فارابی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو نصر فارابی
(فارسی میں: ابونصر محمد بن محمد فارابی‎‎خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
ابو نصر فارابی
ابو نصر فارابی

معلومات شخصیت
پیدائشی نام محمد بن ترخان ابو نصر
پیدائش سنہ 872  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فاراب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 17 جنوری 951 (78–79 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دمشق[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش بخارا
قومیت ترکستان
عملی زندگی
پیشہ فلسفی،سائنس دان،موسیقی کا نظریہ ساز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل علم ریاضی ، طب ، فلسفہ ، موسیقی ، منطق ، طبیعیات ، شاعر

ابو نصر فارابی (Pharabius) معلّم ثانی۔ ابونصرفارابی کا پورا نام ’’محمد بن ترخان ابو نصر‘‘ ابن ابی اُصیبیہ نے اس کا نام ’’ابو نصر محمد بن اوزیغ بن طرخان‘‘ لکھا ہے۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

ترکستان کے مقام ’’فاراب‘‘ میں 872ء میں پیدا ہوا۔

فارابی کی ابتدائی زندگی نہایت ہی غربت اور تنگدستی میں گزری، مگر غربت و تنگدستی اس کے علم و جستجو پر غالب نہ ہو سکی۔

ابتدائی دور میں یہ ایک دفعہ رات کے وقت مطالعہ میں مصروف تھا کہ تیل ختم ہونے سے چراغ بجھ گیا ۔اس میں اتنی مالی وسعت نہ تھی کہ تیل خریدتا ۔مگر شوق مطالعہ اسے کھینچ کر باہر لے آیا اور گشت کر تے ہوئے پہرے دار کے سامنے لا کھڑا کیا۔ فارابی نے پہریدار سے سارا ماجرا کہہ سنایا اور اُے وہاں تھوڑی دیر رکنے کی گزارش کی تاکہ وہ اپنا سبق یاد کر لے۔ پہریدار اس دن مان گیا، مگر دوسرے دن اس نے رکنے سے صاف انکارکر دیا۔ مگر فارابی نے گزارش کی کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہے گا تاکہ اس کی لالٹین کی روشنی میں مطالعہ کر سکے۔ کچھ دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا مگر ایک دن پہریدار نے اس کی علمی لگن اور جستجو سے متاثر ہو کر اسے نئی لالٹین لاکر دے دی۔ فارابی کے حصول علم کا یہ بے مثال واقعہ رہتی دنیا تک ایک مشعل راہ ہے۔ انہوں نے تقریباً 50 سال حصولِ علم میں صرف کئے۔[3]

انہوں نے عیسائی طبیب یو حنا بن حیلان سے بھی استفادہ کیا۔ اس کے بعد تحقیق و تدریس کی طرف متوجہ ہو کر سیف الدولہ ہمدانی کے دربار سے وابستہ ہوگیا۔

کارہائے نمایاں[ترمیم]

علم ریاضی، طب، فلسفہ اور موسیقی میں تحقیق و تحاریر۔ منطق (logic) کی علمی گروہ بندی کی۔ ان کو ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے علم طبیعیات میں وجود خلا پر اہم تحقیقات کیں۔ اس کے علاوہ ماہر عمرانیات، سیاسیات و موسیقیات بھی تھے۔ فارابی ارسطو اور افلاطون سے بے حد متاثر تھے۔ انہوں نے ارسطو کی اکثر کتابوں کی شروحات لکھیں، اسی وجہ سے انہيں ’’معلّم ثانی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان شرحو ں میں شرح ’’ایساغوجی‘‘ اور بطلیموس کی ’’المجسطی‘‘ بہت مشہور ہیں۔

فارابی نہ صرف حکیم اور فلسفی تھے بلکہ سائنس، نجوم اور موسیقی کے علوم پر بھی انہيں دسترس تھی۔ ان کی دیگر تصانیف میں الموسیقی الکبیرہ، معافی العقل اور ’’ارا ء اہل المدینۃ الفاضلہ‘‘ اور ’’السیرۃ الفاضلہ‘‘ معروف ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہیں ۔

فارابی شاعر بھی تھے۔ ان کی ایک طویل دعا بھی بہت مشہور و معروف ہے، جسے بعض تذکرہ نگاروں نے نقل کیا ہے۔

وفات[ترمیم]

انہوں نے 950ء میں دمشق میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 31 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11902242t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ڈاکٹرابو طالب انصاری (ستمبر 2006 ؁۔ء)، "ابونصر فارابی (معلّم ثانی )"، اجالے ماضی کے، ادارہ کتاب گھر، ص:54 
  • ڈاکٹرابو طالب انصاری (ستمبر 2006 ؁۔ء)، "ابونصر فارابی(معلّم ثانی )"، اجالے ماضی کے، http://www.kitaabghar.com، ص:54 

بیرونی روابط[ترمیم]