فاضل لکھنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید مرتضی حسین نقوی
سید مرتضی حسین نقوی صدرالافاضل

معلومات شخصیت
پیدائشی نام سید مرتضی حسین نقوی
تاریخ پیدائش 1 اگست 1923(1923-08-01)
وفات 23 اگست 1987(1987-80-23) (عمر  64 سال)
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش لکھنؤ،لاہور
دیگر نام فاضل لکھنوی
نسل سید نقوی
مذہب اسلام
اولاد آیت اللہ ڈاکٹر سید حسین مرتضی نقوی، سید جعفر مرتضی نقوی، سیدہ نرجس مرتضی، ڈاکٹر سید باقر مرتضی نقوی، سید عابد مرتضی نقوی، سید کاظم مرتضی نقوی
والدین مولانا سید سردار حسین نقوی ( والد) (father)
عملی زندگی
تعليم صدرالافاضل، اجتہاد
مادر علمی سلطان المدارس، لکھنؤ
پیشہ عالم دین، ادیب، محقق، مورخ، سوانح نگار، ماہر کتابیات
تنظیم کتابخانہ مرتضوی
ویب سائٹ
ویب سائٹ http://ml.com.pk/

پیدائش[ترمیم]

مولانا سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی ؒ بروز بدھ ، 18 ذی الحجہ 1341 ھ یکم اگست 1923ء کو ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

آپ کے والد کا نام مولانا سید سردار حسین نقوی المعروف بہ سید قاسم آغا (م: 1947 ء مطابق 1366ھ )تھا۔ مولانا مرحوم کے جدِ بزرگوار مولانا سید اعجاز حسین صاحب ؒ فاضل، عالم اور عابد شخص تھے ان کے والد جناب میر عبد اللہ صاحب تحّیر بارودخانہ گنج میں صاحب مکانات تھے جنگِ آزادی (1857ء مطابق 74۔1273ہجری) میں زوال آیا اور سب کچھ لٹ گیا۔ آپ کے والد فارسی کے فاضل اور نواب منش بزرگ تھے۔ ان کی تمنا تھی کہ اجداد کی طرح مولانا مرحوم کو بھی علم دین کی تعلیم دیں۔[1] انھوں نے اگست 1947 ء میں سادات بارہہ کے مشہور علمی خاندان کے فقیہ و محدث علامہ سید زاہد حسین بارھوی ؒ (6 ذی قعدہ 1311 ھ بمطابق 22 مئی 1893 ۔ یکم جمادی الاولیٰ 1394 ھ بمطابق 24 مئی 1974 ء) کی بڑی صاحبزادی صاحب نفوس قدسیہ سیدہ عابد خاتون ؒ سے شادی کی۔[2]

علمی مراتب[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ عابدیہ کٹرہ ابو تراب خان، لکھنؤ میں حاصل کی۔ 5 جون 1933ء مطابق صفر المظفر 1352ھ کو سلطان المدارس لکھنؤ میں داخلہ لیا۔ چودہ سال تک علوم آل محمد ؑ حاصل کرکے اسی مدرسے سے صدرالافاضل، اور اسی کے ساتھ سلطان المدارس کے ہم پلہ مدرسے، مدرسۂ ناظمیہ سے ممتاز الافاضل کی سند حاصل کی۔ یہ دونوں اسناد اس عہد میں حوزۂ علمیۂ لکھنؤ کی اعلیٰ ترین اسناد تھیں جو حوزۂ علمیہ نجف میں اجازۂ اجتہاد کے ہم پلہ شمار ہوتی تھیں۔ یوں مولانا مرحوم اپنے دروس اور تحقیقی کاموں کے نتیجہ میں کم سنی میں کلام، فلسفہ، منطق، ادب، فقہ، حدیث اور تفسیر کے میدانوں میں اجتہاد کی منزلوں تک پہنچے۔ فاضل لکھنوی ؒ نے چودہ پندرہ سال کی عمر میں ادب اور مذہب کے میدانوں میں برابر سے لکھنا شروع کیا ۔ ان کی تحریروں کو شروع ہی سے علماء، ناقدین، ادباء، شعراء، محققین اور اساتذہ کی طرف سے تحسین و آفرین اور عام قارئین کی طرف سے مقبولیت کی سند ملی۔ تقریبا پندرہ سولہ برس کی عمر میں انھوں نے فقہ کی اہم کتاب "ریاض المسائل" پر اجتہادی حاشیہ اور اصول فقہ کی مستند کتاب "معالم الاصول" کا ترجمہ اور مفصل شرح لکھی۔ ان دونوں کتابوں نے فقہی دنیا میں ان کی علمی لیاقت کا سکہ بٹھادیا ان دونوں کتابوں کو ان کے اساتذہ نے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ فقہ و اصول کے میدانوں میں ان کے اجتہاد کی قوت کو سراہا اور ان کو "صدر الا فاضل" کے لقب سے نوازا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ مولوی مرتضی حسین سے "آیت اللہ صدر الافاضل" بن کر علمی میدانوں میں عظمت کا مینار بن گئے۔ اس کے باوجود انھوں نے عجز و انکسار کے سبب خود کو فاضل لکھنوی اور مولوی مرتضیٰ حسین ہی کہلوانا پسند کیا۔ وہ بہ یک وقت ادیب نقاد، مورخ، مفسر، محدث، فقیہ، اصولی، متکلم، محقق اور مفکر تھے۔ وہ علمی اور تحقیقی کاموں کے ساتھ سیاسی، رفاہی اور اجتماعی معاملات میں بھی سرگرم عمل رہتے تھے۔ مختلف ملکوں کے صف اول کے علماء ان کو عزت کی نگا ہ سے دیکھتے تھے۔اس علمی عظمت و شہرت کے ساتھ فاضل لکھنوی ؒ علم و عمل کا پیکر تھے۔ وہ اخلاق مصطفیٰؒ کا نمو نہ کامل تھے، لکھنؤ کی تہذیب کے علمبردار تھے۔ سادہ لباس پہنتے تھے، سادہ غذا کھاتے تھے۔ لوگوں کے ساتھ بڑی سادگی سے ملتے تھے۔ ان میں عجزو انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔[3]

کتابخانہ مرتضوی[ترمیم]

ان کا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ ایک ہی کمرہ میں ان کا کتابخانہ تھا۔ اسی کمرہ میں فاضل لکھنوی ؒ اپنی کتابوں میں گھرے بیٹھے رہتے تھے۔ وہی کمرہ ملاقات کا کمرہ تھا۔ فاضلؔ لکھنوی کتابوں کے ڈھیر کے درمیان بیٹھے ہوتے۔ ملاقاتی ارد گرد بیٹھے اپنے مسائل بیان کرتے۔ مولانا مطالعہ بھی کرتے رہتے تھے، اسی درمیان لوگوں کو بھی غور سے سنتے تھے، ان کے جوابات بھی دیتے تھے، ان کی ضرورتوں کو بھی پورا کرتے تھے، خاطر مدارات بھی کرتے رہتے تھے۔ اسی کمرہ میں شام کو تین چار گھنٹے شاگرد پڑھنے آتے تھے۔ عربی ادب میں ما قبل اسلام کا ادب، عہد قرآنی کا ادب اور جدید عربی ادب، فارسی ادب میں حافظ و سعدی، خاقانی اور خیام، اردو ادب میں میر امن، انیس، دبیر، غالب، تفسیر قرآ ن، حدیث نبویؐ، فقہ و اصول، کلام و فلسفہ، ہیئت و نجوم، تاریخ و سیاست سبھی موضوعات پر مختلف سطح کے شاگرد درس لینے آتے تھے، خاص طور سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کے طالب علم مولانا سے تحقیقی امور پر ہدایات لیتے تھے، مولانا ہر سطح کے شاگردوں کو اس طرح پڑھاتے اور راہنمائی فرماتے تھے کہ سبھی مطمئن ہوکر جاتے تھے۔[4] آپ کے انتقال کے بعد، آپ کے بڑے بیٹے اور علمی وارث، علامہ آیت اللہ سید حسین مرتضی نقوی صاحب نے، مرحوم کی وصیت کے مطابق ان کے کتابخانہ کو ایک عمومی، تحقیقاتی کتابخانہ کی صورت میں قائم رکھا۔ جس سے آج بھی کراچی میں اہل علم و مطالعہ استفادہ کرتے ہیں۔ اس کتابخانہ میں اس وقت تقریبا 50 ہزار کتابیں موجودہیں، جس میں نہایت اہم اور نادر کتابیں اور قلمی نسخے شامل ہیں۔[5]

اساتذہ[ترمیم]

آپ کے بعض اہم اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں:

  • آیت اللہ سید ابرار حسین پارویؒ 1330۔ 1375ھ
  • آیت اللہ سید ابن حسن لکھنوی  شمس العلما ء بن میر حسن رضا جائسیؒ 1291۔ 1368ھ
  • آیت اللہ سید ابن نونہروی، نادرۃ الزمن  بن سیدمحمد جواد نونہرویؒ 1318۔ 1400ھ
  • آیت اللہ سید احمد، علامہ ہندی  بن سید ابراہیم 1295۔1366ھ
  • آیت اللہ سید احمد بن سید محمد ہادیؒ 1316۔1392ھ
  • آیت اللہ مرزا سید احمد حسین صدرالافاضل بن سید کاظم حسین، مقدس منطقی ؒ 1310۔1385ھ
  • آیت اللہ مفتی سید احمد علی بن مفتی سید محمد عباسؒ 1303۔1388ھ
  • آیت اللہ ڈاکٹر جعفر حسین فدوی ؒ 1310۔ 1384ھ
  • آیت اللہ سید حامد حسین لکھنوی بن سید حسین لکھنوی ؒ 1287۔1360ھ
  • آیت اللہ سید راحت حسین بن سید طاہر حسین گوپال پوری ؒ 1297۔1394ھ
  • آیت اللہ سید سبط حسن رضوی لکھنوی  بن سید فیض الحسن رضوی لکھنوی ؒ 1296۔ 1354ھ
  • آیت اللہ سید صغیر حسین بن سید ضمیر حسین ؒ 1310۔ 1377ھ
  • آیت اللہ سید ضیاء الحسن بن سید نجم الحسن ؒ 338ا۔1389ھ
  • آیت اللہ سید ظہور حسین لکھنوی ظہور الملت  بن سید زندہ علی بارھویؒ 1282۔ 1357ھ
  • آیت اللہ سید عالم حسین ؒ 1285۔ 1353ھ
  • آیت اللہ سید عبدالحسن بن شاہ منت حسین ؒ 1310۔1381ھ
  • آیت اللہ سید عدیل اختر بن سید مبارک واسطیؒ 1310۔1381ھ بن سید سخاوت حسین ؒ 1297۔1373ھ
  • آیت اللہ سید کلب حسین، عمدۃ العلماء  بن قدوۃ العلماء سید آقا حسینؒ 1311۔1383ھ
  • آیت اللہ سید محمد اُستاد الفقہاء  بن سید محمد باقر رضویؒ 1316۔ 1394ھ
  • آیت اللہ سید محمد عرف میرن صاحب بن سید محمدتقی ؒ 1313۔ 1380ھ
  • آیت اللہ سید محمد حسن بن سید محمد ہادی رضوی ؒ 1325۔1400ھ
  • آیت اللہ سید محمد حسین بن سید محمد ہادی رضویؒ 1328۔1385ھ
  • آیت اللہ سید محمد سعید سعید الملت بن ناصر الملت سید ناصر حسین 1333۔1378ھ
  • آیت اللہ سید محمد صادق بن سید محمد کاظم آل نجم العلماء ؒ ۔۔۔۔۔۔۔
  • آیت اللہ سید محمد عادل رضوی  بن سید سخاوت حسین رضویؒ 1319۔1395ھ
  • آیت اللہ مفتی سید محمد علی بن مفتی سید محمدعباس ؒ 1298۔1361ھ
  • آیت اللہ محمد نصیر نصیر الملت بن ناصرالملت سید ناصرحسین ؒ 1312۔1386ھ
  • آیت اللہ سید محسن نواب بن سید احمد نواب ؒ 1322۔1389ھ
  • آیت اللہ سید ناصر حسین ناصر الملت بن سید حامد حسین ؒ 1284۔1361ھ بن سید اکبر حسین رضویؒ 1279۔1357ھ
  • پروفیسر مسعود الحسن رضویؒ ۔۔۔۔۔۔۔۔

علمی اسناد[ترمیم]

مرحوم نے جو علمی اسناد حاصل کیں، ان کی مختصر فہرست یہ ہے:

  • مولوی (عربی) الہ آباد بورڈ، 1941ء مطابق 1360ھ
  • عالم (عربی) الہ آباد بورڈ، 1942ء مطابق 1361ھ
  • فاضل ادب (عربی) لکھنؤ یونیورسٹی، 1944ء مطابق 1363ھ
  • سند الافاضل (عربی) سلطان المدارس، لکھنؤ 1945ء مطابق 1364ھ
  • عمادالادب (عربی) شیعہ کالج،لکھنؤ، 1946ء مطابق 1365ھ
  • دبیر کامل (عربی) لکھنؤ یونیورسٹی، 1946ء مطابق 1365ھ
  • صدر الافاضل (عربی) سلطان المدارس، لکھنؤ، 1947ء مطابق 1366ھ
  • ممتاز الافاضل (عربی) سلطان المدارس، لکھنؤ، 1947ء مطابق 1366ھ
  • عمادالکلام (عربی ) شیعہ کالج،لکھنؤ، 1948ء مطابق 1368ھ
  • مولوی فاضل (عربی) پنجاب یونیورسٹی، لاہور، 1952ء مطابق 1371ھ
  • منشی فاضل (فارسی) پنجاب یونیورسٹی، لاہور، 1953ء مطابق 1372ھ
  • فاضل اُردو (اُردو) پنجاب یونیورسٹی، لاہور، 1959ء مطابق 1378ھ

نقل روایت کے اجازے[ترمیم]

مولانا مرحوم کی علمی واجتہادی منزلت کے سبب، اکابر علماء ہند و نجف و  قم نے ان کے لیے روایت حدیث کے اجازے تحریرفرمائے:

  • شیخ الحدیث شیخ محمد محسن المعروف بہ آغا بزرگ تہرانی ؒ 1293۔ 1389ھ
  • آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین نجفی مرعشی ؒ 1315۔1411ھ
  • آیت اللہ العظمی عمدۃ العلما ء مولانا سید کلب حسین نقوی ؒ 1311۔1383ھ
  • آیت اللہ العظمی عمدۃ الفقہا سید محمد حسن رضوی لکھنوی ؒ کربلائی ؒ 1325۔ 1400ھ
  • آیت اللہ سیدمحمد جعفر الموسوی المروج ؒ 1328۔ 1400ھ
  • آیت اللہ سیدمحمد رضی بن سیدمحمد ، آل نجم العلماء ؒ 
  • آیت اللہ سیدطیب آغا جزائری ؒ

ہندوستان سے ہجر ت[ترمیم]

24۔ رمضان المبارک 1369ھ مطابق 10۔ جولائی 1950 ء کو پاکستان ہجرت کی اور لاہور کو اپنا مستقر بنایا۔

سفر[ترمیم]

مولانا مرحوم نے اسلام کی تبلیغ اور تحقیقی کاموں کی انجام دہی کے سلسلہ میں دور دراز کے سفر اختیارکئے۔ خصوصی طورپر مرحوم کو دنیا بھر میں موجود اسلامی مخطوطات کے سرمایہ کودیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں کے بھی متعدد سفر کئے، بیرونی ملک بھی گئے۔ ان کے بعض سفروں کی فہرست درج ذیل ہے:

  • 1969ء، 1389ھ: کویت، عراق، شام،  لبنان، ایران
  • 1970ء، 1389ھ۔1390ھ: حج بیت اللہ وکویت
  • 1976ء، 1396ھ: حج بیت اللہ
  • 1979ء، 1399ھ: ایران
  • 1982ء۔1984ء، 1399ھ۔1402ھ: ایران
  • 1984ء۔1985ء، 1404ھ۔1406ھ: ایران
  • 1986ء، 1408ھ۔1407ھ: امریکہ
  • 1987ء، 1407ھ: ہندوستان

قومی خدمات[ترمیم]

مولانا مرحوم درس و تدریس ، تحریر و تبلیغ کے علاوہ خدمات عمومی پر خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ ہروقت محققین شریعت کدہ پر حاضر رہتے اور استفادہ کرتے جنہیں آپ تحقیق و تبلیغ، تصنیف اور تالیف کی تربیت دیتے تھے۔ اس حلقہ درس میں شریک ہونے والوں میں یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ ، علماء و طلبہ شامل تھے۔ آ پ کچھ عرصے کے لیے ایران تشریف لے گئے، تہران، قم، مشہد، اور دیگر تاریخی شہروں میں قیام فرمایا۔ سازمان تبلیغات اسلامی میں اُردو زبان کے تحقیقی سہ ماہی مجلہ "توحید" کی بنیاد ڈالی اور حلقہ درس قائم کیا جس سے تشنگانِ علوم و معارف کو سیراب کرتے رہے۔ مولانامرحوم نے بہت سے تحقیقی مضامین لکھے۔ تفسیر قرآن لکھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عملی نمونہ کے طورپر ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے علمبردار ہے۔ اسی لیے علمائے اہلسنت کے حلقہ میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودوی، مولانا مفتی محمود، علامہ علاء الدین صدیقی، مولانا محمد شفیع اوکاڑی اور مولانا منتخب الحق قادری جیسی ہستیوں سے قریبی روابط تھے۔

سلسلہ تدریس[ترمیم]

آپ دیگر علمی مصروفیات کے باوجود تدریس و تعلیم میں اپنی مثال آ پ تھے۔ پاک و ہند کے حوزات علمیہ اور مدرسوں سے خاص لگاؤتھا۔ اس کی وجہ سے تشنگان علم و معرفت، علم کے اس بحرِ بیکراں سے ہمیشہ سیراب ہوتے رہے۔ آپ نے کچھ عرصے رستوگی پاٹ شالہ اسکول، شیعہ کالج اسکول سیکشن میں تدریس کے فرائض انجام دیے اس کے بعد آپ 10 جولائی 1951ء سے 1983ء تک گورنمنٹ ہائی اسکول باغبان پورہ لاہور میں اُستاد رہے۔ اس دوران علامہ مرحوم اپنے گھر پر عربی، فارسی، ادبیات،علم کلام، منطق، فلسفہ، فقہ واُصول، حدیث وتفسیر اور تاریخ و معارف اسلامی کی تدریس کے فرائض بھی اداکرتے رہے۔ اسی طرح ایک عرصے تک مولانا مرزا یوسف حسین لکھنوی (م ۔ 1988ء مطابق 1408ھ) کے پیہم اصرار پر "مظفرالمدارس مدرسہ الواعظین" لاہور میں تدریس کے سلسلے کو جاری رکھا۔

شاگرد[ترمیم]

مولانا مرحوم کا حلقہ درس کافی وسیع تھا، اس لیے ان کے شاگردوں کی تعداد کا احصاء ناممکن ہے۔ یہاں چند شاگردوں کے ناموں کی فہرست لکھ رہے ہیں۔

  • مولانا سید راحت حسین صدر الافاضل
  • مولانا سید عنایت حسین جلالوی
  • مولانا طالب حسین کرپالوی شہید
  • ڈاکٹر شیخ نوازش علی
  • مولانا سیدمحمدمحسن نقوی اجتہادی
  • ڈاکٹر محمد علی شہید
  • ڈاکٹر سید اقتدار حسین رضوی
  • مولانا سید حسین اصغر جلالوی
  • سید مجتبی حسین شمس آبادی
  • مولانا پروفیسر سیدمنیر عابدی
  • مولانا فخر الحسین محمدی صاحب
  • مولانا حسین محمد صاحب
  • مولانا سید نسیم عباس رضوی صاحب
  • مولانا ولایت حسین حیدری صاحب
  • مولانا سید ہادی حسن نقوی صاحب
  • کرنل سید نواب عالم بارہوی صاحب
  • مولانا شیخ حسین نوری صاحب
  • سید محمد نقی ایڈوکیٹ صاحب
  • سید محمد سبطین ایڈوکیٹ صاحب
  • عنایت حسین ایڈوکیٹ صاحب
  • مولانا رائے ظفر علی صاحب
  • مولانا حسین مہدی حسینی صاحب
  • مولانا سید حیدر مہدی عابدی صاحب
  • مولانا سید شبیہ الحسن رضوی صاحب
  • مولانا قاضی امیرحسین حسینی صاحب
  • مولانا شیخ منظور حسین صاحب
  • مولانا سیدارشاد حسین صاحب
  • مولانا پروفیسر شاہ فخر عالم صاحب
  • مولانا پروفیسر سیدمحمد عطا ء شاہ نقوی صاحب
  • مولاناپروفیسر سیدمنظور محسن رضوی صاحب
  • سید قنبر علی شاہ صاحب
  • مولانا سعید حیدری صاحب
  • مولانا قاضی سیدمحمد عسکری صاحب
  • مولانا سید ولی الحسن صاحب
  • مولانا شیخ مسرورحسین صاحب
  • ڈاکٹر سید اولاد حسنین صاحب
  • ڈاکٹر کاظم علی خان صاحب
  • ڈاکٹر حسین ایف کنانی صاحب
  • ڈاکٹر سید جمیل احمد رضوی صاحب
  • ڈاکٹر سید شبیر سبزواری صاحب
  • ڈاکٹر سید ذوالفقار نقوی صاحب
  • ڈاکٹر سید حسین محمد جعفری صاحب
  • ڈاکٹر اسد اریب رضانقوی صاحب
  • رشیدظفر صاحب
  • سید گل محمد نقوی صاحب
  • سید حمید الحسن رضوی صاحب
  • سیدآل حسنین صاحب
  • مولانا سید حسن سبزواری صاحب
  • ہوش عابدی صاحب
  • سیدآصف علی نقوی صاحب
  • مولانا سید حسین مرتضیٰ نقوی صدر الافاضل صاحب
  • مولانا سیداکبر عباس زیدی صاحب
  • ملک فیض بخش صاحب
  • سیدہ نرجس مرتضیٰ نقوی صاحبہ
  • ثقہ الاسلام سیدہ رباب زیدی صاحبہ
  • ثقہ الاسلام سیدہ طلعت جعفری صاحبہ
  • جناب سید عابد مرتضی نقوی صاحب

ادارات، مؤسسات اورتنظیموں کی تاسیس و تنظیم[ترمیم]

مولانا مرحوم نے پاکستان میں بہت سے تحقیقی، علمی، اور رفاہی اداروں کی تاسیس و تنظیم میں حصہ لیا، ان کی رہنمائی کی اور سرپرستی کے فرائض انجام دیے جن میں سے بعض بشرح ذیل ہیں:

  • انجمن معین الاموات لاہور
  • جامعة المنتظر لاہور
  • مظفر المدارس مدرسة الواعظین لاہور
  • امامیہ قرأت کالج لاہور
  • آئی ایس او پاکستان (امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان)
  • آئی اور پاکستان (امامیہ آرگنائزیشن پاکستان) شیعہ مطالبات کمیٹی
  • تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
  • ادارہ تعلیمات اہلبیت کراچی
  • مفیدیہ سیار لائبریری،راولپنڈی
  • ادارہ ترویج علوم اسلامیہ، کراچی
  • ادارہ درس عمل
  • ادارہ تعلیمات الہیہ، راولپنڈی
  • امامیہ مشن، لاہور
  • دارالثقافة الاسلامیة ،کراچی
  • شیعہ مطالبات کمیٹی

تحقیقی اداروں سے وابستگی[ترمیم]

آپ نے نہ صرف اپنے تاسیس کردہ مؤسسوں اور تنظیموں کی سرپرستی کی، بلکہ دوسرے اداروں سے باہمی روابط استوار کرکے ان سے ہم آہنگی اور وابستگی کا ثبوت بھی فراہم کیا نیز ہر طریقہ سے ان کی دلجوئی فرمائی اور پیش آنے والی مشکلوں کو حل فرمایا۔ جن اداروں سے آپ کی وابستگی رہی اور ان کے اسامی بشرح ذیل ہیں:

  • غالب اکیڈمی
  • ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور
  • مجلس ترقی ادب، لاہور
  • ادارہ دائرة المعارف الاسلامیة ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور
  • مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان، اسلام آباد
  • کتابخانہ آیت اللہ مرعشی، قمِ ایران
  • اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی، لاہور
  • پنجاب یونیورسٹی لائبریری، لاہور
  • پنجاب پبلک لائبریری، لاہور
  • شاہی قلعہ لاہور میوزیم، لاہور
  • عجائب خانہ، لاہور
  • اقبال اکیڈمی، لاہور

تالیفات و تصنیفات[ترمیم]

مولانا مرحوم نے اگرچہ صدہا مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا اور اپنی کاوشوں کو مقالات کی شکل دے کر عوام و خواص کے حوالے کیا۔ لیکن آپ میدان تحقیق خاص طورپر تفسیر، حدیث، رجال اور ادب تھا۔ آپ کو لکھنے پڑھنے کا شروع ہی سے شوق تھا۔ آپ نے مختلف موضوعات پر تین سو سے زائد کتابیں تصنیف، تالیف اور ترجمہ کیں۔ ہزاروں تحقیقی مقالات لکھے اور ادبی شہ پارے منظر عام پر پیش کئے۔

کتابیں[ترمیم]

تفسیر قرآن[ترمیم]

مولانا مرحوم نے لاہور میں مختلف مقامات پر 25 برس تک تفسیر قرآن کے دروس دیے۔ تفسیر قرآن میں مولانا کا مطالعہ بہت وسیع اور نظربہت گہری تھی۔ تفسیر قرآن کے تاریخی ارتقاء وتکامل پر ان کی نظر غائر تھی۔ اسلوب تفسیر ان کی رائے مستند تسلیم کی جاتی تھی۔ اسکے باوجودتفسیر کے میدان میں وہ قلم اُٹھاتے ہوئے احتیاط سے کام لیتے تھے۔ ان کاکہناتھاکہ تفسیر جیسے اہم موضوع پر پڑھے لکھے آدمی کو ساٹھ برس کے سن کے بعد قلم اٹھانا چاہیے۔ یہ وہ وقت ہوتاہے کہ جب انسان کی فکر پختہ اور مطالعہ عروج پر پہنچ چکاہوتاہے۔ تفسیر پرانہوں نے جوکچھ لکھا ان میں سے کچھ کام یہ ہیں۔

  1. انوار الآیات: یہ قرآن کریم کی آیتوں کی مختصر اور مفید تفسیر ہے۔ اس کو مولانا مرحوم نے جوانوں کے روزمرہ مطالعہ کے لیے تحریرفرمایا۔ اس تفسیر کے مخاطب عام طورسے ہائی اسکول اورانٹرکالج کے نوجوان طلبہ و طالبات ہیں۔(مطبوعہ)
  2. دستور اخلاق: سورہ حجرات کی مختصر اور مفید تفسیر۔ اسکول اور کالج کے نوجوانوں کے روزمرہ مطالعہ کے لیے لکھی گئی۔ (مطبوعہ)
  3. تفسیر مرتضوی: تفسیر قرآن پر مولانا مرحوم کا یہ کام اردو زبان میں اپنی نوعیت کا منفرد، سب سے پختہ اور فکرانگیز کام ہے جوانہوں نے اپنے نظریہ کے مطابق اپنی برکت عمر کے ساٹھویں سال کے اختتام پر شروع کیا لیکن ابھی وہ سورہ مائدہ کی تفسیر ہی مکمل کرپائے تھے کہ محبوب حقیقی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے دربار میں حاضر ہوگئے اس وجہ سے ان کی یہ تفسیر مکمل نہ ہوپائی۔ مکمل تفسیر نہ ہونے کے باوجود اپنی انفرادیت ، موضوعات کے احاطہ، معلومات کی وسعت و گہرائی نیز فکری رچاؤ کے لحاظ سے یہ اُردو زبان میں بے مثال تفیسر ہے۔

حدیث[ترمیم]

مولانا مرحوم کے مطالعات میں حدیث کو ایک اہم مقام حاصل تھا۔ قرآن حکیم کے بعد حدیث انکے مطالعہ کا محور، ان کے فکرونظر کی بنیاد پر نیز ان کے عمل کی اُساس تھی اس لیے مرحوم نے حدیث پر اُردو اور عربی دونوں زبانوں میں بہت اہم اور وقع تحریری کام انجام دےئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:

  1. تاریخ تدوین حدیث و تذکرہ محدثین شعیہ: عہد نبوی سے لے کر علامہ مجلسی کے دور تک مختلف ادوار میں حدیث کے تحریری ذخیروں، حدیث مکتوب کے مجموعوں کی حفاظت اور نقل وکتابت و تدوین حدیث کے ارتقائی مراحل کے جائزہ پرایک مضبوط اور تاریخی دستاویز کے طورپر لکھی جانے والی یہ کتاب اس موضوع پر پہلی مطبوعہ دستاویز ہے۔
  2. کتاب المومن: جن کتابوں کو تاریخ میں اصول اربعاۃ کے نام سے پہنچاناجاتاہے۔ کتاب المومن انہی میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب تیسری صدی ہجری کی تحریر ہے۔ یہ ان کتابوں میں سے ایک ہے جواحادیث کے مصادراولیہ میں شمارہوتی ہے۔ یہ کتاب مخطوط طورپردنیا کے بہت سے کتابخانوں میں موجود تھی لیکن محققین اسے منصۂ شہود پر نہیں لائے تھے۔
  3. نہج البلاغہ، ترجمہ و شرح: حدیث کے ذیل میں مولانا مرحوم نے نہج البلاغہ کے ترجمہ اور شرح پر بھی کام کیا۔ ان میں سے ایک کام جو مولانا مرحوم نے مولانا رئیس احمد جعفری اور مولانا سید نائب حسین نقوی مرحومین کے ساتھ مل کر گروہی طورپر انجام دیا وہ مرحوم کی زندگی ہی میں شائع ہوا اور مقبول عام بھی ہوا۔ اب تک اس کے تقریباً چالیس ایڈیشن چھپ کر ختم ہوچکے ہیں۔

اسکے علاوہ مولانا مرحوم نے نجی طورپر نہج البلاغہ کا ترجمہ اور شرح تحریر فرمائی جو مخطوط حالت میں موجودہے۔

  1. نہج من بلاغة الامام الصادق: حدیث کے ذیل میں امام جعفر صادق ؑ کے خطبوں کا ترجمہ اور شرح عربی متن کے ساتھ تحریراور شائع کرنا بھی مولانا مرحوم کاایک وقیع کارنامہ ہے۔
  2. صحیفہ علویہ، ترجمہ وشرح: ہدیہ نیاز کے نام سے مولانامرحوم نے حدیث کے ذیل میں حضرت علی ؑ کی دعاؤں کے مجموعہ صحیفہ علویہ کے متن پر تحقیق، ترجمہ اور شرح کے ساتھ ایک مضبوط مقدمہ تحریرفرما کر شائع کروایا۔ یہ کتاب اس قدر مقبول ہوئی کہ اب تک اس کتاب کے بیسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
  3. صحیفہ کا ملہ، انتخاب، ترجمہ وشرح: صحیفہ کاملہ حدیث کی کتابوں میں امام زین العابدینؑ کی دعاؤں کے مجموعہ دعاؤں کے مجموعہ پرمشتمل مستند ترین کتاب ہے۔ مولانا مرحوم نے اس کتاب مٰن سے 32 دعاؤں کے انتخاب پر مشتمل ایک مجموعہ مرتب فرما کر ترجمہ اور شرح کے ساتھ شائع فرمایا۔
  4. چہل حدیث: حدیثِ نبوی پر عمل نیز، علما٫ اسلام کی سنت کے احیا٫ کے طور پر مولانا مرحوم نے چالیس ایسی حدیثوں کے متن اور ترجمہ پر مشتمل کئی کتابیں تحریر فرمائیں جن میں سے ایک چہل حدیث کے نام سے شائع ہوچکی ہے اور باقی تحریری طور پر مرحوم کے ذخائر میں موجود ہیں۔
  5. کتاب المقتبس (النخبة من احادیث النبی الخاتم و الائمة): اس مجموعے میں مولانا مرحوم نے الکافی کی طرز پر علمِ اصول دین، امامت، اخلاقیات اور فقہی موضوعات پر ان تمام احادیث کو جمع فرمایا ہے جو ان کے فقہی فتاویٰ کی بنیاد تھیں، نیز ان کے نزدیک اصول حدیث کے معیار پر قابل وثوق و اطمینان تھیں۔ یہ کام بھی مخطوط طور پر ان کے ذخیرۂ علمی کی زینت ہے۔
  6. اوصاف حدیث: حدیث کے میدان میں احادیث کی تحقیق اور درجہ بندی کے موضوع یعنی علم درایت پر علامہ بہائی کی مستند ترین کتاب الوجیزہ کو بنیاد بنا کر مولانا مرحوم نے ایک انتہائی اہم اور فنی دستاویز تحریر فرمائی ہے جو دو مرتبہ شائع ہوچکی ہے۔ یہ کتاب فن درایت میں ایک بنیادی متن اور درسی کتاب کی حیثیت کی حامل ہے۔
  7. عزیزہ فی شرح الوجیزہ: علم درایت پر علامہ بہائی کی کتاب الوجیزة پرمولانا مرحوم نے عربی زبان میں بھی ایک مضبوط شرح تحریرفرمائی جس کا نام عزیزہ فی شرح الوجیزہ رکھا۔ یہ کتاب بھی مخطوط صورت میں محفوظ ہے۔

سیرت[ترمیم]

سیرت نبی کریم ﷺ اور اہلبیت اطہار نہ صرف یہ کہ مولانا مرحوم کا اوڑھنا بچھونا اور محورمطالعہ تھا بلکہ یہ ان کی عملی زندگی ، بنیاد اور ان کا اسوہ کامل بھی تھا۔ اس لیے اس موضوع پر مولانا مرحوم نے اُردو دائرہ المعارف میں تحریرکئے جانے والے مقالات کے علاوہ مستقل طورپر بھی تحریری کام انجام دیے۔ اس میں مولانا کے بے شمار علمی و درسی مقالات، تقاریر اور لیکچرز کے علاوہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔

  1. خطیب قرآن: سیرت النبی ﷺ پر مولانامرحوم کی یہ کتاب در اصل قرآنی آیات کی بنیاد پر تحریرکی گئی ہے۔ مولانا مرحوم نے اس کتاب میں قرآن حکیم میں سیرت النبی ﷺ سے متعلق آیات کریمہ کومرتب فرماکر ان کی تفسیر میں تاریخ و ثائق وروایات کی روشنی میں سیرت النبی ﷺ پرایک مفصل اور قابل قدر کارنامہ انجام دیاہے جو محققین کے لیے قابل تقلید ہے۔ یہ کتاب بیک وقت قرآن حکیم کی موضوعی تفسیر بھی ہے سیرت النبی ﷺ بھی۔
  2. رسول ﷺ واہلبیت رسول: چودہ معصومین ؑ کی سیرت پر یہ ایک گروہی کام ہے جو مولانا مرحوم نے اپنے معاصر محقق مولانا سید علی جعفری مرحوم کے ساتھ مل کر انجام دیا۔ اس کتاب کی پہلی دوجلدیں جو سیرت النبی ﷺ سے حضرت امام علی رضاؑ تک کی حیات و زندگی پرمشتمل ہیں۔ مولانا سید علی جعفری مرحوم کی کاوش کا نتیجہ ہیں۔ اس کی تیسری جلد جس میں حضرت امام علی نقی ؑ، حضرت امام محمد تقی ؑ، حضرت امام حسن عسکری اور حضرت امام مہدی کا تذکرہ ہے، مولانا مرحوم کے تحقیقی معاملات کا نتیجہ ہے۔ اس تحقیقی اور فکری خدمت میں مولانا مرحوم ائمہ اہلبیت کے دور کے علمی کارناموں نیز ان کے ان خاص شاگردوں کے تذکرہ اور تعارف پرزیادہ زور دیا ہے جو اس عہد میں علمی، فقہی، تفسیری، کلامی اور دوسرے میدانوں میں اہم کارنامے انجام دیتے رہتے ہیں۔
  3. آخری تاجدار اُمت: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف پر اہلسنت و شعیہ مصادر سے تحقیق پرمشتمل مولانا مرحوم کے ایک اُستاد کی کتاب کا اُردو ترجمہ ہے جو اپنی اہمیت کے سبب کئی بار شائع ہوچکاہے۔

تاریخ وتذکرہ[ترمیم]

تاریخ اور تذکرہ جال پر بھی مولانا مرحوم کے کام تاریخی سندکی حیثیت کے حامل ہیں۔ اشارے کے طورپر ہم یہاں ان کے دوکاموں کاتعارف پیش کر رہے ہیں۔

  1. مطلع انوار: یہ کتاب برصغیر میں پاک و ہند کے شیعہ اکابر علماء اور ان کے علمی وثقافتی خدمات کے تذکرہ پرمشتمل ہے۔ اس کتاب کی جمع آوری کے سلسلے میں مولانا مرحوم نے انتہائی محنت کی اور شب و روز اس سے منسلک رہے۔ آپ کی یہ کتاب مولانا محمد حسین نوگانوی کی تذکرہ بے بہا فی احوال العلماء نامی کتاب کے بعد اُردو زبان میں مذکورہ موضوع پرانتہائی مفید اور اہم کتاب ہے جو سند کے طورپر ہمیشہ باقی رہے گی۔

مولانا مرحوم کی اس کتاب کا فارسی ترجمہ مطلع انوار ہی کے نام سے بنیاد پژوہشہائے اسلامی آستان قدس رضوی (مشہد مقدس) کی طرف سے شائع ہوچکا ہے، نیز مولانا سعید اختر رضوی مرحوم (م۔2002ء) نے بھی اس کتاب سے متعلق استدراک کے طورپر ایک کتاب تحریرکی ہے جس میں اس کتا ب کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر کریم نجفی ایران میں اس کتاب پرمزید تحقیقات کے ساتھ ایک اور استدراک تحریرفرمارہے ہیں۔

  1. ترجمۂ مقدمہ ابن خلدون: فلسفہ تاریخ میں مقدمہ ابن خلدون ایک سنگ میل کی حیثیت کاحامل ہے۔ مولانامرحوم نے اس کی تاریخی اور فلسفی اہمیت کے سبب اس کا ترجمہ بھی فرمایا جومخلوط حالت میں موجودہے۔

ادب[ترمیم]

پاکستان اور ہندوستان کے ادبی اور تحقیقی حلقے مولانا مرحوم کو ادب، لغت اور تاریخ میں آج تک سند مانتے ہیں۔ فارسی، عربی اور اُردو ادب و لغت میں مولانا مرحوم کے علمی اور تدریسی کارناموں کا ذکر مفصل کتاب ہی میں ممکن ہے، اس لیے یہاں ہم اسی بات کے تذکرہ پراکتفاء کرتے ہیں کہ مولانا مرحوم نے لغت اور ادب و تاریخ میں سینکڑوں مقالات اور سوسے زیادہ کتابیں تحریرفرمائیں جن میں سے چند یہ ہیں:

  • اُردوادب: اُردو ادب میں حیدرعلی آتش، ناسخ، ذوق، مولانا محمد حسین آزاد، مرزا دبیر، میر انیس، اور غالب پرمولانا مرحوم کے تحقیقی کام اُردو ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً غالب اور انیس کی صدسالہ برسی کے موقع پر ان کی طرف سے پیش کئے جانے والے تحقیقی مقالات گہرائی و گیرائی کے حامل ہیں۔ یہ اب تک ادبی اور تحقیقی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

ادب میں غالبیات ان کا سب سے پسندیدہ موضوع تھا ۔ غالبیات میں مذہب ، فلسفہ، نثر، نظم ، لغت اور تنقید سبھی کچھ موجود ہے۔ غالباً اس لیے مولانا فاضل لکھنوی نے ادب میں غالبیات کو اپنی محنتوں کا مرکز بنایا۔ انہوں نے غالبیات میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ غالب کے نثری اور شعری متون کی تحقیق وتدوین ، خصوصاً کلیات فارسی نیز خطوط غالب کی تاریخوں کے تعین کے سلسلہ میں فاضل لکھنوی کے کام انفرادی حیثیت کے حامل ہیں۔

  • غالبیات: غالبیات پر مولانا مرحوم کے متعدد تحقیقی مقالات عربی اور اُردو میں چھپے ہوئے موجودہیں۔ اسکے علاوہ مولانا مرحوم نے غالب کے تمام نثری اور شعری متون پر عمیق تحقیقی کام انجام دیاہے جو مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوا جس میں اردوئے معلی، عود ہندی، اور کلیات غالب (فارسی) شامل ہیں۔ گرچہ سوانح غالب کے موضوع پر آپ کی کوئی لکھی ہوئی کتاب نظر سے نہیں گزری۔ مگر عود ہندی پر لکھے گئے تعارف نامہ سے پتاچلتاہے کہ اس موضوع پر مولانا نے ایک کتاب لکھی تھی جیسا کہ آپ کوخود تحریر فرماتے ہیں: "سوانح غالب کے بارے میں اس سے زیادہ لکھنا یہاں مناسب نہ تھا ۔ میں نے اس موضوع پر مضبوط کتاب لکھی ہے جو عنقریب شائع ہوگی۔"
  • اس کے علاوہ اُردو ادب میں مولانا مرحوم نے مراثی ، کلیات آتش، مثنویات حالی اور مکاتب محمد حسین آزاد نیز دوسرے شعری اور ادبی متون پر تحقیقی ، تشریح اور تنقیدی کام بھی انجام دےئے جو اُردو ادب میں سندمانے جاتے ہیں۔
  • فارسی ادب: مولانا نے سالہاسال فارسی ادبیات کی تدریس کی۔ انہوں نے فارسی ادب میں قصائد خاقانی رباعیات خیام، قصائد عرفی اور غزلیات نظیری وغیرہ کے ترجمے کئے، شرحیں تحریرکیں۔ ان کی تحریرکردہ کتابیں گلستان ادب اور بوستان ادب سالہا سال پاکستان کے اسکولوں میں فارسی زبان کی درسی کتابوں میں شامل رہی ہیں۔
  • عربی ادب: عربی ادب میں بھی مولانابڑی مہارت رکھتے تھے۔ وہ عربی ادب کے اُستادتھے۔ برسوں تک وہ عرب کے قدیم ادب ،یعنی ماقبل اسلام صدر اسلام اور عہد اموی وعباس کے ساتھ ساتھ جدید عربی ادب میں بھی پڑھاتے رہے۔ پاکستان کے اسکولوں میں کالج کی سطح تک ان کی کتابیں جناح ادب جناح قواعد اور دروس القواعد مختلف کلاسز کے درسی نصاب میں شامل تھیں۔

تصنیفات کی اجمالی فہرست[ترمیم]

مولانا مرحوم کے تالیفات کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔ شائقین کے استفادہ کے لیے ہم ان کی تحریر و تصنیف وتحقیق وترجمہ کی ہوئی 234 کتابوں کی ایک فہرست پیش کر رہے ہیں ۔ اس فہرست میں مطبوعہ کتابوں کے علاوہ ن کتابوں کابھی ذکر ہے جوقلمی صورت میں محفوظ ہیں یا مفقو د ہوچکی ہیں۔

مطبوعہ کتابیں[ترمیم]

  1. آخری تاجدارامت
  2. آیت اللہ خمینی قم سے قم تک
  3. احوال آتشؔ و تعارف کلیات
  4. احوال الرجال الکتاب المومن (عربی)
  5. احوال ورباعیات خیام (فارسی)
  6. اذکار
  7. اسماء اللہ سبحانہ وتعالی
  8. اُردو ۔۔۔۔۔۔قواعد وانشاء
  9. اُردو ادب میں شیعوں کا تعمیری و تخلیقی حصہ
  10. اردوئے معلیٰ (صدی ایڈیشن) 3 جلدیں
  11. اسرار الصلوۃ
  12. اسلام میں خواتین کے حقوق
  13. اسلامیات لازمی برائے جماعت نہم ددہم
  14. اسلامی معاشرہ
  15. اُصول اسلام اور ہم
  16. اقبال کی کہانیاں
  17. امام حسین ؑ کے تعلیمات
  18. انتخاب آتشؔ
  19. انتخاب ذوقؔ
  20. انتخاب ناسخؔ
  21. انقلاب اسلامی معرکہ مشہد و آیت اللہ شیرازی خطوط و سوانح
  22. انقلاب اسلامی کی تحریک
  23. انوار آیات
  24. انیس اورمرثیہ ۔۔۔۔۔۔ زندگی اور پیام
  25. اوصاف الحدیث
  26. برمحل اشعار
  27. بیان معانی
  28. ہشت مقالہ قزدینی
  29. تاریخ ادب اُردو
  30. تاریخ تدوین حدیث وتذکرہ شیعہ محدثین
  31. تاریخ عزاداری
  32. تذکرہ ریاض الفردوس
  33. تذکرہ مجید
  34. تذکرہ مرثیہ گویاں
  35. تذکرہ مولانا باقر العلوم
  36. ترجمان حقائق۔ ترجمہ نہج البلاغہ من امام صادق
  37. تشیع اور رہبری
  38. تفاسیر قرآن کریم درہند و پاکستان (فارسی)
  39. تفسیر مرتضوی
  40. جدید نسیم اللغات اُردو
  41. جناح الادب (عربی)
  42. (چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے لیے درسی کتابوں کا سلسلہ)
  43. جناح القواعد (عربی)
  44. جواہر دبیرؔ
  45. جہادِ حسینیؑ
  46. چہل حدیث
  47. حجة قاطعہ
  48. حسین ؑ وغم حسین ؑ
  49. حسین بن سعید اہوازیؒ
  50. حضرت ابن عباسؓ کا یادگار خط
  51. حقوقِ اموات
  52. حقوق و فرائض، اولاد اور ماں باپ
  53. الحکومة الاسلامیہ (عربی)
  54. حیات حکیم ؒ
  55. حیات و افکار جمال الدین افغانی
  56. خطیب قرآن
  57. خواتین اور عاشورا
  58. دروس القواعد (عربی)
  59. دستورِ اخلاق
  60. رسول ﷺ و اہلبیت رسول ﷺ ج 3
  61. رہنمائے اساتذہ
  62. زیارت جامعہ عاشورہ
  63. سید چین غالبؔ پر ایک نظر
  64. سردوِ غالبؔ
  65. سفرنامہ حج و زیارت
  66. سفیر سید الشہداء
  67. شرح انتخاب قصائد خاقانی
  68. شرح غزلیات نظیری
  69. شرح قصائد عرفی
  70. صحیفہ کاملہ (انتخاب و ترجمہ)
  71. صلحِ امام حسن ؑ
  72. عود ہندی
  73. فضائل حضرت امیر المومنین ؑ
  74. فضائل علی ؑ
  75. الفضل الجلی فی حیاۃ محمدقلی (عربی)
  76. قرآنی قاعدہ و دینیات
  77. کتاب المومن (عربی ۔ اُردو)
  78. کربلا، تاریخ و تعمیر
  79. کلیاتِ آتشؔ
  80. کلیاتِ غالبؔ (3 جلدیں ) (فارسی)
  81. گلستانِ ادب (ساتویں جماعت کے لیے)
  82. گلدستہ افکار
  83. گلستان حکمت
  84. متعہ اور قرآن
  85. مثنوی ابر گہربار (فارسی)
  86. مثنویات حالیؔ
  87. محرم و آداب عزا
  88. مرثیہ، اریخ سے تجربہ کی طرف
  89. مستند دعائیں
  90. مستند نماز باتصویر
  91. مشاعرہ
  92. مطلع انوار
  93. مفید تشریحات اسلامیات
  94. مکاتیب آزادؔ
  95. منتخب مراثی انیسؔ (صدی ایڈیشن)
  96. نواسہ رسول ﷺ، امام حسین ؑ
  97. نہج البلاغہ، ترجمہ وشرح ومقدمہ
  98. نہج البلاغہ کاادبی مطالعہ
  99. ہدیة النساء
  100. ہدیہ علویہ
  101. ہدیہ نیاز، صحیفہ علویہ (متن و ترجمہ)
  102. ہمارا پیام

قلمی کتابیں[ترمیم]

  1. آتش گل
  2. آزادؔ پر چند مقالات
  3. آنحضرت ﷺ کی پہلی سیاسی فتح
  4. احادیث متفرقہ (عربی)
  5. الاخبار الحسان (عربی)
  6. الاربعین من احادیث سید نا ختم المرسلین (عربی)
  7. الاربعین من احادیث سید المرسلین ﷺ (عربی)
  8. افکار وابکار
  9. اقبال، اہلبیت کی بارگاہ میں
  10. الفاظ العربیة (عربی)
  11. امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ
  12. فی الطبقات والاصابہ (عربی)
  13. انتخاب، ازشجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علمائے مبارک پور
  14. انتخاب بدائع: غزلیات سعدیؔ شیرازی (فارسی)
  15. انتخاب دیوان امیرؔ شاہی سبزواری (فارسی)
  16. انتخاب دیوان فیضیؔ (فارسی)
  17. انتخاب صحیفة الغزال صفیؔ لکھنوی
  18. انتخاب کلیات میرؔ
  19. انتخاب مظہر عشق
  20. انیسؔ کے پانچ قدیم قلمی مرثیے
  21. ایام لعرب (عربی)
  22. باقیات فانیؔ سے انتخاب
  23. بعض العقائد من دیوان المتنبی (عربی)
  24. بیاض مراثی گداؔ، مسکینؔ، آشفقہؔ
  25. پرانی منزلیں، نئی راہیں
  26. تاریخ تاجدارانِ اودھ
  27. تاریخ سازواقعہ
  28. تاریخ عتبات عالیات
  29. تاریخ کھمبایت
  30. تاریخ موجز للغتہ الاردویة (عربی)
  31. تجربہ اُصول الکافی المسمی بالصافی (عربی)
  32. تحقیق مطالب تذکرہ امیر المومین علی ابن ابی طالبؑ
  33. تخریج الاحادیث من التاریخ الکبیر لحمد بن اسمعیٰل البخاری (عربی)
  34. تذکرہ علماء (غیر مرتب)
  35. ترجمہ حسب نامہ خاندان مومن خان ثانی بہادر
  36. ترجمہ و حاشیہ مکاسب
  37. ترجمہ قرآن مجید
  38. ترجمۂ مقدمہ ابن خلدون
  39. تشفیع المسائل فی غوامض ریاض المسائل (عربی)
  40. تفسیر سورہ روم
  41. تفسیر سورہ کوثر
  42. التوضیح (عربی)
  43. توضیح المکتوم (عربی)
  44. حاشیہ علی فرائد الاصول (عربی)
  45. حامی الثقلین، تاریخ میر حامد حسین
  46. حدیث النہضة، بروایت کلینی (عربی)
  47. حکومت اسلامی، کتاب و سنت میں
  48. حل لغات المحتف العربی (عربی)
  49. خلاصہ الاصول (عربی)
  50. خلیقؔ اور ان کے دو قدیم مرثیے
  51. دبیرؔ کے چند قلمی مرثیے
  52. درر منظم ج: 3،4،(عربی)
  53. دعائم الاسلام کا مطالعہ
  54. دیوان شاہی پر ایک نظر
  55. دیوان غالبؔ پر نقد و نظر
  56. رسالة احوال ملااحمد التتوی
  57. سچے دین کی سچی باتیں
  58. (پہلی سے آٹھویں جماعت کے لیے آٹھ کتابوں کا سلسلہ)
  59. سرپرست سید سجاد
  60. سفرِ ایران
  61. سیرت النبیﷺ
  62. (پہلی سے آٹھیوں جماعت تک کے لیے 8 کتابوں کا سلسلہ)
  63. الشذرات
  64. شرح و ترجمہ نہج البلاغہ مکمل
  65. شعلہ و شبنم کا انتخاب
  66. شیعہ، تعارف و تاریخ
  67. عزیزہ فی شرح وجیز ہ (عربی)
  68. علوم شیعہ
  69. علی ابن ابی طالب
  70. عیون الحکم واُصول معاجز الکلم (عربی)
  71. غالبؔ اور ان کے فن
  72. الفصول المختارہ
  73. فہرست کتاب خانہ ابن طاؤس
  74. فہرست کتب خطی
  75. قادیانی، اوران کی حقیقت
  76. قصائد رنات الطرب من اغانی العرب مع حواشی (عربی)
  77. قصیدہ بانت سعاد (عربی)
  78. قصیدہ کا ارتقاء
  79. کتاب الاجازات (عربی)
  80. کتاب الممقتبس۔۔۔۔النخبة من احادیث البنی الخاتم والا ئمة (عربی)
  81. کشکولِ مرتضوی
  82. گلدستہ اشعار
  83. گلستان سخن
  84. مطالعہ دیوان ابی تمام (عربی)
  85. مفسرین و تفاسیر
  86. مقامات الحریری (عربی)
  87. الملتقط (عربی)
  88. منتخب آیات و نغمات
  89. منتخب اشعار
  90. منتہی الامانی (عربی)
  91. المنطق (عربی)
  92. المنظومات من سلم الادب (عربی)
  93. میزان الشعر اعنی سلم العروض
  94. النائرہ فی حل محیط الدائرہ (عربی)
  95. نخبة النظم(عربی)
  96. نقد الشعر۔۔۔ لابی فرج قدامہ من جعفر
  97. نہج البلاغہ: کتاب الحرکہ والحرارۃ

یادداشت[ترمیم]

  1. 365 کتابوں کے مطالعہ کے دوران کی جانے والی یادداشتوں کا مجموعہ مع حوالہ جات و اشاریہ
  2. یادداشتیں

مفقود کتابیں[ترمیم]

  1. ابوطالب
  2. اعیان الشعیہ (جلد اول کا اُردو ترجمہ)
  3. انتخاب دیوان فرزدق (عربی)
  4. ہدایة الہدایہ، ترجمہ و شرح
  5. تاریخ و وقائع امام زمانہ (عج)
  6. تبصرۂ کتب
  7. تلخیص التاریخ الکبیر للبیھاوی (عربی)
  8. تلخص و اضافہ، گنجینہ دانشواران (فارسی)
  9. جوہریان سخن (فارسی)
  10. حاشیہ شرح کبیر (عربی)
  11. حاشیہ شرح المعہ (عربی)
  12. دفتر خطوط غالبؔ
  13. سراج المنیر (فارسی)
  14. سوانح و نقد آتشؔ
  15. شکرستان
  16. علوم اسلام اور علماء
  17. فواخر العصوص و جواہر الفصوص (اُردو ترجمہ) (مولفہ 15۔ اکتوبر 1949)
  18. غالبؔ، روشنی میں
  19. غالبؔ، نقد و سوانح
  20. مجموعۂ بے رنگ
  21. مشاہیر شعرائے عہد بنی عباس
  22. معدن الجواہر ۔۔۔ ملاطرزی
  23. مقالات آزادؔ
  24. مقالات
  25. اُردو دائرہ معارف ا سلامیہ میں مطبوعہ مقالات

ان سب کے علاوہ، مولانا مرحوم کے مقالات کی فہرست طویل ہے، جو مختلف رسالوں اور کتابوں میں شائع ہوئی ہے۔ مزید معلومات کے لیے حوالجات میں موجود کتابوں سے استفادہ کریں۔

اولاد[ترمیم]

پانچ بیٹے ، اورایک بیٹی مولانا مرحوم کے علمی ورثہ کے حامل ہیں:

  • آیت اللہ ڈاکٹر سید حسین مرتضیٰ نقوی صدر الافاضل

یہ مولانا مرحوم کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ یہ مرحوم کے دینی اور ادبی علوم و معارف کے وارث ہیں۔ مرحوم کی زندگی میں بھی یہ ان کے علمی معاون اورانکی علمی وادبی اُمیدوں کا مرکز تھے۔ رحلت کے بعد بھی یہ مرحوم کے خلف صالح ثابت ہوئے ۔ ان کی اہلیہ طلعت سیدہ جعفری صاحبہ نے بھی کچھ عرصہ مرحوم کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ دونوں مل جل کر اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

  • سیدجعفر مرتضی مرحوم

یہ مولانا مرحوم کے دوسرے فرزند ہیں۔ انہوں نے ایم کام اور چارٹرڈ اکاؤنٹس کے بعدملازمت اختیار کرلی۔ لاہور میں مقیم رہے۔ آپ 2007 میں عید الاضحیٰ کے دن اپنے خاندان کو داغ مفارقت دے گئے۔ ان کی اہلیہ جفرافیہ میں ایم ایس سی ہیں۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔

  • سیدہ نرجس مرتضیٰ

یہ مولانا مرحوم کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ جو دوبھائیوں کے بعد ہیں۔ انہوں نے مولانا مرحوم سے فقہ و حدیث و تفسیر کا درس لیا۔ ان کے شوہر سید مصطفی کمال رضوی کراچی میں سرکاری ملازم ہیں۔ بیگم نرجس مرتضی اپنے گھر میں بچوں، بچیوں کو دینی تعلیم دیتی ہیں۔ ان کی اولاد میں ایک فرزند اور دوبیٹیاں ہیں۔ وہ معاشرہ میں اپنے والد کی شمع علمی کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔

  • ڈاکٹر سید باقر مرتضی

یہ مولانا مرحوم کے چوتھے فرزندہیں۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کے بعدکئی برس ایران میں طبعی خدمت انجام دی ۔ اسکے بعد انگلستان اورامریکہ جاکر طب میں علم الادویات میں تخصص حاصل کیا۔ اب امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کا شمار اس وقت امریکہ کے مایہ ناز ڈاکٹروں میں ہوتاہے۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں۔

  • سید عابد مرتضیٰ

یہ مرحوم کے پانچویں فرزند ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد تجارت شروع کی۔ اس کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ یہ اپنے والد مرحوم کے محلہ کی ثقافی سرگرمیوں اور مکان کے وارث بنے۔ وہ مغلپور اور نبی پورہ لاہور میں اپنے والد مرحوم کے قائم کردہ اور دیگرثقافتی اور رضاکارانہ اداروں، مساجد، نیز امام بارگاہوں اور مدارس کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

  • سیدکاظم مرتضیٰ

یہ مولانا مرحوم کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ انہوں نے بی کام کے بعد تجارت کا پیشہ اختیارکیا۔ اب امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں۔

رحلت[ترمیم]

علالت کے باوجود جنوری 1987 ء مطابق 1407ھ کے اوائل میں مولانا سید کلب عابد مرحوم (م: 1986ء مطابق 1407ھ) کے چہلم کے سلسلے میں لکھنؤ تشریف لے گئے، وہاں طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی۔ اسی وجہ سے 29 جنوری 1987ء مطابق 1407ھ کو وطن واپس آ گئے اور مسلسل بیمار رہنے لگے۔ جولائی 1986ء میں آپ زیادہ بیمار ہوئے اور ہسپتال میں داخل تھے۔ راقم الحروف "برصغیر کے امامیہ مصنفیں کی مطبوعہ تصانیف و تراجم" پرکا م کررہاتھا۔ ملک فیض بخش صاحب کے ہمراہ کی عیادت کے لیے ہسپتال گیا۔ وہان مولانا مرحوم کے شاگرد مولانا طالب حسین صاحب کرپالوی شہید(م: 1997 ء) بھی تشریف فرماتھے۔ مولانا مرحوم مجھ سے پوچھنے لگے : آجکل کیاکررہے ہیں؟ میں نے موضوع کاذکر کیا۔ بہت خوش ہوئے۔ احقر کے متعلق حسن ظن رکھتے ہوئے فرمایا: انتہائی مشکل کام ہے مگر آپ جیسا شخص اس کام کو کر سکتاہے ۔ نیز فرمایا: میں آج شام تک ہسپتال سے فارغ ہورہاہوں۔ آپ کل سے میرے کتب خانے میں آئے۔ لیکن میرے یہ کہنے پر بھی حضور آپ چند دن آرام فرمائیں اس کے بعد حاضر ہوجاؤنگا۔ آپ نے فرمایا: نہیں۔ طبعیت ٹھیک ہے۔ لہذا تعمیل حکم کے مطابق میں اگلے دن شریعت کدہ پرحاضر ہوا۔ دیرتک کتابوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہے۔ میں نے کوئی چھ دن اس لائبریری میں کام کیا۔ جس کو آپ نے کتابخانہ مرتضوی سے موسوم فرمایا تھا۔ انتہائی نادرونایاب کتابیں دیکھیں۔ مفتی محمد عباس مرحوم کی سوانح اور تجلیات محمد ہادی عزیز پہلی بار اسی کتب خانے میں دیکھنے کوملیں۔ صورت حال یہ تھی کہ مولانا آرام کی غرض سے اندر تشریف لے جاتے لیکن آدھے گھنٹے کے بعد تشریف لاتے۔ اگر مجھے اس سلسلے میں کوئی مشکل پیش آتی تو اسے حل فرماتے۔ لائبریری میں قیام کے وقت آپ نے میرا ہرممکن خیال رکھا۔ ہر اعتبار سے میری اعانت کی۔ مگر آ پ کی علالت روزبروز بڑھتی رہی۔ آخر کار 27 ذی الحجہ 1407 ھ 23 اگست 1987ء کو میوہسپتال لاہور میں راہی اجل ہوگئے۔ خداوند متعال مرحوم کو غریق رحمت فرمائے۔ مولانا مرحوم کی رحلت کی خبر ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن سے خبریں روک کر نشر کی گئی۔ اس خبر نے پورے ملک کو سوگوارکر دیا۔ صدرپاکستان نے مولانا مرحوم کی رحلت کو قومی سانحہ قراردیتے ہوئے پسماندگان کوتسلیتی پیغام ارسال کیا۔ ایران و عراق ولبنان وہندوستان وغیرہ سے علمی اورسیاسی شخصیتوں کے تعزیتی ٹیلیفون اورپیغام آنا شروع ہوگئے گھر پر سوگواروں کاہجوم ہو گیا۔ مغلپورہ میں لاکھوں سوگوارمرحوم کے مکان پر جمع ہوگئے۔ مولانا مرحوم کے فرزند اکبر مولانا سید حسین مرتضیٰ مدظلہ نے مولانا سید صفدر حسین نجفی کی زیرنگرانی تجہیز وتکفین کا فریضہ انجام دیا۔ جب جنازہ آخری دیدار کے لیے رکھا گیا تو ملک بھر سے آئے ہوئے علماء، اساتذہ، ادباء، شعراء، سیاسی اور سماجی رہنماؤں، کارکنوں اورحکومتی وفودکے ساتھ لاکھوں چاہنے والوں نے آنسوؤں اور سسکیوں کے ساتھ اپنے دور کی عظیم علمی، سماجی اورسیاسی شخصیت کو خداحافظ کہا۔ مجمع کا یہ عالم تھا کہ گھر سے جنازہ گاہ تک آدھ میل کا فاصلہ 2 گھنٹے میں طے کیاگیا۔ اسی دن شام کو مغلپورہ تھانہ کی گراؤنڈ فلور میں نماز جنازہ اداکی گئی۔ مولانا کی محبوبیت کا یہ عالم تھاکہ دومرتبہ نمازجنازہ اداہوئی۔ پہلی نماز جنازہ مولانا مرزا یوسف حسین لکھنوی کی اقتدار میں شیعہ طریقہ پرپڑھی گئی۔ اس میں شیعہ سنی علماء نے شرکت کی۔ اس کے بعد مولانا قاضی ولی الرحمن صاحب کی اقتدار میں سنی طریقہ پر نماز جنازہ انجام پائی۔ اس میں بھی شیعہ سنی علماء نے مل کر نمازہ جنازہ پڑھی۔ نماز جنازہ کے بعد جنازہ شاہ کمال کے قبرستان کی طرف روانہ ہوا۔ جنازہ گاہ سے قبرستان کافاصلہ تقریباً ایک میل تھا جو ہجوم کے سبب تین گھنٹوں میں طے پایا۔ یوں علم وادب کے پیکر، تہذیب و ثقافت کے امین اور ہدایت و فقاہت کے مینار کو لاکھوں عقیدتمندوں نے اپنے ہاتھوں بارگاہ ربوبیت میں نذر کرتے ہوئے سپرد لحد کر دیا۔ تلقین کے فرائض بھی مولانا سید حسین مرتضیٰ مدظلہ نے اداکئے۔ مشایعت، نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کرنے والوں میں شیعہ سنی علماء ادیب، شاعر، محقق، مصنف، صحافی، خبرنگار، سیاسی، قومی اورسماجی رہنما، حکومتی نمائندے شامل تھے۔ یہ سب کے سب تدفین اور فاتحہ خوانی کے بعد آنسو بہاتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ ملک اور بیرون ملک کے اخباروں، ریڈیو، اور ٹی وی نے مولانا کی رحلت وتدفین کی خبر اورمرحوم کی زندگی اور خدمات پر تبصرے نشر کئے۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نقوی، سید حسین عارف، فاضل لکھنوی احوال و آثار، ص16
  2. نقوی، سیدحسین عارف، فاضل لکھنوی احوال و آثار، ص17
  3. نقوی، سیدحسین عارف، فاضل لکھنوی احوال و آثار، ص20
  4. نقوی، سید عارف حسین، فاضل لکھنوی احوال و آثار، ص22
  5. Index of /
  6. نقوی، سیدحسین عارف، فاضل لکھنوی احوال و آثار، ص79