مندرجات کا رخ کریں

فتیہ برمکیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
فتیہ برمکیہ
الخليفة العبَّاسي هارُون الرَّشيد جالسًا على عرش الخلافة، وإلى جانبه يجلس القاضي أبُو يوسف، حيث يتبادل الخليفة حديثًا مع وزيره ونديمه جعفر البرمكي وبقربه جاريةٍ حسناء.

معلومات شخصیت
وجہ وفات تشدد   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت دولت عباسیہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر جعفر بن یحییٰ
ہارون الرشید   ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گلوکارہ   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فتیہ برمکیہ (وفات: 187ھ / 803ء کے بعد) ایک مشہور باندی اور مغنیہ تھی۔ وہ وزیر جعفر بن یحییٰ برمکی کی ملکیت میں تھی، جو خلافتِ ہارون الرشید (حکومت: 170–193ھ / 786–809ء) کے دور میں برامکہ کا ممتاز وزیر تھا۔ برامکہ کی بربادی کے بعد فتیہ خلیفہ ہارون الرشید کے قبضے میں آگئی۔ وہ اپنی المناک وفات کی وجہ سے مشہور ہے جو اس کی اپنے آقا برمکی کے ساتھ وفاداری کی مثال پیش کرتی ہے۔ [1]

سوانح حیات

[ترمیم]

فتیہ ابتدا میں ایک باندی تھی جسے وزیر جعفر برمکی نے ایک خطیر رقم، ایک لاکھ دینار میں خریدا تھا۔ جعفر برمکی خلیفہ ہارون الرشید کا خاص ندیم اور مجالسِ شعر و نغمہ کا شریک تھا۔ فتیہ نے گانے میں کمال حاصل کر لیا تھا، یہاں تک کہ خود ہارون الرشید بھی اس کی خواہش کرنے لگا، لیکن جعفر نے اس سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا یا تو اپنی محبت کی وجہ سے یا اپنی ملکیت برقرار رکھنے کے ارادے سے۔ [1]

187ھ / 803ء میں جب برامکہ کی بربادی ہوئی اور جعفر برمکی کو ہارون الرشید کے حکم پر قتل کر دیا گیا، تو فتیہ خلیفہ کے قبضے میں آ گئی۔ لیکن اس نے برمکی کے قتل کے بعد ہمیشہ کے لیے گانا چھوڑ دیا، محض اپنے مقتول آقا کی وفاداری میں۔ خلیفہ کی بارہا کوششوں اور اصرار کے باوجود وہ اس کے سامنے گانے سے انکار کرتی رہی۔

یہ مزاحمت یہاں تک پہنچی کہ ہارون الرشید نے تین دن تک اسے قصر کی دیگر باندیوں کے سامنے سخت مار پیٹ کا حکم دیا تاکہ وہ گانے پر مجبور ہو جائے یا اپنا انکار توڑ دے، لیکن اس ظلم و اذیت کے نتیجے میں فتیہ کی موت واقع ہو گئی۔ اس طرح وہ اپنے آقا جعفر برمکی کے پیچھے چلی گئی اور اس کا یہ انجام اس کی شدید وفاداری کی کھلی دلیل سمجھا گیا۔ [2] [3] [4] [5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب ۔ ص 81 {{حوالہ کتاب}}: "2013" کی عبارت نظر انداز کردی گئی (معاونت"حسن" کی عبارت نظر انداز کردی گئی (معاونت)، وپیرامیٹر |title= غیر موجود یا خالی (معاونت)
  2. الطبري، تاريخ الأمم والملوك، ج 7، ص 112۔
  3. ابن خلكان، وفيات الأعيان، ج 3، ص 215۔
  4. المسعودي، مروج الذهب، ج 4، ص 56۔
  5. اليعقوبي، تاريخ اليعقوبي، ج 2، ص 144۔

اشاعت کی مکمل معلومات

[ترمیم]

کتابیں تاریخِ اشاعت کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہیں