فاروق قیصر (شاعر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فاروق قیصر ( 6 جون 1918ء- 10 نومبر 1987ء) ایک ہندوستانی اردو اور ہندی کے شاعر تھا اور بول (اشعار) لکھنے کے طور پر معروف تھا۔ جس نے کئی بالی وڈ فلموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ 1950ء کی دہائیوں میں بھارتی سینما پر موسیقی کا غلبہ تھا اس نے 115 سے زائد فلموں اور 390 گیتوں کے بول لکھے۔ فاروق قیصر ایک جوہری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ اپنے بارہ بھائی بہنوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس نے اپنی تعلیم بمبئی سے حاصل کی تھی۔ اس کے بھائی بہنوں کے مقابلے وہ ایک متجسس دماغ رکھتا تھا حتیٰ کہ جب وہ بچہ تھا تب بھی اس کی دلچسپی کتابوں کو پڑھنے، اخبارات اور بعد میں وائرلیس میں رہی۔ جب فاروق 18 سال کا تھا تو اس کی ماں مر گئی اور اس نے اپنا خاندانی گھر چھوڑ دیا اور اپبے دوست کے احاطے میں رہائش پزیر ہو گیا۔ یہاں اس نے مزید تعلیم کے لیے اپنا وقت وقف کر دیا۔ شعر، ادب تعلیمی کتابیں، اخبارات، میگزین اور پرنٹ تقریباً وہ سب کچھ جو دستیاب تھا اس میں اس نے اردو زبان کے علاوہ دوسری زبانوں کو سیکھنا بھی شامل تھا۔ فلمی صنعت میں اس کے ساتھیوں کے درمیان میں ، کمال موہن اس کا سب سے اچھا دوست تھا جو چھ بیٹوں اور ایک بیٹی کا باپ تھا۔ کمال موہن نے اپنی بیٹی عائشہ کا ہاتھ اپنے عزیز اور باعتماد دوست فاروق قیصر کے ہاتھ میں دے دیا جس نے اسے فوراً ہی قبول کر لیا۔ ان کی شادی سے پہلے معاشقے کے دوران میں اس نے 1958ء کی فلم "اجی بس شکریہ " کے گیت کے بول " ساری ساری رات تیری یاد ستائے" لکھے۔ عائشہ بیماری کے باعث ایک سال کے لیے بمبئی ہاسپٹل میں داخل رہی اور وہاں سے صحت یاب ہو کر آنے پر ان کی شادی ہوئی اور وہ باندرا چلے گئے۔ فاروق کا کیرئیر ترقی کر چکا تھا اور اسے پورے ہندوستان سے کام ملنے لگا۔ اس نے اپنے کئی سفروں کے دوران میں جانفشانی سے اپنی بیوی کے لیے لکھا۔ یہ اس کے ایک سفر کے دوران میں ہی تھا کہ 1963ء کی فلم پارس منی کی شوٹنگ کے دوران میں اس نے گانا لکھا " اوئی ماں یہ کیا ہو گیا"۔ فاروق اور عائشہ کے تین بچے تھے۔ ایک بیٹا شکیل ( 1960ء) اور دو بیٹیاں بلقیس وہیلن (1962ء- 2003ء) اور تبسم (1963ء-1983ء) تھیں۔ وہ انڈین پرفارمنگ رائٹس سوسائٹی کے رکن بھی تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]