مندرجات کا رخ کریں

فتح اللہ شیرازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
فتح اللہ شیرازی
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ طبیب ،  سائنس دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید میر فتح اللہ شیرازی (وفات 1588–89) ایک ممتاز ہند ایرانی صوفی، عالمِ کثیر الجہات اور مخترع تھے جنھوں نے الٰہیات، ادب، منطق، فلسفہ، طب، ریاضی، ہیئت، نجوم اور میکاینکس جیسے مضامین میں مہارت حاصل کی۔ وہ مغل بادشاہ اکبر کے قریبی مشیر اور درباری عہدے دار تھے، جنہیں اپنی علمی و انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر سلطنت مغلیہ میں نمایاں مقام حاصل ہوا۔[1]

ابتدائی زندگی

[ترمیم]

سید میر فتح اللہ شیرازی کا تعلق صفوی ایران کے علمی شہر شیراز سے تھا۔[1] ابتدائی تعلیم انھوں نے آذر کیوان کے مکتب میں حاصل کی جہاں انھوں نے خواجہ جمال الدین محمود (شاگردِ جلال الدین دوانی) سے فلسفہ و منطق کی تعلیم پائی۔ بعد ازاں انھوں نے میر غیاث الدین منصور کے زیرِ تربیت طب، ریاضی اور سائنس میں مہارت حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شیراز میں مدرس مقرر ہوئے اور ان کے شاگردوں میں عبدالرحیم خانِ خاناں جیسی شخصیات شامل تھیں، جو بعد میں اکبر کے مقرب مشیر بنے۔[1]

ہند میں آمد

[ترمیم]

ایران میں صفوی امرا کی خدمت کے بعد شیرازی کو علی عادل شاہ اول نے بیجاپور آنے کی دعوت دی اور ان کے تمام اخراجات بھی برداشت کیے۔[1] وہ کچھ عرصہ بیجاپور میں مقیم رہے اور 1580 تک وہیں تدریسی اور مذہبی خدمات انجام دیتے رہے۔

اکبر کے دربار میں کردار

[ترمیم]

1583 میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے میر فتح اللہ شیرازی کو اپنے دربار میں مدعو کیا۔[1] اکبر نے ان کی علمی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر انھیں "امیر" کا لقب اور 3000 منصب عطا کیا۔[2] 1584 میں وہ ’’امین الملک‘‘ یعنی ریاست کے نگرانِ اعلیٰ مقرر ہوئے۔ ان کا پہلا فریضہ سلطنت کے مالی و حسابی نظام کی ازسرنو جانچ اور اصلاح تھا، جسے انھوں نے نہایت دیانت داری سے انجام دیا۔ علاوہ ازیں انھوں نے سکّہ سازی کے نظام میں اصلاحات کیں اور کرنسی کی حقیقی قدر کو مستحکم کیا۔[1]

1585 اور 1587 میں اکبر نے انھیں دکن میں سفارتی مشنوں پر بھیجا، جہاں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ’’عضد الدولہ‘‘ (بازوئے سلطنت) کا خطاب ملا۔[1] بادشاہ نے انھیں پانچ ہزار روپے، ایک گھوڑا، خلعتِ خاص اور ’’صدرِ اعظمِ ہند‘‘ کا عہدہ بھی عطا کیا۔[1] میر فتح اللہ شیرازی نے اپنی علمی بصیرت، انتظامی تدبیر اور عدل پر مبنی فیصلوں سے اکبر کے عہدِ حکومت کو مضبوط کیا۔ ان کا شمار اُن نادر شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے ایران و ہند کے درمیان علمی و فکری رشتوں کو نئی زندگی بخشی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ شریف حسین قاسمی (1999)، "میر سید فتح اللہ شیرازی"، انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا۔
  2. Dictionary of Indo-Persian Biography، جلد دوم، صفحہ 145۔