فرات بن حیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فُرات بن حَیّان یَشکُری عِجلی نام فُرات، والد کانام حَیّان بن ثعلبہ ، قبیلۂ ’’عجل‘‘ سے تعلق رکھنے کی بناپر عجلی کہے جاتے ہیں ۔ فرات اسلام لانے سے قبل مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کا کام کیا کرتے تھے ، غزوۂ خندق کے موقع سے ابوسفیان کے جاسوس بن کر مسلمانوں کے خلاف یہ جاسوسی میں پکڑے گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم صادر فرمادیا، یہ ایک انصاری صحابی کے حلیف و معاہدتھے ، انصار کی مجلس کے پاس سے گزرتے وقت انہوں نے کہا: میں مسلمان ہوں !تو انصاری صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرہاہے ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’إن منکم رجالاًنکلہم إلی ایمانہم ، منہم: فرات بن حیان‘‘ تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جنہیں ہم ان کے ایمان کے حوالہ کرکے ان کی جان بخشی کردیتے ہیں ، ان میں سے فرات بن حیان بھی ہے ۔ [1] اسلام قبول کرنے سے پہلے فرات کا جاسوسی کرنے کے علاوہ ایک کام یہ بھی تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلا کہتے تھے اور شعروں میں آپ کی ہجوبیان کرتے تھے ؛ [2] لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد مخلص مسلمان بنے اور اپنی پوری زندگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور مقبول تعریف میں گذاردی، علمِ دین حاصل کیا اور دین میں خوب تفقہ پیداکیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام’’یمامہ‘‘ میں کچھ زمین الاٹ کردی، جس کی قیمت بیالیس سو سے زائد تھی ، ایک مرتبہ ابوہریرہ ، فرات بن حیان اور رجال بن عنفوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہنم میں ان تینوں میں سے ایک کی ڈاڑھ احد پہاڑ سے بڑی ہوگی اور اس کے ساتھ ایک دھوکا بازکی جھوٹی چالبازی ہوگی ۔ فرات کہتے ہیں : کچھ دنوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی بالکل سچ ثابت ہوئی اور ہم لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، جس سے ہم لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی بات پر کامل اور اتم درجہ کا یقین ہو گیا ۔[3] واقعہ یہ ہوا کہ رجال بن عنفوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر گیااور مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کے دین کو قبول کیا اور اہلِ یمامہ سے یہ بھی کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسیلمہ کو اپنے معاملۂ نبوت میں شریک کر لیا ہے اور ساجھے دار بنالیا ہے جس کی بنا پر اس کمبخت نے ایک عظیم فتنہ کو ہوادی اور دینِ اسلام سے پھر گیا اور کفر کی حالت میں مقتول ہوا۔[4]

راہ شناسائی کے ماہر[ترمیم]

صحابۂ کرام کے مابین فرات کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ راستے کے سلسلہ میں تمام لوگوں سے زیادہ واقف اور ماہرتھے ۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الإستیعاب : 3/242
  2. تہذیب التہذیب: 8/370
  3. حلیۃ الأ ولیاء: 2/19
  4. الثقات : /196
  5. حلیۃ الأ ولیاء: 2/19