمك "It was thus that al-Farabi (c. 870–950), a Persian philosopher"
- The World's Greatest Seers and Philosophers.. Gardners Books. 2005. pp. 41. سانچہ:ردمك "al-Farabi (also known as Abu al-Nasr al-Farabi) was born of Turkish parents in the small village of Wasij near Farab, Turkistan (now in Uzbekistan) in 870 AD. His parents were of Persian descent, but their ancestors had migrated to Turkistan."
- Bryan Bunch with Alexander Hellemans. (2004). The history of science and technology : a browser's guide to the great discoveries, inventions, and the people who made them, from the dawn of time to today. Boston: Houghton Mifflin. pp. 108. سانچہ:ردمك "Persian scholar al-Farabi"
- Olivier Roy, "The new Central Asia: the creation of nations", I.B.Tauris, 2000. 1860642799. pg 167: "Kazakhstan also annexes for the purpose of bank notes Al Farabi (870–950), the Muslim philosopher who was born in the south of present-day Kazakhstan but who presumably spoke Persian, particularly because in that era there were no Kazakhs in the region"
- Majid Khadduri; [foreword by R. K. Ramazani]. The Islamic conception of justice. Baltimore : Johns Hopkins University Press, c1984.. pp. 84. سانچہ:ردمك "Nasr al-Farabi was born in Farab (a small town in Transoxiana) in 259/870 to a family of mixed parentage — the father, who married a Turkish woman, is said to have been of Persian and Turkish descent — but both professed the Shi'l heterodox faith. He spoke Persian and Turkish fluently and learned the Arabic language before he went to Baghdad.
- Ḥannā Fākhūrī, Tārīkh al-fikr al-falsafī ʻinda al-ʻArab, al-Duqqī, al-Jīzah : al-Sharikah al-Miṣrīyah al-ʻĀlamīyah lil-Nashr, Lūnjmān, 2002.
- ’Ammar al-Talbi, al-Farabi آرکائیو شدہ 2013-09-16 بذریعہ وے بیک مشین, UNESCO: International Bureau of Education, vol. XXIII, no. 1/2, Paris, 1993, p. 353-372
- David Deming,"Science and Technology in World History: The Ancient World and Classical Civilization", McFarland, 2010. pg 94: "Al-Farabi, known in Medieval Europe as Abunaser, was a Persian philosopher who sought to harmonize.."
- Philosophers: Abu Al-Nasr Al-Farabi آرکائیو شدہ 2016-03-07 بذریعہ وے بیک مشین,, Trinity College, 1995–2000
- ↑ B.G. Gafurov, Central Asia:Pre-Historic to Pre-Modern Times, (Shipra Publications, 2005), 124; "Abu Nasr Farabi hailed from around ancient Farabi which was situated on the bank of Syr Daria and was the son of a Turk military commander".
- ↑ Will Durant, The Age of Faith, (Simon and Schuster, 1950), 253.
- ↑ Nicholas Rescher, Al-Farabi's Short Commentary on Aristotle's Prior Analytics, University of Pittsburgh Pre, 1963, p.11, Online Edition. آرکائیو شدہ 2020-07-25 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ Antony Black, The History of Islamic Political Thought: From the Prophet to the Present, Routledge, p. 61, Online Edition آرکائیو شدہ 2020-07-25 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ James Hastings, Encyclopedia of Religion and Ethics, Kessinger Publishing, Vol. 10, p.757, Online Edition آرکائیو شدہ 2016-04-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ * edited by Ted Honderich. (1995). The Oxford companion to philosophy. Oxford: Oxford University Press. pp. 269. سانچہ:ردمك "Of Turki origin, al-Farabi studied under Christian thinkers"
- edited and translated by Norman Calder, Jawid Mojaddedi and Andrew Rippin. (2003). Classical Islam : a sourcebook of religious literature. New York: Routledge. pp. 170. سانچہ:ردمك "He was of Turkish origin, was born in Turkestan"
- Ian Richard Netton. (1999). Al-Fārābī and his school. Richmond, Surrey: Curzon. سانچہ:ردمك "He appears to have been born into a military family of Turkish origin in the village of Wasil, Farab, in Turkestan"
- edited by Henrietta Moore. (1996). The future of anthropological knowledge. London: Routledge. سانچہ:ردمك "al-Farabi (873–950), a scholar of Turkish origin."
- Diané Collinson and Robert Wilkinson. (1994). Thirty-Five Oriental Philosophers.. London: Routledge. سانچہ:ردمك "Al-Farabi is thought to be of Turkish origin. His family name suggests that he came from the vicinity of Farab in Transoxiana."
- Fernand Braudel; translated by Richard Mayne. (1995). A history of civilizations. New York, N.Y.: Penguin. سانچہ:ردمك "Al-Farabi, born in 870, was of Turkish origin. He lived in Aleppo and died in 950 in Damascus"
- Jaroslav Krejčí; assisted by Anna Krejčová. (1990). Before the European challenge : the great civilizations of Asia and the Middle East. Albany: State University of New York Press. pp. 140. سانچہ:ردمك "the Transoxanian Turk al-Farabi (d. circa 950)"
- Hamid Naseem. (2001). Muslim philosophy science and mysticism. New Delhi: Sarup & Sons. pp. 78. سانچہ:ردمك "Al-Farabi, the first Turkish philosopher"
- Clifford Sawhney. The World's Greatest Seers and Philosophers, 2005, p. 41
- Zainal Abidin Ahmad. Negara utama (Madinatuʾl fadilah) Teori kenegaraan dari sardjana Islam al Farabi. 1964, p. 19
- Haroon Khan Sherwani. Studies in Muslim Political Thought and Administration. 1945, p. 63
- Ian Richard Netton. Al-Farabi and His School, 1999, p. 5 آرکائیو شدہ 2020-07-25 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ C. Edmund Bosworth (15 May 2017)۔ The Turks in the Early Islamic World۔ Taylor & Francis۔ ص 381۔ ISBN:978-1-351-88087-9۔ 25 يوليو 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Anthony Sadler؛ Alek Skarlatos؛ Spencer Stone؛ Jeffrey E. Stern (2016)۔ The 15:17 to Paris: The True Story of a Terrorist, a Train, and Three American Heroes۔ New York: PublicAffairs۔ ص 18۔ ISBN:978-1-61039-734-6
- ↑ Henry Corbin (23 June 2014)۔ History Of Islamic Philosophy۔ Routledge۔ ISBN:9781135198893۔ 19 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا – بذریعہ Google Books
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Fazi, Fārābī's Political Philosophy and shī'ism, Studia Islamica, No. 14 (1961), pp. 57–72
- ↑ .Nadia Maftouni (2013)۔ "وجوه شیعی فلسفه فارابی" [Shi'ite Aspects of Farabi`s Philosophy]۔ Andishe-Novin-E-Dini (بزبان فارسی)۔ ج 9 شمارہ 33: 12۔ 13 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 October 2018
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ أنظر محسن مهدي، الرسالة المصرية، العدد 765 القاهرة 1977
- ↑ "كلمة الحياة - الفصل الرابع: المسيحيون ومدارسهم العريقة"۔ www.kalimatalhayat.com۔ 28 أبريل 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-19
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ مصطفى الجيوسي۔ موسوعة علما العرب والمسلمين وأعلامهم۔ عمان - الأردن: دار أسامة للنشر والتوزيع۔ ص 284۔ 17 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "الفارابي.. رائد الفلسفـة الإسلامية"۔ صحيفة الخليج (بزبان عربی)۔ 24 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ محمد لطفي جمعة۔ تاريخ فلاسفة الإسلام۔ مصر: مؤسسة هنداوي۔ ص 50۔ 20 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ ابن خلكان (1994)۔ وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان۔ بيروت - لبنان: دار صادر۔ ص 156۔ 20 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ عمار 27 يونيو، 2017 رد (2017-06-11)۔ "دفن قبل الف عام في دمشق. هل يعرف اهل دمشق اين قبره؟"۔ Tserera (بزبان عربی)۔ 25 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-25
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: عددی نام: مصنفین کی فہرست (link) - ↑ محمد الواوي (2019-09-22). "في مقبرة باب الصغير.. نزار قباني يلتقي بالفارابي". شبكة الميادين (بزبان ar-AR). Archived from the original on 25 نوفمبر 2020. Retrieved 2020-11-25.
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(help)اسلوب حوالہ: نامعلوم زبان (link) - ↑ "33 مقبرة في دمشق تحكي سيرة من مرورا...و أدهشوا"۔ سورياsteps.com۔ 24 أكتوبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-25
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Ian Richard Netton (2008)۔ Breaking with Athens: Alfarabi as Founder, Applications of Political Theory By Christopher A. Colmo۔ دار نشر جامعة أكسفورد۔ ج 19۔ ص 397–8۔ DOI:10.1093/jis/etn047۔ ISSN:0955-2340
{{حوالہ کتاب}}:|جریدہ=تُجوهل (معاونت) - ↑ Thomas F., Steven Livesey and Faith Wallis Glick (2014)۔ Medieval Science, Technology, and Medicine: An Encyclopedia۔ New York: Routledge۔ ص 171۔ ISBN:0415969301۔ 6 يوليو 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: متعدد نام: مصنفین کی فہرست (link) - ↑ Avicenna/Ibn Sina (CA. 980–1137)۔ 2007-06-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-13
{{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر|دائرۃ المعارف=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ Arabic and Islamic Natural Philosophy and Natural Science, موسوعة ستانفورد للفلسفة آرکائیو شدہ 2019-08-02 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الفارابي۔ آراء أهل المدينة الفاضلة ومضاداتها (بزبان عربی)۔ 10 مارس 2 020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ History of logic: Arabic logic, موسوعة بريتانيكا. آرکائیو شدہ 2007-10-12 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ Tanyss Ludescher (فروری 1996)۔ "The Islamic roots of the poetic syllogism"۔ College Literature۔ 2005-05-31 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-02-29
- ^ ا ب پ Amber Haque (2004), "Psychology from Islamic Perspective: Contributions of Early Muslim Scholars and Challenges to Contemporary Muslim Psychologists", Journal of Religion and Health 43 (4): 357–377 [363].
- ↑ "علم النفس العربي والإسلامي وفلسفة العقل - موسوعة ستانفورد للفلسفة / ترجمة: فاطمة الشملان"۔ مجلة حكمة (بزبان عربی)۔ 2017-11-28۔ 1 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-22
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Unknown (الأحد، 16 أغسطس 2015)۔ "مرجعنا: النفس والعقل لدى الفارابي - الفارابي"۔ مرجعنا۔ 10 يناير 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-22
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Akram Zahoor (2000)۔ Muslim History: 570-1950 C.E.۔ Gaithersburg, MD: AZP (ZMD Corporation)۔ ISBN:978-0-9702389-0-0سانچہ:نشر ذاتي سطري
- ↑ "الفارابي - مدخل شامل ومترجم من (موسوعة ستانفورد للفلسفة)"۔ مجلة حكمة (بزبان عربی)۔ 2018-08-14۔ 22 سبتمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-16
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ عاطف مصطفى محمد أبوزيد۔ "نظرية العقول العشرة لدى الفارابي ومدى تأثره بفلاسفة اليونان" (PDF)۔ مصر: جامعة الأزهر: 1209۔ 10 يناير 2020 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ رسالہ}}: الاستشهاد بدورية محكمة يطلب|دورية محكمة=(معاونت) وتحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Black, D. Al-Farabi in Leaman, O & Nasr, H (2001). History of Islamic Philosophy. London: Routledge. p178.
- ↑ "إنجازات وإسهامات الفارابي – e3arabi"۔ e3arabi.com۔ 24 نوفمبر 2020 کو في%20الميتافيزياء%20والفلسفة%20العلمية%20والسياسية. اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) و|یوآرایل=پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (معاونت) - ↑ Reisman, D. Al-Farabi and the Philosophical Curriculum In Adamson, P & Taylor, R. (2005). The Cambridge Companion to Arabic Philosophy. Cambridge: Cambridge University Press. p52
- ↑ "تأثير الفلسفة العربية والإسلامية في الفكر اليهودي - موسوعة ستانفورد للفلسفة I مجلة حكمة"۔ مجلة حكمة (بزبان عربی)۔ 2018-10-18۔ 22 سبتمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ أشرف حسن منصور (2015)۔ "أثر الفارابي وابن رشد في صياغة موسى بن ميمون للأصول الثلاثة عشر للديناة اليهودية" (PDF)۔ ألباب شمارہ 6: 11۔ 24 نوفمبر 2020 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Motahhari, Morteza, Becoming familiar with Islamic knowledge, V1, p.166 اگر بخواهيم كلمهای را به كار بريم كه مفيد مفهوم روش فلسفی مشائين باشد بايد كلمه ( استدلالی ) را به كار بريم .
- ↑ "Dictionary of Islamic Philosophical Terms"۔ Muslimphilosophy.com۔ 21 يناير 2019 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-19
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "Aristotelianism in Islamic philosophy"۔ Muslimphilosophy.com۔ 2019-03-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-19
- ↑ سانچہ:SEP
- ↑ Muhsin Mahdi (1962)۔ Alfarabi: Philosophy of Plato and Aristotle۔ Ithaca, NY: Cornell University Press۔ ص 4۔ ISBN:0801487161۔ 17 يونيو 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 August 2015
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Reisman, p55
- ↑ سليمان الظاهر (2014)۔ "نظرية العقل عند الفارابي" (PDF)۔ مجلة جامعة دمشق۔ ج 1+2: 454۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 24 نوفمبر 2020۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ديسمبر 2020
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link) - ↑ Reisman, p57
- ↑ Corbin, H. (1993). History of Islamic Philosophy. London: Keagan Paul International. p161
- ^ ا ب پ ت ٹ Black, p186
- ↑ Corbin, p165
- ↑ "علم الطبيعة في الفلسفة العربية"۔ www.maaber.org۔ 2 ديسمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-12-02
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Reisman, p61
- ↑ "page 461" (PDF)۔ 2007-03-25 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
- ^ ا ب Reisman, p64
- ^ ا ب Reisman, p63
- ↑ Corbin, p158
- ↑ Corbin, p165
- ↑ Black, p184
- ↑ Reisman, p60-61
- ↑ Black (2), D. Psychology: Soul and Intellect in Adamson, P and Taylor, R. (2005). The Cambridge Companion to Arabic Philosophy. Cambridge: Cambridge University Press. p313
- ↑ Black (b), p313
- ↑ Black, p185
- ↑ Corbin, p164
- ↑ Black, p187
- ↑ موقف الفارابي من التصوف، د جمال الدين فالح الكيلاني، مجلة البيان الجزائرية، لسنة 2015
- ↑ Corbin, p162
- ↑ سانچہ:استشهاد بتقرير
- ↑ Black, p190
- ↑ سالم العيادي (2015)۔ كتاب الإصلاح: مدخل إلى الفلسفة السياسية عند المعلم الثاني أبي نصر الفاربي۔ تونس: جامعة طفاقس۔ ص 31۔ ISBN:9789938142662۔ 2 ديسمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Butterworth, p278
- ↑ Black, p191
- ↑ ضرار علي بني ياسين (2015)۔ "فلسفة الفارابي السياسية "دراسة في علاقة الفيض بالعلم المدني"" (PDF)۔ دراسات، العلوم الإنسانية والاجتماعية۔ ج 42: 67۔ 2 ديسمبر 2020 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Corbin, p162-163
- ↑ Butterworth, C. Ethical and Political Philosophy in Adamson, P and Taylor, R. (2005). The Cambridge Companion to Arabic Philosophy. Cambridge: Cambridge University Press. p276
- ↑ Reisman, p68
- ↑ Joshua Parens, An Islamic Philosophy of Virtuous Religions: Introducing Alfarabi (New York: State University of New York Press, 2006), 2.
- ↑ Mykhaylo Yakubovych. Al-Farabi's Book of Religion. Ukrainian translation, introduction and comments / Ukrainian Religious Studies Bulletin, 2008, Vol. 47, P. 237.
- ↑ ابروكلمان كارل (1977)۔ تاريخ الأدب العربي۔ ترجمہ از عبد الحليم النجار (الخامسة ایڈیشن)۔ دار المعارف۔ ص 210-213۔ 5 مايو 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "المغول وحرق مكتبة بغداد"۔ arab-afli.org۔ 16 نوفمبر 2020 کو وجه%20الأرض%20في%20ذلك%20الزمن..&text=لقد%20مرت%20مكتبة%20قرطبة%20بنفس، بغداد%20بعشرين%20سنة%20فقط!!) اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-15
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) و|یوآرایل=پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (معاونت) - ↑ أحمد شمس الدين۔ الفارابي (حياته، أثاره، وفلسفته)۔ لبنان: دار الكتب العلمية۔ ص 59-61۔ 17 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ مصطفى الجيوسي۔ موسوعة علما العرب والمسلمين وأعلامهم۔ الأردن: دار اسامة للنشر والتوزيع۔ ص 286۔ 17 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ نور الدين حمزة بن طورغور. "الهوادى في شرح المسالك". مخطوطات دار الكتب المصرية (بزبان العربية). Archived from the original on 21 نوفمبر 2020. Retrieved 13.11.2020.
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=and|آرکائیو تاریخ=(help)اسلوب حوالہ: نامعلوم زبان (link). - ↑ محمد لطفي جمعة (2012)۔ تاريخ فلاسفة الإسلام: دراسة شاملة عن حياتهم وأعمالهم ونقد تحليلي عن آرائهم الفلسفية۔ مصر: مؤسسة هنداوي۔ ص 38۔ 17 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ محمد لطفي جمعة (2012)۔ تاريخ فلاسفة الإسلام: دراسة شاملة عن حياتهم وأعمالهم ونقد تحليلي عن آرائهم الفلسفية۔ مصر: مؤسسة هنداوي۔ ص 38-39۔ 17 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ آراء أهل المدينة الفاضلة ومضاداتهاة۔ 11 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ الألفاظ المستعملة في المنطق۔ بيروت: دار الشرق۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ الفارابي الموفق والشارح۔ القاهرة: مكتبة وهبة۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي (1986)۔ المنطق عند الفارابي۔ بيروت: دار الشرق
- ↑ الفارابي (1986)۔ المنطق عند الفارابي "الجزء الأول"۔ بيروت: دار الشرق۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي (1986)۔ المنطق عند الفارابي الجزء الثاني۔ بيروت: دار الشرق
- ↑ الفارابي (1986)۔ المنطق عند الفارابي الجزء الثالث۔ بيروت: دار الشرق
- ↑ الفارابي (1938)۔ رسالة في العقل۔ بيروت: المطبعة الكاثوليكية۔ 25 أبريل 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ الجمع بين رأيي الحكيمين۔ بيروت: دار الشرق۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ في سبيل موسوعة فلسفية۔ بيروت: منشورات دار ومكتبة الهلال۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ فصول منتزعة۔ بيروت: دار الشرق۔ 13 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ رسالتان فلسفيتان۔ بغداد: المركز العلمي العراقي۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي (1987)۔ رسالة التنبيه إلى سبيل السعادة۔ عمان: الجامعة الأردنية۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ تحصيل السعادة۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ الملة ونصوص أخرى۔ بيروت: دار الشرق۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ السياسة۔ الإسكندرية: مؤسسة الشباب الجامعية۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ السياسة المدنية۔ 13 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ الحروف۔ بيروت: دار الشرق۔ 16 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي (1991)۔ إحصاء العلوم (PDF)۔ لبنان: مركزالإنتماء القومي۔ 8 أبريل 2022 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ ...
- ↑ الفارابي (1345هـ)۔ رسائل الفاربي۔ حيدر آباد: مطبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية۔ 25 أبريل 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الفارابي۔ رسائل الفارابي۔ مصر: الهيئة المصرية العامة للكتاب۔ 9 يونيو 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)
- ڈاکٹرابو طالب انصاری (ستمبر 2006 ۔ء)۔ "ابونصر فارابی(معلّم ثانی )"۔ اجالے ماضی کے۔ http://www.kitaabghar.com۔ ص 54
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|year=(معاونت)،|pages=و|page=پیرامیٹر ایک سے زائد دفعہ استعمال کیا (معاونت)،میں بیرونی روابط (معاونت)، اس حوالہ میں نامعلوم یا خالی پیرامیٹر موجود ہے:|publisher=|page-indicator=(معاونت)، نامعلوم پیرامیٹر|localtion=رد کیا گیا (معاونت)، نامعلوم پیرامیٹر|pages-indicator=رد کیا گیا (معاونت)، ونامعلوم پیرامیٹر|separator=رد کیا گیا (معاونت)
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی اقتباس میں فارابی سے متعلق اقتباسات موجود ہیں۔ |
| ویکی ذخائر پر فارابی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- اسٹینفورڈ دائرہ المعارف پر خلا (void) کے بارے میں ایک حوالہ
- Muslim's Achievements in Science & Technology (700-1300)آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ metaexistence.org (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- 870ء کی پیدائشیں
- 951ء کی وفیات
- دمشق کی وفیات
- خراسان کی شخصیات
- 872ء کی پیدائشیں
- 950ء کی دہائی کی وفیات
- ارسطو کے عرب شارحین
- اسلامی فلسفی
- اسلامی قرون وسطی کے موسیقی نظریہ ساز
- دسویں صدی کے فلسفی
- قرون وسطی کے مسلم کیمیا گر
- کیمیا گر
- مسلم سائنس دان
- مسلم شخصیات کی فہرستیں
- مسلم فلاسفہ
- مسلم طبیب و حکما
- مسلمان موجدین
- فارسی موسیقی
- مثالیت پسند
- عارف
- سائنسی فلسفی
- مذہب کے فلاسفہ
- تاریخ افکار
- قانون کے فلسفی
- سیاسی فلاسفہ
- نفسیات کے فلسفی
- تاریخ طب
- معاشرتی فلاسفہ
- مسلم الٰہیات دان
- منطق کی تاریخ
- اخلاقیات کے فلسفی
- ماہرین وجودیات
- معاشرتی ناقدین
- تاریخ کے فلسفی
- فلاسفہ عقل
- تاریخ سائنس
- ماہرین علمیات
- تہذیب کے فلاسفہ
- ماہرین مابعد الطبیعیات
- فلاسفہ ادب
- ماہرین اخلاقیات
- ماہرین منطق
- تاریخ فلسفہ
- ثقافتی ناقدین
- 870ء کی دہائی کی پیدائشیں
- دسویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- منطق کے فلسفی


