فرانسوا برنیئر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فرانسوا برنیئر
(فرانسیسی میں: François Bernier خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Voyages dans les États du Grand Mogol کا 1830ء کا نسخہ
Voyages dans les États du Grand Mogol کا 1830ء کا نسخہ

معلومات شخصیت
پیدائش 25 ستمبر 1620[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 ستمبر 1688 (68 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پیرس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of France.svg فرانس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی لائیسی لوئیس لی گرینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،  وطبیب،  ومصنف،  ومہم جو،  وماہر انسانیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان فرانسیسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

فرانسوا برنیئر (25 ستمبر 1620ء – 22 ستمبر 1688ء) ایک فرانسیسی معالج اور سیاح تھا۔ فرانسیسی صوبہ اونژو کے ژوئے ایتیئو میں اس کی پیدائش ہوئی۔ وہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے بڑے فرزند دارا شکوہ (28 اکتوبر 1615ء – 30 اگست 1659ء) نجی معالج تھا۔ دارا شکوہ کی وفات کے بعد وہ اورنگ زیب عالمگیر (14 اکتوبر 1618ء – 20 فروری 1707ء) کے دربار سے وابستہ ہو گیا۔ یوں برنیئر کا قیام ہندوستان کا عرصہ 12 برس پر محیط ہے۔

برنیئر کی سنہ 1684ء میں شائع ہونے والی کتاب "Nouvelle division de la terre par les différentes espèces ou races qui l'habitent" (باشندگان زمین کی انواع یا نسل کے لحاظ سے زمین کی نئی تقسیم) مابعد کلاسیکی دور کی پہلی تصنیف سمجھی جاتی ہے جس میں انسانوں کی مختلف نسلوں کے تحت درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس کا دوسرا تصنیفی کارنامہ "وقائع سیر و سیاحت" (Voyages dans les États du Grand Mogol) ہے جو دارا شکوہ اور عالمگیر کے عہد کے احوال کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سفرنامے میں برنیئر نے اپنے مشاہدات اور احوال تفصیل سے قلم بند کیے ہیں۔ اس کی معلومات کا بنیادی ماخذ اس کے اپنے مشاہدات نیز چشم دید مغل درباریوں کے بیانات ہیں۔ اس طرح اس سفرنامے میں مذکور معلومات انتہائی مستند خیال کیے جاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12199345f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12199345f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ