فتح یاب علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاریخ میں ایسی شخصیات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جو اپنے کردار سے تاریخ بناتے ہیں اور وہ تاریخ کا اہم حصہ بن جاتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک شخصیت طلبہ سیاست کی بنیاد رکھنے اور زندہ رکھنے میں اہم کردار اداکرنے والے فتح یاب علی خان ہیں -

ابتدائی ایام[ترمیم]

1936میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے،پاکستان اور بھارت کی علیحدگی کے بعد فتح یاب علی خان کی فیملی حیدرآباد دکن سے پاکستان ہجرت کرکے شکارپور اور کراچی میں رہائش اختیار کی ۔

زمانہ طالب علمی[ترمیم]

بچپن سے ہی لوکل ایجوکیشن سسٹم میں ہونی والی بے قائدگیوں اور ناانصافیوں کے خلاف ثابت قدم رہنے سے ان کی شخصیت ابھر کر آئی ۔ خدا نے انہیں بیشمار صلاحیتوں سے نوازا ، بعد میں انہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور جلد ہی وہ طلبہ کمیونٹی میں رہنما کا کردار ادا کرتے رہے ۔ وہ نائب صدر اسلامیہ کالج اسٹوڈنٹس یونین منتخب ہوئے بعد میں کراچی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین اور چئیرمین انٹر کالجئیٹ باڈی بھی منتخب ہوئے ، وہ اردو اور انگریزی زبان میں بہترین تقاریر بھی کرتے تھے ۔ فتح یاب علی خان طلبہ میں سے ایک طالبعلم رہنما تھے جس نے مخالفت کرکے اس وقت کے فوجی آمر جنرل ایوب خان کو دانتوں سے ناخن چبوائے اور ایسی ہی رہنما حکمرانوں کے لیے سر کا درد بن جاتے ہیں ۔ طلبہ سیاست کے عرصے کے دوران فتح یاب علی خان اور اس جیسے کامریڈ معراج محمد خان اور دیگر قید ہوئے کیونکہ وہ صاف و شفاف سیاست اور جمہوریت کی مثال تھے جو لیفٹ کیمپ سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ اس وقت رائیٹ کیمپ کا وجود ہی نہیں تھا ۔

دور سیاست[ترمیم]

مسٹر خان اور اس کے ساتھی کراچی طالب علموں اور یونیورسٹی میں طلبہ سیاست کو فروغ دینا چاہتے تھے جو تمام طلبہ سیاست کا مرکز تھا ۔ آخر کار ڈاؤ میڈیکل کالج میں پہلی مرتبہ طلبہ سیاست کا آغاز ہوا ، میڈیکل طلبہ جس میں ڈاکٹر ادیب رضوی اور دیگر طلبہ نے طلبہ سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسی طرح طلبہ سیاست کی یہ تحریک دیگر کالجوں اور آخر کار کراچی یونیورسٹی کے دروازے تک پہنچی ۔ دو دہائیوں تک کراچی میں آبادی کی کثرت تعداد آباد ہونے اور اس وقت کئی پارٹیوں میں طلبہ سیاست کو قدر کی نگاہ سے جانا جاتا تھا۔ایوب خان طلبہ سیاست سے خوفزدہ تھے اور ہر ممکن کوشش تھی کہ اس تحریک میں رہنماؤں کو سزائیں دینے کے ذریعے دراڑیں ڈالی جائیں مگر طلبہ سیاست کے رہنما اپنے مقصد کے حصول کے لیے ثابت قدم رہے اور آمر حکومت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے ۔ فتح یاب علی خان 1962میں کراچی یونیورسٹی کے یونین آف اسٹوڈنٹس کے پہلے صدر منتخب ہوئے ۔ انہوں نے ڈگری کورس کو تین سالوں کی بجائے دو سالوں میں کروانے ، یونیورسٹی اورکالجوں کی فیس کم کروانے میں اہم کردار ادا کیا بعد میں وہ وکیل بن گئے ۔ 1964کے انتخابات میں انہوں نے جنرل ایوب خان کی بجائے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی اور اہم کردار ادا کیا ۔ جنرل ضیاء الحق کے خلاف جمہوریت کی ایم آر ڈی تحریک میں وہ مزدور کسان پارٹی کے بھی صدر تھے ۔ فتح یاب علی خان صدر پاکستان مزدور کسان پارٹی نہ صرف عوام میں بلکہ ملکی سطح پر بھی ایک نام رکھتے تھے ، وہ ایک دور اندیش ، وزنری سیاست دان اور جمہوریت کو مستحکم بنانے کے لیے ان خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ اس کے علاوہ بنیادی آزادی ، عوام کو انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی میں اور دکھی مخلوق خداداد کی خدمات خدمات کو ملکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائیگایہی وجہ ہے کہ 19مئی کو ہر سال انکی سالگرہ منائی جاتی ہے ۔  طلبہ تحریک کے دوران جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف فتح یاب علی خان ایک مشہور شخصیت ابھر کر سامنے آئے اور تحریک کے رہنما بن گئے ، انہیں گرفتار کرکے 1961میں ملٹری کورٹ میں لایا گیا ۔ وہ اور ان کے ساتھی سینٹرل جیل بھاولپور سے رہا ہو کر ملک کے تمام حصوں میں تحریک کے کام کو آگے بڑھایا ۔ انہوں نے باہر ممالک سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاسپورٹ کو ٹھکرایا اور قانون کو پروفیشنل کے طور پر اپنایا۔ فتح یاب علی خان ملک میں آمریت کے خلاف تحریک میں پیش پیش رہے اورایم آر ڈی جمہوریت کی تحریک میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور بلا خوف و خطر آمر ضیاء الحق کے خلاف لڑے ۔ 1980میں کراچی اور سکھر جیل میں قید گذارنے کے بعد بھی ہمیشہ پاکستان انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل افئیرس پر توجہ دی جس کے وہ 1972میں ممبر بنے۔  1995میں انسٹی ٹیوٹ کونسل کے چئیرمین منتخب ہوئے جو 2009تک چئیرمین رہے ۔فتح یاب علی خان بنیادی حقوق خاص طور پر خواتین کے حقوق تحریک کے حمایتی تھے ۔انہوں نے ہمیشہ مارشل لا کے خلاف ، اپنی تحریریں اور قانونی چارہ جوئی کی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جس میں لاکھوں لوگوں کے برابری ، انصاف اور ایمانداری کی فضاقائم ہو گی۔ فتح یاب علی خان نہ صرف کراچی یونیورسٹی طلبہ یونین کے پہلے صدر منتخب ہوئے بلکہ انٹر کالجئٹ باڈی کے صدر بھی تھے جنہوں نے تمام طلبہ کمیونٹی کی نمائندگی کی ، اپنے سیاسی ادوار کے دوران انہوں نے کئی قربانیاں دیں قید کیے گئے اور ملٹری کورٹس میں کیسز کا سامنا کیا مگر سیاسی اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا اور بلا خوف و خطر اور کسی بھی قسم کا سیاسی دباؤ برداشت نہیں کیا ۔ انہوں نے کبھی سیاسی پارٹی تبدیل نہیں کی ۔انہوں نے پاکستان ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کی جو پاکستان مزدور کسان پارٹی میں ضم گئی جس وہ مرتے دم تک صدر رہے۔ فتح یاب علی خان لوگوں کے ہیرو تھے جنہوں نے ہمیشہ اداروں کی بہتری ، سیاست کے متعلق لکھا اور ہمیشہ آمر حکومتوں کے خلاف ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرتے تاکہ پاکستان میں جمہوریت قائم ہو سکے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 1973کے قانون کی بالادستی سیاسی پلیٹ فارم اور کورٹ آف لا میں اہم کردار ادا کیا ۔  ذاتی زندگی میں فتح یاب علی خان مذہبی و سماجی شخصیت کے حامل تھے اور اپنے سیاسی نظریہ کے تحت ہمیشہ خود کو نظریاتی کہتے تھے ، طبیعت میں خوش مزاجی اور دہیمی لہجے میں بات کرتے تھے ۔

آخری ایام[ترمیم]

فتح یاب علی خان کو 23ستمبر کودل کا دورہ پڑنے پر ہسپتال میں داخل کروایا گیا جو 26ستمبر 2010 کو خالق حقیقی سے جا ملے ۔  ہمیں اور ہماری آنے والے نوجوان نسل کے سفتح یاب علی خان اور ان کے ساتھیوں کی جمہوریت کی بقا، مثبت سیاست خاص طور پر مزدور کسانوں کے حقوق اور طلبہ سیاست کی جدوجہد کو سمجھنے کی ضرورت ہے کے کتنے مشکل اور کٹھن حالات پر بھی انہوں نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا جو آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں ۔ 

حوالہ جات[ترمیم]

تحریر : فرقان مشتاق قائمخانی (میرپورخاص) فتح یاب علی خان۔تاریخ کا ایک سنہری کردار