مندرجات کا رخ کریں

فاطمہ خاتون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
فاطمہ خاتون
معلومات شخصیت

فاطمہ خاتون، سلطان الملک الاشرف قانصوہ غوری کے بیٹے محمد بک کی صاحبزادی اور سلطنتِ عثمانیہ کے بوسنی نژاد صدرِ اعظم لالا مصطفیٰ پاشا کی زوجہ تھیں۔ وہ سولہویں صدی کی ایک باوقار عثمانی خاتون تھیں جنہیں علمی، مذہبی اور عمرانی خدمات کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ [1] فاطمہ خاتون نے اپنی زندگی میں کئی اہم سفر کیے اور سنہ 1566ء میں بیت المقدس کے سفر کے دوران جب وہ فلسطین کے شہر جنین سے گزریں تو وہاں ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی، جو آج تک جامع فاطمہ خاتون کے نام سے معروف ہے۔ اس مسجد کی خدمت و نگہداشت کے لیے انھوں نے متعدد زمینیں وقف کیں اور یوں وہ شہر جنین کی تاریخ میں ایک نمایاں اور محترم مقام حاصل کر گئیں۔[2]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Sarah Irving (2012)۔ Palestine۔ Bradt Travel Guides۔ 2017-03-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  2. فاطمة خاتون آرکائیو شدہ 2014-02-22 بذریعہ وے بیک مشین