فاطمہ بھٹو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فاطمہ بھٹو
Fatima Bhutto 9296410.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 29 مئی 1982ء (عمر 38 سال)
کابل، افغانستان
رہائش کراچی، پاکستان
قومیت Flag of Pakistan.svg پاکستان
مذہب اسلام
والد مرتضیٰ بھٹو  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ذوالفقار علی بھٹو  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رشتے دار بھٹو خاندان
خاندان بھٹو خاندان  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن
کولمبیا یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنفہ، کالم نگار، صحافی
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فاطمہ بھٹو لکھاری، شاعرہ اور کالم نگار ہیں جو پاکستان، امریکہ اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں۔فاطمہ بھٹو 29 مئی 1982ء کو افغان دار الحکومت کابل میں اس وقت پیدا ہوئیں، جب ان کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ اپنی پھوپھو بینظیر بھٹو اور ان کے خاوند آصف علی زرداری کی نقاد رہی ہیں جن پر ان کے والد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ [2] [3] ۔ 2010 میں لکھی جانے والی ان کی غیرافسانوی کتاب خون و شمشیر کے گیت (Songs Of Blood And Sword) ان کے خاندان کے متعلق ہے۔[4] فاطمہ بھٹو دا نیوز، دا گارڈین کے علاوہ دیگر ادارے کے لیے لکھتی رہتی ہیں۔ [5] [6]

خاندانی پس منظر[ترمیم]

فاطمہ بھٹو سابق صدر اور سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی پوتی جبکہ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی بھتیجی ہیں جبکہ ان کی والدہ فوزیہ فصیح الدین بھٹو افغان وزارت خارجہ اہلکار کی بیٹی تھیں۔ سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو 2021 میں پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چیئر پرسن ہیں۔ فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضیٰ بھٹو 1996ء میں اپنی بہن بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قتل ہوئے۔ فاطمہ کی پیدائش کے وقت ان کے والد ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے والدین کے درمیان شادی کے تین سال بعد ہی طلاق ہو گئی۔ طلاق کے بعد فاطمہ بھٹو اپنے والد کے ساتھ کئی ملکوں میں مقیم رہیں۔ 1989 میں فاطمہ کے والد کی ملاقات غنوی بھٹو سے ہوئی جو ایک لبنانی بیلے رقاصہ تھیں اور شام میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ فاطمہ بھٹو غنوی کو اپنی حقیقی والدہ کی طرح سمجھتی ہیں، ان کے سوتیلے بھائی ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سان فرانسسکو میں ایک فنکار ہیں۔ [7] فاطمہ بھٹو ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو (ایرانی کرد) کی پوتی، بینظیر ، آصف علی زرداری اور شاہ نواز بھٹو کی بھتیجی ہیں [8]۔ ان کے والد کو 1996 میں کراچی میں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قتل کر دیا گیا۔ وہ اپنی سوتیلی والدہ غنوی بھٹو کے ساتھ رہتی ہیں۔ [9]

تعلیم[ترمیم]

فاطمہ بھٹو نے ابتدائی تعلیم دمشق(شام) میں حاصل کی۔ 1993ء میں اپنی والدہ غنویٰ بھٹو اور چھوٹے بھائی ذوالفقار بھٹو جونیئر کے ساتھ پاکستان آ گئیں۔ انہوں نے کراچی امریکن اسکول سے او لیول کیا، پھر 2004ء میں کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک سے امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن کیا [10]۔ گریجویشن میں ان کا خاص مضمون مشرق وسطیٰ میں بولی جانے والی زبانیں اور کلچر تھا۔ 2005ء میں انہوں نے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقین اسٹیڈیز (یونیورسٹی آف لندن) سے ”جنوبی ایشیائی حکومت اور سیاسیات“ میں ماسٹرز کیا، جس میں انھوں نے پاکستان میں تحریک مزاحمت پر اپنا مقالہ تحریر کیا۔ [11] [12]

تصانیف[ترمیم]

  1. 1997ء پندرہ برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کا پہلا شعری مجموعہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے شائع ہوا جس کا عنوان صحرا کی سرگرشیاں (Whispers of the Deserts) تھا۔
  2. 2006ء میں دوسری کتاب 8 اکتوبر 2005ء کو آزاد کشمیر اورصوبہ سرحد میں آنے والے زلزلے کے موضوع پر ” 8:50a.m. 8 October 2005“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔
  3. تیسری کتاب خون و شمشیر کے گیت (Songs Of Blood And Sword) شائع ہوئی۔

ذاتی زندگی اور دلچسپیاں[ترمیم]

اپنے مذہبی عقیدے کے بارے میں ، فاطمہ بھٹو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایک ثقافتی مسلمان ہیں اور خود کو سیکولر سمجھتی ہیں البتہ وہ مسلمانوں اور اسلام سے جذباتی لگاؤ رکھتی ہیں۔ [13] [14]

فاطمہ بھٹو نے متعدد مواقع پر اسلام کا دفاع کیا اور مسلم خواتین کے برقع پہننے کے حق کی بھی حمایت کی۔ [15] [16]

فاطمہ بھٹو کو سماجی فلاح و بہبود کے کاموں سے گہری دلچسپی ہے، بالخصوص سندھ کی جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ ہونے والا سلوک، ان کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ وہ نہ صرف اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ لکھتی رہی ہیں، بلکہ باقاعدگی کے ساتھ لاڑکانہ خواتین جیل کا معائنہ بھی کرتی ہیں۔ انہیں کراچی میں کچی آبادیوں میں بسنے والے لوگوں کے مسائل سے بھی گہری دلچسپی ہے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb162765160 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Benazir covered up my father's murder, says Fatima Bhutto– The Hindu
  3. Benazir, the PM, was cruel: Fatima Bhutto– NDTV
  4. Walsh، Declan (2010-04-29). "Bhutto memoir provokes angry reaction in Pakistan". The Guardian (بزبان انگریزی). ISSN 0261-3077. اخذ شدہ بتاریخ 17 جنوری 2017. 
  5. "Fatima launches her innings as Bhutto's struggle for political survival". Pakistan: The Nation. 27 January 2006. 11 مارچ 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2010. 
  6. Goodman، Amy (19 February 2008). "Outspoken Niece of Benazir Bhutto Accuses Aunt's Party of Fraud in Pakistani Elections". Democracy Now!. اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2010. 
  7. Meet Faluda Islam, the Muslim Drag Queen From the Future
  8. Langley, William. (15 February 2009) Fatima Bhutto: A beauty to tame George Clooney – and even Pakistan?. Telegraph.co.uk. Retrieved on 2016-12-31.
  9. Fletcher، Hannah (28 December 2007). "Who's who in the Bhutto dynasty". The Times. London. اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2010. 
  10. Three Barnard alumnae nominated for Baileys Women’s Prize for Fiction Barnard College
  11. "SOAS on brand wagon". www.telegraphindia.com. اخذ شدہ بتاریخ 17 جنوری 2017. 
  12. "Fatima Bhutto receives Masters Degree". Pakistan Press International. 16 December 2005. 02 جنوری 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2010. 
  13. Fatima Bhutto's interview in Italy Youtube
  14. Fatima Bhutto: ‘Everything is political, if you do it right’ Asia Times
  15. Fatima Bhutto: “The Islam that I know gives women a lot of rights” Vogue
  16. Fatima Bhutto: “Everyone connects the burqa to oppression, but this isn’t the full story” Verdict