فتح محمد جالندھری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فتح محمد جالندھری نے قران پاک کا سب سے سہل اور آسان ترجمہ کیا ہے۔مولانا فتح محمد جالندھری کے دادا افغانستان سے نقل مکانی کر کے پہلے رام پور اور پھر پنجاب میں آباد ہو گئے۔ مولانا کے والد شاہ محمد خان جالندھر میں ملازمت کرتے تھے۔ مولانا 1864 میں ہوشیار پور میں پیدا ہوئے. مولانا کا ترجمہ قرآن پہلے پہل 1900 میں امرتسر سے شائع ہوا مولانا کسی فقہی، کلامی یا فرقی گروہ سے وابستہ نہیں تھے اس لیے ان کا ترجمہ قرآن تمام مسلمانوں میں یکساں مقبول اور متداول ہے۔ اردو میں قرآن کا اولین ترجمہ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی کا سب سے ممتاز ترجمہ سمجھا جاتا تھا۔ مولانا جالندھری لکھتے ہیں کہ”ہم ان تمام صاحبوں کو یقین دلاتے ہیں جو شاہ صاحب کے ترجمہ کے دلدادہ ہیں کہ ہم نے اسے اس درجہ سہل سلیس اور بامحاورہ کر دیا ہے کہ زبان کے لحاظ سے جو جو خوبیاں ترجمے میں ہونی چاہیے وہ سب اس میں موجود ہیں۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ شاہ صاحب کا ترجمہ اگر مصری کی ڈلیاں ہیں تو یہ ترجمہ شربت کے گھونٹ. نہایت آسان، سریع الفہم کہ پڑھتے جائیے اور سمجھتے جائیے“. وقت گزرنے کے ساتھ زبان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اسی سبب سے دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے اس ترجمہ کو مزید آسان، سلیس اور بامحاورہ کر کے ازسر نو طبع کیا چونکہ یہ ترجمہ کتاب اللہ کا ترجمہ ہے، گروہی، فرقی ،مکتبی آلودگیوں یا رجحانات سے پاک اس لیے ریڈیو پاکستان نے اسے اپنے ترجمہ کے طور پر منتخب کیا اور جب صوت القرآن شروع کیا گیا تو اس کے لیے اسی ترجمہ کو منتخب کیا گیا۔