فاطمہ بنت عبد اللہ (نظم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نظم فاطمہ بنت عبد اللہ کا عکس

علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام بانگ درا کی اِس نظم فاطمہ بنتِ عبد اللہ میں فاطمہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور نظم کے عنوان کے ساتھ خود ہی وضاحت کردی ہے کہ فاطمہ عرب لڑکی تھی جو طرابلس کی جنگ 1912 میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہید ہوئی۔

نظم[ترمیم]

علامہ نے اپنی شعری روایات کے عین مطابق، نظم کے پہلے ہی مصرع میں جان ڈال دی ہے اور اپنا خیال انتہائی واشگاف الفاظ میں بیان کر دیا ہے، فرماتے ہیں،

فاطمہ، تو آبروئے امتِ مرحوم ہے

تمام نظم ہی لا جواب ہے، پہلے بند میں فاطمہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

اور دوسرے بند میں علامہ نے اپنی دور بیں اور دور رس نگاہوں سے فاطمہ کی شہادت کے واقعے میں مضمر حقیقت بیان کردی ہے، ایک شعر کچھ یوں ہے۔

ہے کوئی ہنگامہ تیری تربتِ خاموش میں
پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں

پہلے بند کا ایک مصرع اور شعر جو اوپر تحریر کیے گئے ہیں، ان سے ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ اقبال صرف فاطمہ کو خراجِ تحسین ہی پیش نہیں کر رہے، بلکہ ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں، جو "امتِ مرحوم" اور "گلستانِ خزاں منظر" کے الفاظ سے واضح ہے۔ اس نظم اور علامہ کے پیغام کو کماحقہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تاریخ کی تھوڑی سی ورق گردانی کی جائے اور اس واقعہ کے پس منظر کو ذہن میں رکھا جائے۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

فاطمہ[ترمیم]

فاطمہ، ایک 14 سالہ معصوم عرب لڑکی تھی، جو جذبۂ جہاد اور جذبۂ شہادت سے مالا مال تھی اور بالآخر جنگ میں اپنے غازی اور زخمی مجاہد بھائیوں کو اپنے مشکیزے سے پانی پلاتی ہوئی، جامِ شہادت نوش کر گئی۔ شہید زندہ ہوتے ہیں یہ ہر مسلمان کا ایمان ہے، لیکن ہم جیسے مسلمانوں کو اس معصومہ و شہیدہ کا نام و کام قطعاّ معلوم نہ ہوتا اگر علامہ اس کو خراجِ تحسین پیش نہ کرتے اور اب، جب تک علامہ، بانگِ درا اور اردو کا نام رہے گا، اس شہیدہ کا نام ہمارے ذہنوں میں بھی زندہ رہے گا۔

تاریخِ لیبیا[ترمیم]

جنگِ طرابلس، اصل میں اٹلی اور سلطنت عثمانیہ کی جنگ تھی، جس میں ترکی نے تو شکست مان کر طرابلس اور دوسرے صوبے (موجودہ لیبیا) اٹلی کے حوالے کر دیے تھے، لیکن وہاں کے مقامی مجاہدین نے، غیر ملکی قابضین کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ لیبیا کو تاریخ عالم میں ہمیشہ سے ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے، اس کی تاریخ کم و بیش ساڑھے تین، چار ہزار سال پرانی ہے، قدیم یونانیوں نے اسے یہ نام دیا تھا کہ قریب 1300 قبل مسیح میں یہاں ایک قبیلہ موسوم بہ لیبی یا لیبو آباد تھا۔ شمالی افریقہ کے بحیرہ روم کے ساحلوں پر آباد یہ ملک ہمیشہ سے حملہ آوروں اور استعماریوں کی جولاں گاہ بنا رہا ہے، کبھی یہ ملک ایک وحدت کے طور پر موجود رہا اور کبھی دو، تین صوبوں کی خود مختار ریاستوں میں۔ قبلِ اسلام اسے سلطنت روما نے کئی بار پامال کیا، عربوں نے اسے فتح کیا، یہاں اسلام پھیلایا اور یہاں آباد بھی ہوئے، بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ بنا اور صدیوں تک ان کے زیرِِ نگیں رہا۔ تاریخ عالم کا یہ ایک انتہائی تاریک باب ہے کہ فاشسٹ اور استعماری و استبدادی قوتوں نے ہمیشہ سے اپنے ملکوں کے علاوہ دوسرے اور غیر جانبدار و ناچار ملکوں کو اپنا مشقِ ستم بنایا، کبھی مال و دولت کے لیے اور کبھی اپنے مفادات کے لیے اور صد حیف کہ طلوعِ "انسانیت" سے شروع ہونے والا یہ بھیانک کھیل، انسان اور انسانیت کی "ترقی" کے باوجود رکا نہیں۔ اٹلی نے ہورپ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے، ستمبر 1911ء کو ایک دن کے الٹی میٹم پر لیبیا پر حملہ کر دیا تا کہ ترکی کو مزید کمزور کیا جا سکے اور ادھر سے دباؤ ڈال کر ان کو یورپ سے ہمیشہ کے لیے فارغ کر دیا جائے۔ ترکی کی ایک کمزور سی فوج اس وقت لیبیا میں موجود تھی جو شاید بہت جلد ہتھیار ڈال ڈیتی، لیکن وہاں کے عربی اور مقامی بربر قبیلے اٹلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ جنگ اکتوبر 1912ء تک چلی، اکتوبر میں ایک معاہدے کے تحت ترکی نے لیبیا پر اٹلی کا مکلمل تسلط تسلیم کر لیا اور وہاں سے ہمیشہ کے لیے فارغ ہو گئے۔ لیکن مقامی لوگوں نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اٹلی کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ اس کے بعد اٹلی اور ترکی کے درمیان بلقان کی جنگ لڑی گئی اور اور پھر پہلی جنگ عظیم میں مقابلے ہوئے۔ اس جنگِ عظیم میں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اٹلی کو ناکوں چنے چبوا دیے اور تمام صوبہ طرابلس پر قابض ہو کر اپنی خود مختار حکومت قائم کر لی، پہلی جنگِ عظیم میں ترکی کی عبرتناک شکست اور سلطنتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد اٹلی نے مقامی لوگوں کو پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیے یہاں اس تحریک اور اس کے بانی کا تھوڑا سا جائزہ پیش کر دینا مناسب ہے جس نے لیبیا اور ملحقہ ملکوں، مراکش، سوڈان، الجزائر وغیرہ کے مسلمانوں کے دلوں میں اس قدر جذبہ پیدا کر دیا تھا کہ فاطمہ سی معصوم بچی بھی جہاد کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔

سنوسی تحریک[ترمیم]

تاریخ میں یہ تحریک سنوسی تحریک کے نام سے جانی جاتی ہے جو اس کے بانی سید محمد بن علی سنوسی کے نامِ نامی سے منسوب ہے۔ وہاں کے مقامی لوگ آج بھی ان کو السنوسی الکبیر کے نام سے اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں۔ سید محمد بن علی، 1791ء میں الجزائر کے ایک چھوٹے سے قصبے سنوس میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے تیونس، قاہرہ اور مکہ میں تعلیم حاصل کی۔ 1837ء میں آپ نے ایک اصلاحی تحریک شروع کی، جس کا بنیادی مقصد سنتِ نبوی اور شریعت پر عمل کرنا تھا، یہ ایک انتہائی سادہ تحریک تھی اس لیے لوگ جوق در جوق اس میں شامل ہوتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک تمام شمالی افریقہ میں پھیل گئی۔ سید محمد نے اصلاح کی غرض سے مختلف شہروں میں خانقاہیں اور حلقے قائم کیے جو زاویہ کہلاتے تھے، جہاں پر لوگوں اور بچوں کو شریعت اور سنتِ نبوی کے ساتھ ساتھ، زراعت، باغبانی، پارچہ بافی اور معماری کی تعلیم بھی دی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ جذبہ جہاد کی بھی تلقین کی جاتی تھی۔ آپ کا انتقال 1859ء میں ہوا اور آپ کے فرزندگان نے اس تحریک کو جاری رکھا اور جنگ طرابلس اور ما بعد جنگوں میں آپ کی اولاد ہی سپہ سالار تھی۔

اٹلی کے خلاف جہاد[ترمیم]

پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1923ء میں اٹلی کے فاشسٹ حکمران، مسولینی نے لیبیا کے لوگوں کو سبق سکھانے اور اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر فوجی مہم شروع کی۔ اس وقت کی سپر پاور اٹلی کا مقابلہ ان نہتے اور بے یار و مدد گار مجاہدوں نے سالوں تک کیا لیکن 1927ء تک اٹلی نے چن چن کر مجاہدین کو تقریبا ختم کر دیا اور 1931ء میں اس تحریک کے مرکز کفرہ کو فتح کر لیا۔ اور اس تحریک کے راہنماؤں اور مجاہدوں کو اذیت ناک سزائیں دے کر مار ڈالا۔ اس وقت اس تحریک کے رہنما عمر مختار تھے، جنھیں اٹلی نے گرفتار کرنے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی اور لوگوں کو عبرت کا سبق سکھانے کے لیے اس پھانسی کے لیے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جس میں لیبیا کے بیس ہزار سے زائد باشندوں کو گرفتار کرکے زبردستی شامل کیا گیا تا کہ "باغی" کا انجام دیکھیں۔ لیکن جو تحریک عوام کے دلوں میں بسی ہو اور ایمان کی حرارت اس میں جوان لہو شامل کرتی رہے وہ بھلا کب ختم ہوتی ہے دوسری جنگ عظیم میں اس تحریک کو ایک دفعہ پھر ابھرنے کا موقع ملا اور اس دفعہ انہوں نے اتحادی فوجوں کے ساتھ مل کر اٹلی کا مقابلہ کیا اور جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی رو سے 1951ء میں مکمل خود مختار ملک بن گیا۔ لیبیا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ کی حمایت سے آزادی حاصل کی۔

امت کا نوحہ[ترمیم]

علامہ نے اپنی نظم میں جہاں فاطمہ بنتِ عبد اللہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے وہیں، امتِ مرحومہ کا نوحہ بھی بیان کیا ہے کہ اس وقت کے خلیفہ و امیر المومنین نے اپنی اس نہتی رعایا کو ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کر لیا تھا۔ اور دوسرا علامہ کی زمانہ شناس نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہ تحریک دبنے والی نہیں کہ جس قوم کی بچیوں کے جذبۂ شہادت کا یہ عالم تھا اس قوم کے جوانوں اور جہاں دیدہ برزگوں کا کیا عالم ہوگا۔ اور علامہ کی اور بہت سی مبنی بر حقیقت باتوں میں سے یہ بھی ایک پوری ہونے والی بات تھی کہ یہ تحریک اپنے منطقی منزل پر پہنچ کر رہی۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]